کینیڈا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کر کے ’جھیل امریکا‘ رکھنے کے حکم کا طنزیہ انداز میں جواب دے دیا۔
اونٹاریو کے وزیر اعلیٰ ڈگ فورڈ نے جھیل کے کینیڈین ساحل پر ایک بڑا بل بورڈ نصب کیا، جس پر لکھا تھا کہ لیک اونٹاریو، اب اور ہمیشہ۔ بل بورڈ پر یہی پیغام فرانسیسی زبان میں بھی درج ہے۔
ڈگ فورڈ نے گریمس بی، اونٹاریو کے قریب بل بورڈ کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔
ان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے جانے کے طویل عرصے بعد بھی اس جھیل کو ’لیک اونٹاریو‘ ہی کہا جائے گا۔
یہ اقدام ٹرمپ کی جانب سے امریکی وفاقی اداروں کو جھیل کا نام ’لیک امریکا‘ استعمال کرنے کی ہدایت کے بعد سامنے آیا ہے۔
کینیڈین رہنماؤں نے ٹرمپ کے فیصلے پر شدید ردعمل کے بجائے طنز کا راستہ اختیار کیا۔
مانیٹوبا کے وزیر اعلیٰ واب کینیو نے ٹرمپ کا موازنہ ایک ایسے عمر رسیدہ راک بینڈ سے کیا جو کئی دہائیاں پرانا گانا دوبارہ مقبول بنانے کی کوشش کر رہا ہو۔
کینیڈا اور امریکا کے درمیان یہ تنازع دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے، گزشتہ ہفتے تجارتی مذاکرات ناکام ہوگئے تھے، جبکہ کینیڈا نے آئندہ ماہ امریکی اقدامات کے جواب میں جوابی محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کینیڈا سے تجارتی جنگ چھیڑنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جھیل اونٹاریو کو جھیل امریکا کا نام دیدیا، اس سلسلے میں انہوں نے صدارتی حکم نامے پر دستخط کردیے۔
خلیج میکسیکو کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ خلیج اور جھیل کا نام تو بدل دیا اب سمندر کا نام بدلنا رہ گیا ہے، ممکن ہے وہ بحر اوقیانوس اور بحرالکاہل کا نام ہی بدل دیں۔
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جھیل اونٹاریو کا نام امریکا اور کینیڈا کی تاریخ سے بھی پرانا ہے، جھیل اونٹاریو ہمیشہ جھیل اونٹاریو ہی رہے گی۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق نہر اونٹاریو کا باون فیصد حصہ کینیڈا جبکہ بقیہ حصہ امریکا کی ریاست نیویارک میں ہے۔
نیویارک کی ڈیموکریٹک گورنر کیتھی ہوکل نے بھی صدر ٹرمپ کا حکم تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ جھیل اونٹاریو کا چار سو برس پرانا نام نہیں بدلیں گی۔
کینیڈا اور امریکا سے جڑی امریکی ریاست ورمونٹ کے ری پبلکن گورنر فل اسکاٹ نے بھی صدر ٹرمپ کے اقدام کو حقیر اور مایوس کن قرار دیا ہے۔














Post your comments