جشن عید میلاد النبی کے حوالے سے اس کے مرکزی شہر یعنی مدینہ منورہ میں حاضری دینے کی ایک پرانی امنگ تھی جو بعض اوقات بعض صورتوں کی وجہ سے پوری نہیں ہو پا رہی تھی لیکن اس مرتبہ عزم تھا کہ انشاءاللہ ضرور جائیں گے ۔ لیکن ربیع الاول کے پہلے 12 دنوں کے اندر ہمیں جلسہ عید میلاد النبی منعقد کرنا بھی تھا جس کی بنیاد عضام قریشی صاحب نے طویل عرصے پہلے ڈالی تھی اور یہ کافی مشکل مرحلہ تھا ۔ کیونکہ سفر اس طرح درپیش تھا کہ مجھے 11 ربیع الاول کو جدہ پہنچنا تھا ۔ خیر ہم نے ایک ہفتے قبل یعنی تقریبا تین ربیع الاول کو اپنے جلسہ میلاد کا انعاد کیا جو کہ ماشاءاللہ بہت زبردست رہا ۔ اور اگلے ہی ہفتے مجھے جدہ کے لیے روانہ ہونا تھا اہلیہ کے ساتھ میں نیویارک سے سعودیہ ایئر لائن کے ذریعے روانہ ہوا ۔ دوپہر میں جدہ پہنچے اور وہاں سے فوری طور پر تیز رفتار حرمین ٹرین سروس کے ذریعے دو گھنٹے میں شام سات بجے ہم مدینہ منورہ کی سرزمین پر تھے ۔ یہ بہت ہی اعلی سروس ہے اس بات سے قطع نظر کے ذرا مہنگی ہے ۔
11 ربیع الاول کی شام ہوٹل سے باوضو ہو کر عشاء کے وقت ہم دربار میں پہنچے ۔ جو کیفیات وہاں پر ایک غریب کمزور زایر پہ ہوتی ہیں وہ ضرور محسوس ہوئی اور اپنے سر کو جھگاتے ہوئے روضہ نبوی ا کو سلام کرتے ہوئے اگے بڑھ گئے لیکن اس دوران اس بات کا اندازہ ہوا کہ مسجد سے متصل جتنا وسیع ترین صحن ہے لوگوں سے بھرا ہوا ہے اور تل دھرنے کی جگہ نہیں ہے ۔ کیونکہ عشاء کی نماز ہو چکی تھی اس لیے لوگ اب واپس ہوٹلوں کی طرف جا رہے تھے اس کے باوجود مسجد کے صحن بھرے ہوئے تھے ۔ یہاں جس جس سے بات ہوئی یہی پتہ چلا کہ وہ 12 ربیع الاول منانے کے سلسلے میں مدینہ ائے ہوا ہے لیکن اس کا صحیح اندازہ ہمیں صبح تہجد کے وقت ہوا جب تہجد کی اذان یعنی تقریبا سوا تین بجے ہم دوبارہ روضہ نبی پر پہنچے تو ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے چاروں طرف سے خلقت امڈی چلی ا رہی ہے ۔
مدینہ منورہ میں ایسے مناظر صرف اس وقت ہوتے ہیں جب فجر کی اذان کے بعد لوگ روزہ اقدس کی طرف اتے ہیں لیکن اس مرتبہ تہجد سے ہی مسجد مکمل طور پر بھر چکی تھی اور تمام دالان پوری طرح بھرنے لگے تھے ۔ میں بھی کیونکہ تہجد کے وقت ہی روانہ ہو گیا تھا لہذا مسجد کے اندر ایک مناسب جگہ حاصل کر سکا تا ہم اتنے زبردست ہجوم میں انتہائی سکون موجود تھا ۔ تہجد کی نماز کے بعد فجر کی اذان ہوئی جس کو شروع ہوتے ہی ہمارے ویڈیو لاگ اور ویڈیو بلاگر کھڑے ہو گئے بلکہ عوام نے بھی فوٹو اور تصویریں اور ویڈیو بنانی شروع کر دی تو اس سے اندازہ ہوا کہ یہ تمام لوگ جشن صبح بہاراں منانے کے لیے یہاں موجود ہوئے ہیں اور اپنے اپنے طور پر ویڈیو بنا رہے ہیں سب کے کانوں میں ایئر فون وغیرہ لگے ہوئے تھے جس کے ذریعے وہ نعتیں سن رہے تھے جن کی ہلکی ہلکی اوازیں گونج رہی تھیں ۔
نماز کے بعد ہر دروازے سے ہجوم اور خلقت باہر نکلی اور روضہ رسول کی طرف بڑھی اور اتنا زبردست ہجوم تھا کہ بیان نہیں کیا جا سکتا اور احتیاطا انتظامیہ نے گنبد صغری کے بالکل پیچھے جو بڑی جگہ ہے اس کو بلاک کر دیا تھا یعنی اس کے پیچھے کوئی بھی کھڑے ہو کر دعا یا نعت یا مناجات نہیں کر سکتا تھا ایک طرح کا سیمی کرفیو لگا ہوا تھا اور ساتھ میں جتنی بڑی جگہیں تھیں ان کے اوپر سیکیورٹی فورسز کھڑی ہوئی تھیں جو تمام زائرین پر نظر رکھ رہی تھیں ۔
تاہم کوئی بھی ایسا واقعہ پیش نہ ایا جس پر سعودی انتظامیہ کو کوئی زور زبردستی کرنی ہو مسجد سے کافی دور کے فاصلے پر مختلف چھوٹے چھوٹے گروپ جمع ہو کے نعتیں پڑھ رہے تھے لیکن اواز دھیمی رکھی ہوئی تھی گویا قانون کا یا جو بھی وہاں کے رواج ہیں ان کا خیال رکھا جا رہا تھا ۔ واضح رہے کہ چند سال پہلے تک ربیع الاول کے مہینے میں سعودی حکومت پاکستان اور ہندوستان کے شہریوں کو ویزے دینے سے اجتناب کرتی تھی کیونکہ ان کے خیال میں یہاں پر زیادہ تر لوگ دعوت اسلامی سے متاثر ہوتے ہیں اور یہاں ا کر نعتیں اور درود زور زور سے پڑھنا شروع کر دیتے ہیں ۔ تاہم خاموش رائے سے پتہ چلا ہے کہ دعوت اسلامی سے ان کا ایک معاہدہ ہوا جس کے بعد سب کو ویزے دینا شروع کر دیا گیا حتی کہ دعوت اسلامی کے قائد الیاس قادری کو بھی مدینہ انے کا موقع ملا ۔ قیاس یہ ہے کہ دعوت اسلامی نے بھی سعودی انتظامیہ کو یقین دلایا کہ وہ یہاں ا کر قانون کی خلاف ورزیاں نہیں کریں گے اور صرف اپنی شرکت کو یقینی بنائیں گے ۔
میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ یہ بات بالکل درست ہے سعودی عرب کی حکومت جس طرح مقامات مقدسہ کا خیال رکھ رہی ہے اس کی صفائی ستھرائی اس کی انتظامیہ اور اس میں زائرین کی سہولت کے لیے جو کچھ کیا جا رہا ہے وہ کوئی اور نہیں کر سکتا لہذا ہمیں ان کے طریقہ کار پر بھی اعتماد کا اظہار کرنا چاہیے
حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم روضہ نبی کے اندر جلوس نکالنا شروع کر دیں یا نعرے بازی شروع کر دیں یا زور سے نعتیں پڑھنا شروع کر دیں تو اس طرح سے مسجد نبوی کے تقدس پر اثر پڑ سکتا ہے ۔
مسجد نبوی کے مقدس ماحول میں خاموشی سے مناجات کرنا دعائیں کرنا اہیں بھرنا اور نبی کا شکریہ ادا کرنا ہی اصل عبادت ہے اس لیے ہمیں سعودی عرب کے قوانین چاہے وہ وہابی مسلک کے ہوں چاہے اہل حدیث کے ہوں یا کسی کے بھی ہوں ہمیں انتظامی نظروں سے دیکھنا چاہیے
اگر ہم روزہ اقدس کی جالیوں سے چمٹنے لگے اور اس کو پکڑ کے نہ چھوڑنے لگے تو پھر یہاں ہنگامہ برپا ہو سکتا ہے اس لیے دور سے سلام کرنا اور احترام سے روضے کے سامنے سے گزر جانا اور دیگر لوگوں کو موقع دینا بہت ہی اچھی بات ہے ۔
نبی کریم ہمارے دلوں میں رہتے ہیں ہم جہاں بیٹھے ہیں ان سے رابطہ ہو جاتا ہے تو مسجد کے کسی کونے سے بھی اگر اپ گنبد خضرہ کو دیکھ رہے ہیں تو اپ اپنی حاضری کو مقبول سمجھیں
مدینہ منورہ کے علاوہ پوری دنیا میں عید میلاد نبی دوسرے انداز میں منایا جاتا ہے بڑے بڑے جلوس نکلتے ہیں چراغان ہوتا ہے نیاز بنتی ہے بٹتی ہے گویا ایک عید کا سما ہوتا ہے اور اس عید کا مطلب خوشی ہے تو لہذا ساری دنیا میں جس طریقے سے عید میلاد النبی بنایا جاتا ہے وہ اس لیے منایا جاتا ہے کہ وہ لوگ خود روضہ نبی پر موجود نہیں ہوتے ہیں لہذا ان کا حق ہے کہ وہ جہاں جہاں بھی ہیں اپنے انداز میں زور شور کے ساتھ عید میلاد النبی منائیں
کیونکہ سعودی عرب کا ماحول بھی اب اہستہ اہستہ اپنے پچھلے دور کی طرف لوٹ رہا ہے لہذا تمام پرانی مسجدیں جو کبھی گرا دی گئی تھیں دوبارہ تعمیر کی گئی ہیں اور وہاں بھی حاضری ہو رہی ہے ہم لوگوں کے لیے وہ مساجد بھی بہت ہی اہم ہیں وہاں بھی نبی کریم کی امد ہوئی تھی وہاں بھی نبی کریم نے نماز پڑھی تھی تو وہاں بھی ہم مسجد نبوی کے ساتھ ساتھ جائیں اور وہاں پر نمازیں ادا کریں
خیر مدینہ میں سڑکوں پر چراغاں بھی دیکھنے میں ایا بہت ساری روضے کی طرف انے والی گلیوں میں برقی قمقمون کی قطار در قطار لگی ہوئی تھی ۔ فجر کی نماز کے بعد بے تحاشہ جگہوں پر شیرینی کھجور مٹھائیاں ٹافی سینڈوچ تقسیم ہو رہے تھے ۔ میں نے 12 ربیع الاول کی مغرب کی نماز مسجد غمامہ میں پڑھی وہاں بھی جیسے ہی مسجد سے باہر نکلا تو مٹھائیاں شیرینی تقسیم ہو رہی تھی
مسجد سے متصل بازاروں میں اور گلیوں میں بریانی روٹی نان یہ بھی بڑے پیمانے پہ تقسیم ہو رہے تھے
مسجد نبوی میں کتنے لوگ ا سکتے ہیں اس حوالے سے کم سے کم مدینہ میں اس رات 10 لاکھ لوگ موجود تھے ۔ اس میں زیادہ تعداد ہندوستان سے انے والوں کی تھی اس کے بعد پاکستانیوں کا نمبر تھا اور بنگلہ دیشی انڈونیشی ملائشیا فلپائن اور ترکی کے زائرین شامل تھے جن میں سے 90 فیصد صرف 12 ربیع الاول یہاں منانے کے لیے ائے تھے
کمرشل طور پر اپ اس طرح اندازہ لگائیں کہ ہوٹلوں کے ریٹ بہت ہائی تھے اس کے علاوہ مختلف ایر لائنز نے بھی ربیع الاول سے پہلے اور بعد میں اپنے کرایوں میں بے حد اضافہ کیا ہوا تھا اس کے باوجود اس عظیم الشان تعداد میں مدینہ میں لوگوں کی حاضری خاموشی سے حاضری احترام کے ساتھ حاضری بہت ہی اہمیت رکھتی ہے
بعد میں میری ایسے ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی جو ہر سال ربیع الاول کو یہاں پر موجود ہوتے ہیں تو یہ بھی ایک طرح کی اب اہم تاریخ اس حوالے سے بنتی جا رہی ہے کہ روضہ نبوی میں جس طرح رمضان المبارک میں بہت زیادہ رش ہوتا ہے تو اب یہ عید میلاد النبی بھی اسی رش کی غمازی کر رہا ہے
میں نے 13 ربیع الاول کو عمرہ ادا کیا مکہ میں بھی اس وقت بہت زیادہ رش تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ جتنے لوگ عید میلاد النبی منانے مدینہ ائے تھے وہ اب واپس عمرہ کرنے ا رہے تھے اس لیے غیر متوقع طور پہ خانہ کعبہ کے صحن میں بہت ہی زیادہ رش تھا اور عمرہ ادا کرنے میں جو عام طور پہ پونے دو سے دو گھنٹے لگتے ہیں اس میں پورے سوا چار گھنٹے لگے
اللہ تعالی ہم سب کو روضہ نبی پر حاضری اور عمرے کی سعادت عطا فرمائے














Post your comments