آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں 2 بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد ایک سپر ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث ٹینکر مکمل طور پر رک گیا۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق ایرانی ٹینکر آبی گزرگاہ سے غیر قانونی طور پر گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
جہاز اور عملے سے متعلق کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
اس حوالے سے پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ سیکیورٹی قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے دیگر بحری جہازوں کو بھی اسی انجام کا سامنا کرنا پڑے گا، آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے مقررہ ضوابط پر عمل لازمی ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں خطرہ بننے والی ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی مائن لیئنگ فورسز کے خلاف محدود اور انتہائی درست کارروائی کی ہے۔
سینٹ کام کے مطابق لارک جزیرے پر موجود ایرانی پاسداران انقلاب کی بارودی سرنگیں بچھانے والی فورسز آبنائے ہرمز میں فوری خطرہ بن رہی تھیں۔
اسرائیل نے ایران پر ایک بار پھر حملے کی دھمکی دے دی۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن کا کہنا ہے کہ ایران امریکا سے معاہدہ کر بھی لے لیکن اگر ایران نے جوہری یا بیلسٹک میزائل بنائے تو ایران پر دوبارہ حملے کریں گے۔
انہوں نے اسرائیلی میڈیا کو دیے گئے حالیہ انٹرویو میں کہا کہ ایران جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی غلطی دُہرائے گا تو ایران کو ایک بار پھر نشانہ بنائیں گے۔
ایلی کوہن کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل نے حملہ نہ کیا ہوتا تو ایران جوہری ہتھیار حاصل کر چکا ہوتا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے مشترکا حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو دو سے چار سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔
امریکی فوج نے ایران کے لارک جزیرے پر فضائی حملہ کیا ہے،
امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز لارک جزیرے پر ایرانی میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی عہدیدار کے مطابق پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگوں کے ساتھ راکٹ داغنے کی تیاری کر رہے تھے۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ لارک جزیرے پر امریکی حملے میں کئی ایرانی جنگجو اور عام شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکا کو جزیرہ لارک پر حملے کی قیمت معاشی اور عسکری، دونوں محاذوں پر چکانا پڑے گی۔














Post your comments