میکسیکو کا ٹیکسی ڈرائیور۔ تحریر: ظفر محمد خان

اس سال جون کے مہینے میں فٹبال ورلڈ کپ کی رونقیں دیکھ کر مجھے اج سے اٹھ سال پہلے اسی فٹ بال ورلڈ کپ کی وہ دن یاد اگئے جب میں میکسیکو کے شہر کونکن۔  میں تھا جہاں میں ایک ٹیکسی ڈرائیور سے ڈر رہا تھا لیکن وہ ٹیکسی ڈرائیور خود مجھے ٹپ دے کے چلا گیا تھا ائیے ان واقعات کو تھوڑا سا یاد کرتے ہیں
کا نکن ایئرپورٹ  سے شہر میں ہوٹل کے کے . لیے مہنگی ٹیکسی کے کے یہ بجاے بس لی جو آرامدہ اور سستی بھی تھی ۔ میرا خیال تھا ہوٹل ڈاؤں ٹاون میں بس اسٹیشن کے پاس ہی اس لیے میں مطمئن  تھا لیکن بس کافی دیر میں پہنچی ۔ سناتا تھا میں۔ کنفیوز ہوا اور سوچا یھاں سے ٹیکسی کر لیتا ہوں ۔ ٹیکسی والے انگریزی سے لابلد تھے خیر ایک ٹیکسی والے نے 60 پیسو مانگے میں نے ہاں کر دی ۔ اس نے ایک پسنجر خاتوں پہلے سے بٹھائی ہوئی تھی تھوڑا چل کر کہنے لگا پہلے ان کو چھوڑ دوں ۔ میں نے حامی بھر دی بس پھر کیا تھا پتہ نہیں کسی کسی علاقے میں لے جاکر کوئی آدھا گھنٹہ ڈرائیو کر کے اس عورت کو کسی ویران بنگلے میں اتارا ۔ اندھیرا گھپ ہو رہا تھا  پھر مجھے لے کر پورا کانکن  بظاہر گھماتا رہا ادھر میں تیار تھا کہ اب یہ مجھ سے مال و  زر چھینے گا اور گولی مار کے پھینکے گا اور پھر کینیڈا کے اخبار میں کینیڈین سیاح کے حوالے سے خبر شائع ہوگی ۔ خیر اللہ نے خیر کی اور بس اسٹیشن نظر آنے لگا ۔ میرا خیال ھے اس سے چند بلاک دور بھی ہوٹل تھا ۔ ٹیکسی والے نے عزت سے اتارا ۔ ہوٹل کے دربان بھاگے اے اور میرا چار کلو کا سامان سنبھالا میں نے سو کا نوٹ ٹیکسی ڈرائیور کو دیا اور سوچا کھ ابھی یہ کچھ اور بھی مانگے گا لیکن اس نے تو ،   اس نے ساٹھ  کے بجاے  پچاس پیسو کائے اور معزرت کی اور مجھے دس پیسو کی ٹپ دیتا ہوا سیٹی بجاتا دیوا ماریا کرتا چلا گیا
 میکسیکو کے سیاحتی مرکز کان کن میں میرا پہلا دن یا رات تھی ، جدید شاپنگ پلازوں میگا اسٹار ہوٹلوں کی شاندار عمارتوں اور نت نئی رنگ برنگی کاروں بسوں اور موٹر سائکلوں سے لدا یہ شہر چالیس ڈگری درجہ حرارت کے ساتھ ہم کو گرما رہا  تھا ۔ یہ میکسیکو کا جنوبی علاقہ بینکوں ہے یہاں کا موسم مرطوب ہے بارشیں اکثر ہوتی ہیں مایا  قوم سے سے تعلق رکھنے والے والے ! لوگ یہاں رہتے ہیں جن کے قد پانچ فٹ سے زیادہ نہیں ہوتے لیکن عقل فہم اور تعلیم میں یہ تیسری دنیا کہ ملکوں سے آگے ہیں ، مغرب نے بھاں سرمایا کاری کی ہوئی ہے ، فوکس ویگن جیسی کاروں کی تیاری بھی یہیں ہوتی ہے اور کاٹن کا بھی اہم مینو فیکچر یہ ہی علاقہ ہے . یھاں سمندری پٹی پر ریزورٹون کی قطار لگی ہوئی ہے اور ان کے سامنے جدید شاپنگ مال موجود ہیں ، بسوں کی جگہ پاکستان کی طرح منی بسیں  ہیں جہاں رش کے اوقات میں مرغا بنے ہوئے لوگ دیکھے جاسکتے ہیں ۔ عام طور پر مہنگائی نظر نہیں آتی لیکن ٹورسٹ ایریا میں قیمتیں کچھ مہنگی ہیں ، بس کا ٹکٹ ٹیکسی  کا کرایا کافی کم ہے ، انٹر سٹی بسوں کا بہترین انتظام ہے سبک رفتار جدید مکمل ایر کنڈیشنڈ بسیں مختصر وقفوں ہے،
کے ساتھ کہیں  بھی جانے کے لئے تیار ملتی ہیں زبان کا مسلہ زیادہ
نہیں ہے کوئی نہ کوئی کسی بھی طرح انگریزی سمجھ ہی لیتا ہے  ہے چچنی عتزا ۔۔۔ دنیا کے سات عجوبوں میں سے ایک
میکسیکو کی مایا فور بادشاہت کا عظیم نمونہ تھے ۔ یہ لوگ ریاضی میں بہت زیادہ کامل تھے اور یہ ٹیمپل تکنیکی طور پر اس دور کو موجودہ دور سے ممتاز کرتا ھے کانکن سے دو سو کلو میٹر پر ویلو درلڈ نامی شہر کے پاس چیچنی عتزا کا کمپلیکس ہے جو جدید سات عجوبوں میں سے ایک ہے ، مایا بادشاہوں نے 900 سال قبل مسیح بھاں اسے تیار کرایا تھا ، اس کی چوڑائی پونے تین سو فٹ ہے جبکہ اونچائی ساڑھے پانچ سو فٹ
یھاں سے جو بھی آواز لگائی جائے وہ دور تک چلی جاتی ہے ، شدید گرمی میں اس کی دیواریں تپ رہی ہوتی ہیں۔ یہ ریاضی کے کئی کلے کی طرز پر بنایا گیا ہے جس سے اس دور کی ریاضی میں دلچسپی اور علم اعداد پر ان کا عبور ظاہر ہوتا ہے ، آج بھی لوگ ان کے حساب پر یقین رکھتے ہیں
یھاں سے تیس  کلو میٹر دور مشہور زمانہ سنگ ہول ہے ، یہ ایک خوبصورت اور وسیع کنواں ہے جو دو سو فٹ گہرائی میں سبز پانی سے جھلملا رہا ہوتا ہے ہے ، یہاں نہانے کے لئے آپ کو لائف جیکٹ پہن  کر سیڑھیوں کے ذریے نیچے جاکر جمپ لگانی ہوتی ہے ، بہت  سارے بچے بڑے جب اس میں تیرتے ہیں تو کوئیں کے اوپر سے بہت خوبصورت نظر آتا ہے . ولدارڈ شہر بھی کالونیل زمانے کی رنگ برنگی عمارات پر مشتمل ہے ایک بہت خوبصورت چرچ بھاں مرکز میں موجود ھے  . ے
کریبین سمندر  کے لہروں کے تلے میکسیکو کا یہ خوبصورت علاقہ میکسیکو کے دیگر علاقوں سے مختلف ہیں جہاں جرائم اور منشیات کا راج ہوتا ہوگا ، مانٹریال  سے یھاں آنا مہنگا نہیں ہے ، تبلیغی جماعت اور مدنی لوگ متوجہ ؟ ہوں یہاں لاکھوں کی آبادی کے بڑے بڑے شہروں میں مسجد نام کی کوی چیز نہیں ہے حلال کا لفظ کوئی نہیں جانتا اگر چند فایو اسٹار انڈین ریسٹورینٹ نہ ہوں تو سلاد کھا کر کتنے گھنٹے کوئی رہ سکتا ہے کیونکہ اسکارف  جبہ لوٹا یہاں نہیں پایا جاتا شاید اس لیے انتہائی محفوظ شہر ہیں ۔ کوی سیکیورٹی چیکنگ نہیں ہے ایر پورٹ پر
کبھی ڈھیلی ڈھالی سیکیورٹی ہے نہ جوتے اتارنے  ہونگے نہ بیلٹ ۔ تو کب آرہے ہیں آپ

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *