پکھلی ہزارہ کا ایک قدیم تاریخی خطہ ہے، اگرچہ آج یہ ضلع مانسہرہ میں ایک محدود جغرافیائی علاقے کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ مغلیہ دور میں اسکی حدود کہیں وسیع تھیں۔ ابوالفضل نے ’’آئینِ اکبری‘‘ میں اسکی مشرقی حد کشمیر، جنوبی حد گکھڑوں کا ملکٗ، مغربی حد اٹک اور شمالی حد کٹور ( چترال) تک بیان کی ہے۔ یہی جغرافیائی محلِ وقوع اسے کشمیر، سوات، دریائے سندھ اور افغانستان کی سمت جانیوالے راستوں کے درمیان ایک اہم سرحدی خطہ بناتا تھا۔
پکھلی پر کارلُغ ترکوں کی حکمرانی تھی اور گلی باغ ان کا اہم مرکز تھا۔ اس خاندان کے حکمرانوں میں سلطان شہاب الدین، سلطان دریا خان المعروف فقیر الدین، سلطان غیاث الدین عبداللہ خان، سلطان محمود کلان اور سلطان شادمان خان کے نام ملتے ہیں۔ شادمان خان کے بعد سلطان محمود خورد حکمران ہوئے، جنہیں عموماً پکھلی کا آخری کارلُغ ترک حکمران قرار دیا جاتا ہے۔ اس خطے کی سیاسی اہمیت نے اسے مغلیہ سلطنت اور سرحدی قبائل کی کشمکش میں نمایاں مقام دے رکھا تھا۔
سترہویں صدی میں سواتی اور یوسفزئی قبائل کی قوت دریائے سندھ کے مشرقی علاقوں کی طرف بڑھی تو پکھلی ایک بار پھر سیاسی اور عسکری کشمکش کا مرکز بن گئی۔ 1077ھ/1667ء کے واقعات کے حوالے سے مغلیہ دور کی ’’عالمگیرنامہ‘‘ میں ملا چالاک اور باگو خان کا ذکر ملتا ہے۔ بیان کے مطابق باگو خان پانچ ہزار یوسفزئی جنگجوؤں کیساتھ دریائے سندھ عبور کرکے پکھلی میں داخل ہوا اور قلعہ چہاچل پر قبضہ کیا۔ یہ شہادت اِس لیے اہم ہے کہ واقعے کا بنیادی سراغ مغلیہ عہد کے تحریری ریکارڈ میں محفوظ ہے۔
یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ ’’عالمگیرنامہ‘‘ میں مذکور ملا چالاک کون تھے؟ بعد کے فارسی، پشتو، اردو اور انگریزی ماخذوں میں یہی شخصیت اخوند چالاک ، اخوند سالاک اور پشتو میں اخوند څالاک کے نام سے سامنے آتی ہے۔ عبدالروف بینوا کی ’’د افغانستان نومیالی‘‘، عبدالحی حبیبی کی ’’اے شارٹ ہسٹری آف افغانستان‘‘، محمد ذکاء اللہ کی ’’تاریخِ ہندوستان‘‘، پریشان خٹک کی ’’پشتون کون؟ تاریخ، تحقیق، تنقید‘‘ اور ’’دانشنامۂ ادب فارسی‘‘ میں بھی 1077ھ کے واقعات اخوند سالاک اور بہاکو خان سے منسوب کیے گئے ہیں۔ یوں مختلف ماخذ اس نسبت کو تقویت دیتے ہیں۔
پروفیسر اختر کی ’’تاجک سواتی گبری‘‘ اِس بحث میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ وہ ’’عالمگیرنامہ‘‘ کے اقتباسات کی روشنی میں لکھتے ہیں کہ قلعہ چہاچل پر سب سے پہلے اخوند سالاک نے حملہ کیا اور پکھلی کے شمالی علاقے پر قبضہ حاصل کیا۔ اِس طرح وہ بھی ’’عالمگیرنامہ‘‘ میں مذکور ملا چالاک کو اخوند سالاک ہی سمجھتے ہیں۔ اُن کے مطابق شادامان، گماشتۂ شمشیر اور زمیندارِ پکھلی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پروفیسر اختر کے نزدیک چہاچل کا یہی حملہ تاریخی ریکارڈ میں ملتا ہے۔
سید جلال بابا کے حوالے سے بھی پروفیسر اختر کی وضاحت اہم ہے۔ اُن کے مطابق چہاچل پر مذکورہ حملے کا سید جلال بابا سے کوئی تعلق نہیں۔ پکھلی کی بعد کی روایات میں سید جلال بابا کا نام سواتیوں کی پیشقدمی اور کارلْغ ترک اقتدار کے خاتمے کیساتھ ملتا ہے، جبکہ بعض روایتیں انہیں سلطان محمود خورد کا داماد بھی قرار دیتی ہیں۔ تاہم چہاچل کی مخصوص مہم کے سلسلے میں پروفیسر اختر کی تحقیق اخوند سالاک کی نسبت کو واضح کرتی ہے اور بعد کی روایات کو معاصر مغلیہ شہادت کی روشنی میں پرکھنے کی ضرورت سامنے آتی ہے۔
اخوند سالاک کا کردار صرف عسکری قیادت تک محدود دکھائی نہیں دیتا۔ پروفیسر اختر کے مطابق یوسفزئیوں کو اپنی قوت مجتمع کرنیکا موقع اخون سالاک کی قیادت سے ملا، جبکہ اخون پنجو کی روحانی قیادت نے اس قبائلی نظم کو فکری بنیاد فراہم کی۔ اسی روایت میں اخوند سالاک کو اخون پنجو کا شاگرد قرار دیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں وہ مذہبی اثر، قبائلی تنظیم اور مغلیہ اقتدار کیخلاف مزاحمت کے درمیان ایک اہم شخصیت کے طور پر سامنے آتے ہیں، جن کی قیادت نے یوسفزئی قوت کو مجتمع کرنے میں کردار ادا کیا۔
اس تاریخی سلسلے کا ذکر بعد کے متعدد مؤرخین نے بھی کیا ہے۔ ہارون رشید کی ’’ہسٹری آف دی پٹھانز‘‘ میں اخوند سالاک اور بہاکو خان کی پکھلی کی طرف پیشقدمی کا ذکر ہے، جبکہ کوشک رائے کی ’’گریٹ مغلز، وارفئیر اینڈ کوائن اِن افغانستان، 1520ء تا 1707ء ‘‘ میں مغلوں اور سرحدی قبائل کے درمیان جھڑپوں کو وسیع عسکری تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔ رِٹا جوشی کی ’’دی افغان نوبلٹی اینڈ دی مغلز‘‘ میں بھی اخون سالاک، بہاکو خان اور یوسفزئیوں کی بغاوت کا حوالہ ملتا ہے۔ یوں مختلف ماخذ ایک ہی تاریخی سلسلے کی طرف اشارہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
پکھلی کی داستان اِس لیے اہم ہے کہ یہاں تاریخ، روایت اور مختلف زبانوں کے ماخذ ایک دُوسرے سے ملتے ہیں۔ 1667ء میں اخوند سالاک اور بہاکو خان کی قیادت میں سواتی و یوسفزئی لشکر کی پیشقدمی اور قلعہ چھاچھل کی فتح کا بنیادی سراغ ’’عالمگیرنامہ‘‘ میں موجود ہے، جبکہ بعد کے فارسی، پشتو اور انگریزی مؤرخین نے اسے مختلف انداز سے محفوظ کیا۔ ان شواہد سے ملا چالاک اور اخوند سالاک کی نسبت نمایاں ہوتی ہے، جبکہ چہاچل کی اس مہم کو سید جلال بابا سے منسوب کرنا درست معلوم نہیں ہوتا۔ پکھلی کی تاریخ کا تقاضا ہے کہ ہر واقعے کو اس کے زمانی اور ماخذی تناظر میں پرکھا جائے۔














Post your comments