کینیڈا بارڈر سروسز ایجنسی کے مطابق، مانٹریال کے ایک 42 سالہ شخص کے لیے گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا گیا ہے

کینیڈا بارڈر سروسز ایجنسی کے مطابق، مانٹریال کے ایک 42 سالہ شخص کے لیے گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا گیا ہے جس پر امیگریشن فراڈ اسکیم چلانے کا الزام ہے جس نے مبینہ طور پر درجنوں لوگوں کو غلط معلومات کا استعمال کرتے ہوئے ویزا حاصل کرنے اور کینیڈا میں داخل ہونے میں مدد فراہم کی تھی۔
سی بی ایس اے کا الزام ہے کہ ابوالقاسم نے جنوری 2022 سے مارچ 2024 کے درمیان عارضی رہائشی ویزا درخواستوں اور سیاسی پناہ کے دعووں میں 65 لوگوں کی غلط معلومات فراہم کرنے میں مدد کی۔
تفتیش کاروں نے یہ بھی الزام لگایا کہ قاسم نے 53 لوگوں کو کینیڈا میں داخل ہونے کا انتظام کیا جس سے وہ جعلی طور پر حاصل کیے گئے عارضی رہائشی ویزوں کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ملک میں مستقل طور پر آباد ہونے کے قابل بنا۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ قاسم نے دعوتی خطوط میں نامزد میزبانوں کی نقالی کرکے ویزا درخواستوں کی حمایت کے لیے چار جعلی کینیڈا کے پاسپورٹ بھی استعمال کیے تھے۔
CBSA کے مطابق، مئی 2025 میں ان کی مانٹریال کی رہائش گاہ کی تلاشی سے مبینہ اسکیم سے متعلق شواہد سامنے آئے۔
قاسم کو پانچ الزامات کا سامنا ہے، جن میں کینیڈا میں غیر قانونی داخلے کی سہولت فراہم کرنا، ویزا درخواستوں میں غلط معلومات فراہم کرنے میں لوگوں کی مدد کرنا اور جعلی پاسپورٹ استعمال کرنا شامل ہیں۔ امیگریشن، ریفیوجیز اور سٹیزن شپ کینیڈا کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کے بعد 2024 میں تحقیقات کا آغاز ہوا۔
‏CBSA کا کہنا ہے کہ قاسم نے مبینہ طور پر اپنے آپ کو کینیڈا، فرانس اور بنگلہ دیش میں دفاتر والی ایک فرم کے لیے کام کرنے والے امیگریشن کنسلٹنٹ کے طور پر پیش کیا۔ اس نے جون 2025 میں کینیڈا چھوڑ دیا تھا اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بیرون ملک ہے۔
ابھی تک عدالت میں الزامات ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ ان مُلکوں میں جب بھی کسی پہ شک ہو تو اسے یکدم سے نہیں پکڑتے، بلکہ دھیرے دھیرے گھیرا تنگ کرنا شروع کرتے ہیں۔ تاکہ مجرم کے بچ جانے کا امکان زیرو ہو جائے۔ چنانچہ اس کیس میں بھی یقینا یہی ہو گا۔ یہاں ایک بات یہ بھی ہے کہ اگر یہ شخص کہیں بیرونِ ملک میں ہے تو اسے بھی لانا پڑا تو انٹر پول کے ذریعے  لے آئیں گے۔ دیکھتے ہیں اب آگے کیا ہوتا ہے؟

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *