دوسری شادی سے توبہ از قلم: نجیم شاہ

شادی شاید وہ واحد بندھن ہے جس میں بندھنے کے بعد انسان کو اندازہ ہوتا ہے کہ آزادی بھی کوئی نعمت تھی۔ پہلی شادی عموماً خوابوں، اُمیدوں اور جذبات کی رنگین چادر میں لپٹی ہوتی ہے، مگر چند ہی عرصے بعد معلوم ہوتا ہے کہ یہ چادر دراصل ذمہ داریوں کا لحاف تھی۔ انسان سمجھتا ہے کہ وہ محبت کی کشتی میں سوار ہے، لیکن کچھ ہی دِنوں میں احساس ہوتا ہے کہ چپو بھی خود چلانا ہے اور طوفان کا سامنا بھی خود کرنا ہے۔ پھر بھی دُنیا میں ہر روز نئی شادیاں ہوتی ہیں، گویا انسان تاریخ سے کم اور اپنی غلطیوں سے زیادہ سیکھنے پر یقین رکھتا ہے۔

میرے ایک دوست نے پہلی شادی کے بعد ایسے ایسے تجربات جمع کیے کہ اگر قلم بند کر دیتا تو ازدواجی زندگی کا انسائیکلوپیڈیا تیار ہو جاتا۔ بیوی کی ہر بات میں فلسفہ، ساس کی ہر نظر میں تحقیق، اور سالیوں کی ہر مسکراہٹ میں طنز پوشیدہ ہوتا تھا۔ دفتر جاتے ہوئے اُس کا انداز ایسا ہوتا جیسے کوئی سپاہی محاذِ جنگ کی طرف روانہ ہو۔ جب اُس نے دوسری شادی کا اعلان کیا تو ہم سب دوست اُس کے خیر خواہ بن گئے۔ کسی نے سمجھایا، کسی نے ڈرایا، حتیٰ کہ ایک دوست نے پہلی بیوی کے چند تاریخی خطابات بھی اُسے دوبارہ سنا ڈالے، مگر وہ مسکراتے ہوئے بولا: ’’اِس بار جذبات نہیں، تجربہ ساتھ ہے۔‘‘

آخرکار دوسری شادی بھی ہو گئی، بلکہ پہلی سے زیادہ دھوم دھام سے ہوئی۔ اِس بار دلہا کے چہرے پر اعتماد بھی زیادہ تھا، کیونکہ وہ خود کو تجربہ کار سمجھتا تھا۔ مگر تجربہ بھی ہر بار قسمت کو شکست نہیں دے سکتا۔ نئی دلہن نے گھر کی ترتیب بدلی، معمولات بدلے، دوستوں کی محفلیں محدود ہوئیں اور پرانی یادوں پر بھی خاموشی کی چادر ڈال دی گئی۔ چند ماہ بعد وہی دوست ہمارے سامنے بیٹھا تھا۔ چہرے پر تھکن، آنکھوں میں نمی اور لہجے میں پچھتاوا۔ آہستہ سے بولا: ’’میں نے دُوسری شادی سے توبہ کر لی ہے۔‘‘

ہم نے فوراً اُسکے اعزاز میں غیر سرکاری تقریب منعقد کر ڈالی۔ کسی نے مبارک باد دی، کسی نے اُسے عقل مند قرار دیا، اور ایک دوست نے اُسے ’’شادی سے باز آنیوالا قومی ہیرو‘‘ بھی کہہ دیا۔ مگر شرارت سے باز آنا میرے مزاج میں کبھی شامل نہیں رہا۔ میں نے ہنستے ہوئے پوچھ لیا: ’’اچھا، تیسری شادی کے بارے میں کیا ارادہ ہے؟‘‘ اُس نے فوراً دونوں کان پکڑے اور نہایت سنجیدگی سے بولا: ’’میں نے دُوسری شادی سے توبہ کی ہے، تیسری سے نہیں۔‘‘ اِس جواب نے محفل کو قہقہوں میں ڈبو دیا اور ہمیں یقین ہو گیا کہ بعض لوگ تجربے سے سبق ضرور سیکھتے ہیں، لیکن سبق پر عمل کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔

دُوسری شادی کو اکثر لوگ پہلی ناکامی کا ری سیٹ سمجھتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ زیادہ تر ری پلے ثابت ہوتی ہے۔ کردار نئے ہوتے ہیں مگر مکالمے پرانے، شکایتیں نئی زبان میں سامنے آتی ہیں مگر مفہوم وہی رہتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ اس بار انسان کے پاس ’’پہلی بار تھا‘‘ کہنے کا عذر بھی باقی نہیں رہتا۔ بابا جی نے بھی کیا خوب فرمایا ہے: ’’اگر کسی کو شادی نہ کرنے پر آمادہ کرنا ہو تو پہلے اُسکی شادی کروا دو۔‘‘ اس مقولے کی سچائی پر بحث کی جا سکتی ہے، مگر اسے سن کر شادی شدہ افراد کی مسکراہٹ ضرور معنی خیز ہو جاتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں دُوسری شادی کو بعض لوگ مردانگی کی نشانی سمجھتے ہیں، لیکن کئی مرتبہ یہی نشانی نادانی کی سند بن جاتی ہے۔ پہلی زندگی کی تلخ اور شیریں یادیں، بچوں کی معصوم باتیں اور برسوں میں بننے والا گھریلو سکون، سب کچھ ایک نئے امتحان کی نذر ہو جاتا ہے۔ پھر انسان سوچتا ہے کہ شاید پہلی مشکل اتنی مشکل بھی نہیں تھی جتنی دُوسری ثابت ہوئی۔ دُوسری شادی سے توبہ کرنے والے لوگ کم ضرور ہیں، مگر اُن کی کہانیاں سننے والوں کے لیے ہمیشہ سبق کا سامان رکھتی ہیں۔

ہر انسان دُوسرے موقع کا حق دار ہے، لیکن شادی کے معاملے میں دُوسرا موقع اکثر دُوسرا جھٹکا بن جاتا ہے۔ اِس لیے اگر پہلی شادی کے بعد کبھی یہ احساس ہو کہ کہیں غلطی ہوئی تھی تو پہلے اس غلطی کو سمجھنے، اپنی کوتاہیوں کو جاننے اور تعلق کو بہتر بنانے کی کوشش کیجیے۔ اور اگر پھر بھی دُوسری شادی کا ارادہ پختہ ہو جائے تو کسی ایسے شخص سے ضرور ملاقات کر لیجیے جو ’’دوسری شادی سے توبہ‘‘ کر چکا ہو۔ عین ممکن ہے اُسکی داستان سن کر آپکو تیسری شادی سے توبہ کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *