آبنائے ہرمز پر کشیدگی کی وجہ بننے والا ایران امریکا مفاہمتی یادداشت کا آرٹیکل 5 کیا ہے؟

ایران امریکا مفاہمتی یادداشت کا آرٹیکل 5 کیا ہے اور آبنائے ہرمز پر کشیدگی کی وجہ کیوں بن رہا ہے؟

آبنائے ہرمز پر کنٹرول نے ایران اور امریکا کے درمیان جوابی حملوں کے ایک سلسلے کو جنم دیا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان حال ہی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت  خطرے میں پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔

دونوں ممالک نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے حملوں کا ذمے دار ایک دوسرے کو ٹھہراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مخالف فریق نے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی ہے، خصوصاً آرٹیکل 5 کی، جس میں آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ اور بلا رکاوٹ آمد و رفت کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

آرٹیکل 5 میں کیا درج ہے؟

مفاہمتی یادداشت کے آرٹیکل 5 کے مطابق آبنائے ہرمز کو فوری طور پر تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے اور بحری تجارت بحال کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

اس شق کے مطابق ایران اپنی بھرپور کوششوں کے ذریعے 60 روز تک خلیج فارس اور بحیرۂ عمان کے درمیان تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنائے گا اور اس دوران کسی قسم کا ٹول یا فیس وصول نہیں کرے گا۔

شق میں کہا گیا ہے کہ ایران 30 روز کے اندر سمندری بارودی سرنگوں سمیت تمام فوجی اور تکنیکی رکاوٹیں ختم کر دے گا۔

مفاہمتی یادداشت کے مطابق ایران مستقبل میں آبنائے ہرمز کے انتظام اور بحری خدمات سے متعلق عمان اور دیگر خلیجی ساحلی ممالک کے ساتھ بین الاقوامی قوانین کے مطابق مذاکرات بھی کرے گا۔

تنازع کی بنیادی وجہ کیا ہے؟

ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز اس کی خود مختاری اور قومی سلامتی کا اہم حصہ ہے، جبکہ امریکا اور خلیجی ممالک چاہتے ہیں کہ عالمی تجارت کے لیے اس آبی گزرگاہ میں مکمل آزادی برقرار رہے۔

ایران اس سے قبل آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول عائد کرنے کی تجویز بھی دے چکا ہے، تاہم امریکا اور خلیجی ممالک نے اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بغداد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ 30 روز تک آبنائے ہرمز کی نگرانی اور انتظام مکمل طور پر ایران کے پاس رہے گا اور مفاہمتی یادداشت کے مطابق کسی بھی یکطرفہ مداخلت سے صورتِ حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

کیا دونوں ممالک معاہدے کی مختلف تشریح کر رہے ہیں؟

تہران یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر حسن احمدیان کے مطابق امریکا اب اسی معاہدے سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کر رہا ہے جس پر اس نے خود دستخط کیے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ایران کو تو معاہدے کی شرائط پر عمل کرنے کا پابند بنانا چاہتا ہے لیکن خود مختلف انتظامات نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

دوسری جانب تہران کے سیاسی تجزیہ کار عباس اصلانی کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو مستقبل میں ممکنہ امریکی حملوں کے خلاف ایک تزویراتی دباؤ   کے طور پر دیکھتا ہے اور اس کی موجودہ حیثیت کو طاقت کے ذریعے تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناقابل قبول سمجھتا ہے۔

ویانا میں قائم دفاعی تجزیہ کار وولف گینگ پسزتائی کے مطابق ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ امریکا اور عرب ممالک جہاز رانی کی مکمل آزادی پر زور دے رہے ہیں۔

ان کے بقول حالیہ حملے اسی اختلاف کا نتیجہ ہیں، تاہم دونوں ممالک کی عسکری کارروائیوں کی شدت سے یہ تاثر نہیں ملتا کہ وہ مکمل جنگ چاہتے ہیں، اس لیے سفارتی حل کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔

حالیہ کشیدگی کیسے شروع ہوئی؟

حالیہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب جمعے کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تجارتی جہاز کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، امریکا نے اس حملے کے ردِعمل میں ایران پر حملے کیے، اگرچہ ایران نے اس کارروائی کی ذمے داری قبول نہیں کی۔

اس سے قبل ایرانی پاسدارانِ انقلاب  نے خبردار کیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والا واحد مجاز راستہ ایرانی سمندری حدود میں واقع شمالی بحری راہداری ہے، اس کے بعد عمان کے سمندری راستے سے گزرنے والے متعدد آئل ٹینکرز کو اپنا راستہ تبدیل کرنا پڑا۔

رپورٹس کے مطابق سنگاپور کے پرچم بردار جہاز ایوور لولی کو جمعے کو جبکہ پاناما کے پرچم بردار ٹینکر کیکو کو ہفتے کے روز حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔

امریکا اور ایران کا مؤقف

ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکی حملوں کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور مفاہمتی یادداشت کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں ثابت کرتی ہیں کہ امریکا اپنے وعدوں کی کوئی اہمیت نہیں دیتا۔

ادھر پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ اس نے امریکی حملوں کے جواب میں کویت میں علی السالم ایئر بیس اور بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے ایران کے میزائل، ڈرون ذخائر اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو اس لیے نشانہ بنایا کیونکہ ایران نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے بعد جوابی کارروائیاں کی گئیں۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا نے جنگ بندی معاہدے کا احترام کیا، تاہم تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا۔

ادھر بحرین اور کویت نے مسلسل دوسرے روز بھی ایران کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دے  دیا۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *