برادرانِ اخون پنجو ؒ تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

سید عبدالوہاب المعروف اخون پنجو باباؒ برصغیر کے اُن جلیل القدر اہلِ علم میں شمار ہوتے ہیں جن کا ذکر فارسی، پشتو، اُردو اور انگریزی کی متعدد کتب و تذکروں میں ملتا ہے۔ اُن کی علمی، دینی اور اصلاحی خدمات پر خاصا کام ہوا ہے، مگر اُن کے خانوادے، خصوصاً بھائیوں کے بارے میں معلومات کم اور مختلف ماخذوں میں منتشر ہیں۔ کہیں عبدالرحیم، کہیں عبدالرحمن و عیسیٰ اور ایک متاخر روایت میں جاوذ کا نام ملتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اِن روایات کو کس حد تک ایک ہی خانوادے سے مربوط کیا جا سکتا ہے۔
اِس سلسلے میں سب سے اہم شہادت ملا عبدالرحیم مانکراوی کے بارے میں ملتی ہے۔ حضرت اخوند درویزہؒ نے اپنی معروف تصنیف ’’تذکرۃ الابرار والاشرار‘‘ میں ملا عبدالرحیم کا اچھے الفاظ میں ذکر کیا ہے۔ ’’حیات و آثار اخوند درویزہ‘‘ اور پروفیسر اختر کی کتاب ’’تاجک سواتی گبری‘‘ میں اسی روایت کی بنیاد پر انہیں دانشمند، محقق اور اہلِ سنت کے دفاع میں سرگرم عالم بتایا گیا ہے۔ اُن کی تصنیف ’’ردالبدع‘‘ کا بھی ذکر ملتا ہے، جس میں بدعات اور غیر شرعی رسوم کے رد کیلئے قرآن، تفاسیر اور احادیث سے استدلال کیا گیا۔
عبدالرحیم مانکراوی کو اخون پنجوؒ کا بھائی قرار دینے کی بنیاد خاصی اہم ہے۔ پروفیسر اختر نے اخوند درویزہؒ کے ’’تذکرۃ لابرار‘‘ کے حوالے سے لکھا ہے کہ عبدالرحیم مانکراوی اور عبدالوہاب مانکراوی دونوں بھائی تھے اور مانکرائے میں سکونت رکھتے تھے۔ مانکرائے ضلع ہری پور( ہزارہ) میں واقع ہے۔ ’’حیات و آثار اخوند درویزہ‘‘ میں بھی عبدالرحیم مانکراوی کو شیخ عبدالوہاب المعروف اخون پنجوؒ کا بڑا بھائی بتایا گیا ہے۔ دونوں کا مانکراوی نسبت سے معروف ہونا اس برادرانہ نسبت کیلئے اہم قرینہ ہے، اگرچہ اسے مزید قدیم دستاویزات سے جانچنے کی ضرورت باقی ہے۔
دُوسرا اہم نام عبدالرحمن مانکراوی کا ہے۔ عبدالحئی حبیبی نے ’’تاریخ افغانستان در عصر گورکانیانِ ہند‘‘ میں اُنہیں ضلع ہزارہ کا باشندہ اور عہدِ اکبری کا عالم قرار دیا ہے اور اُن کی تصنیف ’’حسینہ‘‘ کا ذکر کیا ہے۔ اسی کتاب میں عبدالرحیم مانکراوی کو ’’ردالبدع‘‘ کا مصنف اور عبدالوہاب مانکراوی کو ’’کنزالدقائق‘‘ کا منظوم مترجم بتایا گیا ہے۔ عبدالرحمن اور عبدالرحیم دونوں کا مانکراوی نسبت سے سامنے آنا اِس امکان کو تقویت دیتا ہے کہ ان کے درمیان خاندانی تعلق ہو، تاہم حتمی نسبت کیلئے مزید شہادت درکار ہے۔
عبدالرحمن کیساتھ عیسیٰ کا نام بھی اہم ہے۔ حبیبی نے اپنے مضمون ’’اخون پنجو‘‘ میں صراحت کی ہے کہ اخون پنجو ؒکے دو بھائی عبدالرحمن اور عیسیٰ تھے اور اخون پنجو کے بعد عبدالرحمن اُنکی مسند پر بیٹھے۔ حبیبی نے عیسیٰ کو صاحبِ تصنیف بھی قرار دیا اور احتمال ظاہر کیا کہ شاید یہی وہ شاہ عیسیٰ ہیں جنکا ذکر ’’صواتنامہ‘‘ کے 352ویں شعر میں آیا ہے۔ تاہم ’’تاریخ افغانستان در عصر گورکانیانِ ہند‘‘ میں عیسیٰ پشاوری کو بھی اخون پنجوؒ کا شاگرد قرار دیا گیا ہے۔ اس اختلاف کے باوجود حبیبی کی صریح برادرانہ روایت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
’’تذکرہ ٔآخوند پنجو بابا( حصہ دوم)‘‘ میں عبدالرحیم کا ذکر ملتا ہے۔ روایت کے مطابق 958ھ میں سید عبدالوہاب نے اپنے دادا سید کھداد شاہ بابا، والدین اور بھائی سید عبدالرحیم بابا کے ہمراہ صوابی سے پشاور ہجرت کی اور چوہا گجر میں سکونت اختیار کی۔ دونوں بھائیوں نے وہیں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور بعدازاں سنبھل شریف و مرادآباد (ہندوستان) گئے۔ اِسی سلسلے کی ’’تذکرۂ حضرت خواجہ آخوند پنجو( حصہ سوم)‘‘ میں اخون پنجوؒ کی علمی خدمات، ’’کنزالدقائق‘‘ کے منظوم ترجمے اور تدریس کا ذکر ہے، جبکہ عبدالرحیم بابا کو ’’رد اہلِ ہوا والبدعہ‘‘ کا مصنف بتایا گیا ہے۔
چوتھا نام جاوذ کا ہے، جسکی شہادت نسبتاً متاخر ماخذ میں ملتی ہے۔ روشن خان نے ’’تذکرہ پٹھانوں کی اصلیت اور تاریخ‘‘ میں لکھا ہے کہ اخون پنجوؒ کا ایک چھوٹا بھائی جاوذ تھا، جو بونیر واپس گیا اور موضع کالش میں خوڑگئی کے کنارے مدفون ہوا۔ ’’حیات و آثار اخوند درویزہ‘‘ نے بھی یہ روایت نقل کی ہے، تاہم واضح کیا ہے کہ اخوند درویزہ نے جاوذ کا ذکر نہیں کیا بلکہ عبدالرحیم مانکراوی کا تذکرہ کیا ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ ’’جاوذ‘‘ اُنکا اصل نام تھا یا کسی عرف، مقامی روایت یا بعد کی نسبت سے یہ نام رائج ہوا۔ اِس لیے جاوذ کی نسبت کو اہم مگر مزید تحقیق طلب روایت سمجھنا زیادہ مناسب ہوگا۔
ان شواہد کو یکجا کیا جائے تو اخون پنجوؒ کے خانوادے سے متعلق چار نام نمایاں ہوتے ہیں: عبدالرحیم، عبدالرحمٰن، عیسیٰ اور جاوذ۔ ان سب کی شہادت یکساں درجے کی نہیں۔ عبدالرحیم کے بارے میں اخوند درویزہ کی نسبتاً قدیم روایت موجود ہے؛ عبدالرحمن کے بارے میں حبیبی نے مانکراوی اور ہزارہ کا حوالہ دیا؛ عیسیٰ کے بارے میں حبیبی کی صریح برادرانہ روایت ہے، جبکہ جاوذ کا ذکر روشن خان کی روایت میں ملتا ہے۔ اِس لیے ان تمام ناموں کو بلا تحقیق قطعی نسب نامے کا حصہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
ان روایات کے ساتھ ایک اہم قرینہ ’’کنزالدقائق‘‘ کا پشتو منظوم ترجمہ ہے۔ کئی مؤرخین اور اخون پنجو کے حوالے سے لکھی گئی کتب میں یہ ذکر ملتا ہے کہ اُنہوں نے حنفی فقہ کی معروف کتاب ’’کنزالدقائق‘‘ کا پشتو منظوم ترجمہ کیا۔ دُوسری جانب حبیبی نے عبدالوہاب مانکراوی کو بھی اِسی کتاب کا منظوم مترجم بتایا ہے۔ ایک ہی مخصوص علمی خدمت کا دونوں ناموں سے منسوب ہونا اِس بات کو تقویت دیتا ہے کہ عبدالوہاب مانکراوی اور سید عبدالوہاب المعروف اخون پنجو ایک ہی شخصیت ہیں۔ اس تطبیق کی مزید تصدیق قدیم مخطوطات اور ابتدائی ماخذوں سے ہونا بہرحال ضروری ہے۔
اِسی طرح عبدالرحیم، عبدالرحمٰن، عیسیٰ اور جاوذ کا اخون پنجوؒ کے بھائیوں کے طور پر مختلف روایات میں ذکر ہونا اِس امکان کو سامنے لاتا ہے کہ اخون پنجوبابا سمیت کل پانچ بھائی تھے۔ اگرچہ یہ پانچوں نام ایک ہی قدیم شجرۂ نسب میں یکجا نہیں ملتے، اِس لیے اسے قطعی تاریخی فیصلہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ تاہم عبدالرحیم، عبدالرحمن اور عیسیٰ کیساتھ علمی تصانیف و خدمات کی نسبت اِس بات کی طرف ضرور اشارہ کرتی ہے کہ یہ محض ایک خانوادہ نہیں بلکہ ایک علمی گھرانا تھا، جس میں بھائیوں کی متعدد شخصیات علم و تصنیف سے وابستہ تھیں۔
مجموعی طور پر دستیاب شواہد ایک اہم مگر نامکمل تصویر پیش کرتے ہیں۔ عبدالوہاب، عبدالرحیم اور عبدالرحمن کا مانکراوی نسبت سے سامنے آنا خصوصی توجہ کا طالب ہے، جبکہ عیسیٰ اور جاوذ کی روایات مزید تحقیق چاہتی ہیں۔ فی الحال عبدالرحیم کی برادرانہ نسبت سب سے مضبوط دکھائی دیتی ہے، جبکہ عبدالرحمن، عیسیٰ اور جاوذ کے بارے میں روایات کو تحقیقی مفروضے کے طور پر محفوظ رکھنا زیادہ مناسب ہے۔ دُوسری طرف ’’کنزالدقائق‘‘ کے منظوم پشتو ترجمے کی نسبت عبدالوہاب مانکراوی اور اخون پنجوؒ دونوں کی طرف ملنا اس مفروضے کو خاصا تقویت دیتا ہے کہ یہ دونوں نام ایک ہی شخصیت کے ہیں۔
قدیم مخطوطات، شجراتِ نسب، کتب کے قدیم نسخے اور مقامی روایات کی چھان بین ہی اِس علمی خانوادے کی تاریخ کو روایت سے مستند تحقیق تک پہنچا سکتی ہے۔ بالخصوص ردالبدع، حسینہ اور کنزالدقائق کے قدیم نسخوں اور ابتدائی حوالوں کی تلاش ان شخصیات کی باہمی نسبتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ آج کی منتشر شہادتیں اگرچہ مکمل شجرۂ نسب مرتب نہیں کرتیں، مگر اخون پنجوؒ کے گرد ایک اہم علمی خانوادے کے آثار ضرور دکھاتی ہیں۔ ضرورت ہے کہ ان بکھرے ہوئے شواہد کو یکجا کر کے تحقیق کی جائے، تاکہ اخون پنجوؒ اور بھائیوں کی علمی خدمات روایت نہیں بلکہ مستند تاریخ کا حصہ بن سکیں۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *