برصغیر میں اردو زبان کے دو دبستان ہیں ایک دبستان دہلی اور دوسرا دبستان لکھنو ، دونوں شہروں نے اردو ادب کی ترقی وترویج میں بے حد حصہ لیا ہے اور اردو زبان کے قدیم افکار ان ہی دونوں شہروں سے نمایاں ہو کر دنیا کے سامنے آئے ہیں۔ لکھنو کے دبستان اردو میں میر ہبر علی انیس اور مرزا سودا جیسے عظیم مرثیہ نگار اور میر تقی میر جیسے غزل کے بادشاہ کا جسمانی اور روحانی تعلق لکھنوی دبستان سے تھا۔ ا لکھنو اردو زبان کے علاوہ مسلمانوں کی تہذیب وتمدن کے عظیم معیار کا ترجمان بھی رہا ہے۔ آج بھی پاکستان میں ہجرت کر کے آنے والے لاکھوں مہاجرین لکھنو کی اپنی ثقافت کو زندہ رکھے پاکستان کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور ان کے ذریعے لکھنو کی زبان اور وہاں کی رواداری کو دیکھا اور پرکھا جاسکتا ہے۔ آج بھی پاکستان میں لکھنو سے تعلق رکھنے والے افراد ا چھی اور تھذیبی اردو بولتے ہیں ۔ جہاں اردو ادب کے حوالے سے لکھنو یاد آتا ہے وہاں ہندوستان اور پاکستان میں بنائی گئی مسلم کلچر فلموں میں بھی لکھنو کی تہذیب کا بے مثال نقشہ پیش کیا جاتا رہا ہے۔ پاکستان کی بنی ہوئی فلم امراؤ جان ادا اور ہندوستان کی فلم پاکیزہ اس سلسلے میں ایک نصاب کی حیثیت رکھتی ہیں۔
Weekly Nawai Pakistan E Paper 09-09-2026
Posted in: Home, Nawai Pakistan E Paper 2026, Weekly Nawai Pakistan E PaperDownload PDF File
Read More














Post your comments