پاکستان میں دو چیزیں ایسی ہیں جن کی پیداوار کبھی بند نہیں ہوتی؛ ایک مشورے اور دُوسری تقریریں۔ معیشت کی حالت چاہے جیسی بھی ہو، کانفرنس ہالوں کی رونق ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ برآمدات میں کمی کی خبر آئے تو فوراً ایسے اجلاس شروع ہو جاتے ہیں جیسے ڈالر خود دروازے پر کھڑا ہو کر کہہ رہا ہو کہ مجھے اندر بلانے کیلئے ایک فوری کمیٹی بنائی جائے۔ ماہرین گراف بناتے ہیں، مقررین مستقبل کے سنہرے خواب دکھاتے ہیں اور آخر میں ایک متفقہ فیصلہ سامنے آتا ہے کہ ’’مزید اقدامات کی ضرورت ہے‘‘۔ یُوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں سب سے کامیاب برآمدی شعبہ وہی ہے جہاں الفاظ تیار ہوتے ہیں، پیک ہوتے ہیں اور بڑے اعتماد کیساتھ عوام تک پہنچا دیئے جاتے ہیں۔
برآمدات کا سفر بھی عجیب ہے۔ ہر سال بتایا جاتا ہے کہ اب ہم نئی منڈیوں پر قبضہ کرنیوالے ہیں، مگر اعداد و شمار دیکھیں تو لگتا ہے کہ منڈیاں تو دُور، ہم ابھی اپنے ہی وعدوں کا پیچھا کر رہے ہیں۔ اجلاسوں میں ایسے منصوبے پیش کیے جاتے ہیں کہ سننے والا چند لمحوں کیلئے سمجھتا ہے کہ اگلے ہفتے پاکستان کی مصنوعات دُنیا بھر میں چھا جائیں گی۔ لیکن جب عملی میدان میں اُترتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ راستے میں بجلی، گیس، لاگت اور پالیسیوں کے کئی چیک پوسٹ موجود ہیں۔ ہماری تقریریں تو برق رفتاری سے سفر کرتی ہیں، البتہ مصنوعات کو کبھی کبھی اجازت نامے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔
ٹیکسٹائل صنعت کا ذکر ہو تو لگتا ہے پاکستان نے صبر کی ایک الگ صنعت قائم کر رکھی ہے۔ کپڑا بنانے والے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ مشین چلانے کیلئے حالات سازگار ہیں یا نہیں۔ کبھی توانائی کے مسائل راستہ روکتے ہیں، کبھی اخراجات کا بوجھ کندھے پر آ جاتا ہے اور کبھی عالمی مقابلہ اپنی جگہ امتحان بن جاتا ہے۔ اسکے باوجود صنعتکار میدان میں کھڑا ہے۔ شاید اِس لیے کہ اُس نے کپڑے کے ساتھ ساتھ برداشت بھی بنانا سیکھ لی ہے۔ اگر برداشت کی کوئی عالمی مارکیٹ ہوتی تو ہمارے صنعتکار شاید ٹیکسٹائل سے زیادہ اسی چیز کی برآمد کر رہے ہوتے۔
دُوسری طرف آئی ٹی کا شعبہ ایک ایسا کارخانہ ہے جہاں مشینوں کے بجائے دماغ چلتے ہیں اور شور کے بجائے انٹرنیٹ کام کرتا ہے۔ ایک نوجوان اپنے کمرے میں بیٹھ کر بیرون ملک کیلئے کام کرتا ہے، مگر محلے کے کچھ افراد اب بھی سمجھتے ہیں کہ یہ ’’کمپیوٹر پر موجود‘‘ ہے، یعنی شاید کوئی بہت بڑا قومی راز تلاش کر رہا ہے یا گیم میں عالمی مقابلہ جیت رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ُدنیا بدل چکی ہے؛ اب بعض اوقات ایک لیپ ٹاپ پوری فیکٹری سے زیادہ آمدنی پیدا کر دیتا ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ لیپ ٹاپ سے دھواں نہیں نکلتا، اِس لیے ہماری روایتی سوچ اسے فوراً صنعت کا درجہ دینے میں ہچکچاتی ہے۔
فیشن، فرنیچر اور ہینڈی کرافٹس کے شعبے بھی کسی خزانے سے کم نہیں، مگر ہمارے خزانے اکثر الماریوں میں بند رہ جاتے ہیں۔ پاکستانی ڈیزائنر ایسے ملبوسات تیار کرتے ہیں کہ بیرون ملک لوگ تعریف کیے بغیر نہیں رہتے، لیکن عالمی مارکیٹ تک پہنچنے کیلئے ابھی کئی دروازے کھٹکھٹانے پڑتے ہیں۔ ہمارے کاریگر ہاتھ سے ایسی چیزیں بناتے ہیں کہ مشینیں بھی شرما جائیں، مگر مسئلہ یہ ہے کہ ان مصنوعات کی تشہیر کبھی کبھی اتنی خاموش ہوتی ہے کہ خود مصنوعات کو بھی اپنی شہرت کا انتظار رہتا ہے۔ دُنیا آن لائن خریداری کر رہی ہے اور ہم ابھی تک بہترین چیز بنا کر اسے دکھانے کیلئے اچھے خریدار کی تلاش میں ہیں۔
قیمتی پتھروں کی کہانی تو ہماری معاشی حسِ مزاح کا بہترین نمونہ ہے۔ پہاڑوں سے نکلنے والے خوب صورت پتھر خام حالت میں سفر شروع کرتے ہیں اور باہر جا کر تراش خراش کے بعد ایسی شان سے واپس آتے ہیں کہ قیمت سُن کر دل بھی تراشنے کا سوچنے لگتا ہے۔ ہم نے قدرت سے قیمتی پتھر تو لے لیے، مگر ان کی قیمت بڑھانے کا ہنر ابھی سیکھ رہے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے کوئی شخص آم کا باغ لگائے، آم دُوسروں کو دے دے اور پھر بازار سے مہنگا آم کا رس خرید کر خوش ہو جائے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان کے پاس صلاحیت نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم صلاحیت کو اکثر تقریروں کی پیکنگ میں بند کر دیتے ہیں۔ فیشن، فرنیچر، جیولری، دستکاری اور آئی ٹی جیسے شعبوں میں بے شمار مواقع موجود ہیں، لیکن عالمی مارکیٹ میں کامیابی کیلئے صرف دعوے نہیں بلکہ معیار، جدت اور مستقل مزاجی بھی درکار ہوتی ہے۔ ہمیں اپنی مصنوعات کو اس طرح تیار کرنا ہوگا کہ دُنیا انہیں خریدنے کیلئے خود دروازہ کھٹکھٹائے۔ آخر دُنیا میں خریدار عموماً اچھی چیز تلاش کرتا ہے، اچھی تقریر نہیں۔
ضرورت اِس بات کی ہے کہ ہم تقریروں کی صنعت کو بند نہیں تو کم از کم محدود کریں اور اصل صنعتوں کو زیادہ وقت دیں۔ اجلاس ضرور ہوں، مگر ان کے بعد کچھ بنتا ہوا بھی نظر آئے۔ اعلانات ضرور ہوں، مگر ان کے ساتھ عمل کا پیکٹ بھی موجود ہو۔ کیونکہ عالمی منڈی میں سب سے زیادہ قیمت معیار کی ہوتی ہے، وعدوں کی نہیں۔ اگر ہم نے یہ راز سمجھ لیا تو پاکستان صرف تقریریں نہیں بلکہ ٹیکسٹائل، ٹیکنالوجی، دستکاری اور تخلیقی مصنوعات بھی برآمد کریگا۔ ورنہ خدشہ یہی ہے کہ آنیوالے برسوں میں ہماری سب سے بڑی برآمدی کامیابی یہی رہے گی کہ ہم نے تقریروں کی برآمدی صنعت کو دُنیا کا سب سے منظم شعبہ بنا دیا ہے۔














Post your comments