دوحا میں آج تکنیکی مذاکرات، امریکا، وفد جائیگا، ملاقات طے نہیں، ایران

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے تصدیق کہ ہے کہ ایران کے ساتھ تکنیکی مذاکرات کے لیے اسٹیو وٹکوف اورجیرڈ کشنر دوحاجائیں گے جبکہ امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کا بھی کہنا ہے کہ تہران نے ایک میٹنگ کی درخواست کی ہےجس کا انعقاد آج قطرکے دارا لحکومت میں ہوگا تاہم ایرانی نائب وزیرخارجہ کاظم غریب آبادی نے مذاکرات کی تردید کی ہے جبکہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیاہے کہ ماہرین کا ایک وفد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے حوالے سے بات چیت کے لیے رواں ہفتے دوحا جائےگا تاہم آنے والے دنوں میں امریکی فریق کے ساتھ کسی بھی سطح پر مذاکرات کے لیے کوئی ملاقات نہیں ہوگی‘ادھرایرانی انتباہ کے بعد جہازوں نے آبنائے ہرمز میں عمانی راستے کا استعمال ترک کر دیا ہےجبکہ قطر نے بھی ملک میں جہاز رانی اوردیگر بحری سرگرمیوں کو اگلی اطلاع تک عارضی طور پر معطل کردیاہے ‘عراقی حکومت نے ایران نواز گروپوں کو ہتھیار ڈالنے کے لیے تین ماہ کا وقت دے دیاجبکہ آبی گزرگاہ کے حوالے سے ایران عمان مشترکہ کمیٹی کا مسقط میں پہلا اجلاس ہوا ہے ۔سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر علی اکبر ولایتی نے بحرین کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کو سخت فیصلے لینے پر مجبور نہ کرے۔ صدرمسعودپزشکیان نے دعویٰ کیاہے کہ قطر میں منجمد ایران کے12ارب ڈالر کے اثاثوں میں سے چھ ارب ڈالر جلد جاری کردیئے جائیں گے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی درخواست پر ملاقات آج دوحہ میں ہوگی۔

اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا، ایران کا قطر میں اجلاس شاید اہم ثابت ہو، شاید نہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ رکھنے پر راضی ہے، امریکی صدر نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نیچے آرہی ہیں۔

دوسری جانب ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیوٹ کے مطابق قطر میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر رواں ہفتے دوحہ جائیں گے جہاں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے ساتھ تکنیکی مذاکرات بھی ہوں گے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ مفاہمت دوطرفہ معاملہ ہے، امریکا مفاہمتی یادداشت پر عمل کرے گا تو ہم بھی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں گے۔

مسعود پزشکیان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ غیر معقول شیخی بگھارنے اور بےبنیاد دھمکیوں کے مقابلے میں ہمارا مؤقف واضح ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماراموقف ہے کہ فیصلہ سازی میں عقل و دانش اور انسانی وقار کو بنیاد بنایا جائے اور اقدامات کے وقت فیصلہ کن اور نڈر دفاع کا مظاہرہ کیا جائے۔

اس سے قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا تھا کہ قطر میں منجمد ایرانی اثاثوں میں سے 6 ارب ڈالرز کے اثاثے جَلد جاری کر دیے جائیں گے۔

ان کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ مجموعی طور پر 12 ارب ڈالرز کی رقوم میں سے آدھی رقم واپس ایران منتقل کی جائے گی۔

ایرانی صدر نے کہا ہے کہ یہ پیش رفت موجودہ مذاکرات اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود سامنے آ رہی ہے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ صورتِ حال مسلسل بدل رہی ہے اور معاملات پر پیش رفت جاری ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *