اخوند سالاک اور پیریستان کی بدلتی ہوئی تاریخ تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

تاریخ کی بڑی داستانیں ہمیشہ شاہی ایوانوں سے جنم نہیں لیتیں؛ بعض کردار دُور افتادہ پہاڑوں میں ایسی تاریخ رقم کرتے ہیں جن کی بازگشت صدیوں تک سنائی دیتی ہے۔اطالوی ماہرِ بشریات البرٹو ایم۔ کاکوپارڈو کے تحقیقی مقالے ’’فینس آف پیریستان: دی اسلامائزیشن آف دی کافِرز اینڈ دئیر ڈومیسٹیکیشن‘‘ میں پیریستان کی مذہبی اور تاریخی تبدیلیوں کا مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ اسی مقالے میں حضرت اخوند سالاکؒ سترہویں صدی کے ایک نمایاں مذہبی رہنما کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ مصنف کے مطابق 1660عیسوی کی دہائی میں وہ بونیر، ہزارہ، پکھلی، کابلگرام اور چلاس میں مذہبی مہمات کے حوالے سے سرگرم تھے اور اُنکا کردار دریائے سندھ (اباسین) کے پہاڑی خطے میں اسلام کے فروغ سے جڑا ہوا تھا۔
تقریباً پندرہ سو عیسوی میں کابلگرام سے چلاس تک دریائے اباسین کا بالائی خطہ بڑی حد تک اُن پہاڑی برادریوں کا مسکن تھا جنہیں مصنف پیرستانی کافر دُنیا سے وابستہ قرار دیتے ہیں۔ یہاں اسلامائزیشن کوئی اچانک واقعہ نہیں بلکہ کئی نسلوں تک جاری رہنے والا طویل تاریخی عمل تھا۔ اِسی عمل کے ایک اہم مرحلے میں اخوند سالاک کا کردار سامنے آتا ہے۔ اُنہوں نے ایسے علاقوں کا رُخ کیا جہاں بلند پہاڑ، دشوار گزار راستے، گہری وادیاں اور دریائے اباسین کا تند بہاؤ ہر مہم کو ایک امتحان بنا دیتے تھے۔ ایسے ماحول میں مسلسل سرگرمی اُن کے عزم اور استقلال کو نمایاں کرتی ہے۔
البرٹو کے مطابق اخوند سالاک کی مہمات کے بارے میں معلومات اگرچہ مکمل نہیں، مگر انہیں نظرانداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اُن کی اپنی تحریریں محفوظ نہیں رہیں اور اُن کے شاگرد ملا مست کی مرتب کردہ مہمات کی تاریخ کا معلوم نسخہ بھی ضائع ہوگیا۔ اسکے باوجود فارسی ماخذ، مقامی روایتیں اور بعد کے تاریخی شواہد اُنکی سرگرمیوں کا ایک قابلِ ذکر خاکہ پیش کرتے ہیں۔ اِنہی شواہد کی بنیاد پر معلوم ہوتا ہے کہ اُنہوں نے بونیر، ہزارہ، پکھلی، کابلگرام اور چلاس میں کافروں کیخلاف مہمات میں حصہ لیا۔ یُوں وہ محض واعظ نہیں بلکہ ایک سرگرم مذہبی رہنما کے طور پر سامنے آتے ہیں۔
 اخوند سالاک کی جدوجہد صرف وعظ و تبلیغ تک محدود نہیں تھی۔ تاریخی روایات میں وہ ایسے مذہبی پیشوا کے طور پر سامنے آتے ہیں جو اپنے عقیدے کیلئے عملی میدان میں بھی اُترے۔ ایک روایت کے مطابق چلاس کی سمت جاتے ہوئے اُن کے لشکر کو دریا عبور کرنے کے لیے نہ کشتی ملی نہ تیار بیڑا؛ چنانچہ درختوں اور جھاڑیوں کی شاخوں سے عارضی گزرگاہ تیار کی گئی اور جنگجو دریا پار پہنچے۔یہ روایت مزید تحقیق کی محتاج ہے، مگر اس سے اُس دور کی دشواری اور اخوند سالاک کی مہمات کی نوعیت کا اندازہ ضرور ہوتا ہے۔
اس تاریخی مطالعے میں اخوند سالاک کی سرگرمیوں کو پیرستان کی اسلامائزیشن کے وسیع تر عمل کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ کابلگرام سے چلاس تک مذہبی تبدیلی ایک طویل عرصے میں آگے بڑھی اور اٹھارہویں صدی کے دُوسرے نصف تک اس میں نمایاں پیشرفت ہوئی۔ اخوند سالاک اسی تاریخی مرحلے کے اُن کرداروں میں شامل تھے جنہوں نے مذہبی اثر کو پہاڑی معاشروں تک پہنچانے کیلئے عملی مہمات اختیار کیں۔ ان کے لیے دین کی دعوت صرف الفاظ تک محدود نہیں تھی بلکہ دشوار گزار علاقوں میں پہنچنا، مشکلات برداشت کرنا اور اپنے مقصد کیلئے میدانِ عمل میں اُترنا بھی اس جدوجہد کا حصہ تھا۔
 کاکوپارڈو کے تحقیقی مقالے میں اخوند سالاک کے داریل میں قتل ہونے کی ایک مقامی روایت کا ذکر ملتا ہے۔ تاہم، اس روایت کو قطعی تاریخی حقیقت قرار دینا مشکل ہے، کیونکہ مغلیہ تواریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اخوند سالاک 1667ء تک زندہ اور سرگرم تھے۔ بعض مؤرخین نے اُن کی وفات 1658ء میں بھی لکھی ہے، لیکن بعد کے تاریخی قرائن کی روشنی میں یہ تاریخ بھی درست معلوم نہیں ہوتی۔ اِس لیے داریل میں اُن کے مارے جانے کی روایت کو بھی حتمی تاریخی واقعے کے بجائے ایک مقامی روایت کے طور پر دیکھنا زیادہ محتاط ہوگا۔
اخوند سالاک کو صرف جنگی مہمات کے حوالے سے دیکھنا بھی اُن کی شخصیت کو محدود کردے گا۔ اُس دور میں مذہبی، قبائلی اور سیاسی معاملات ایک دُوسرے سے پوری طرح جدا نہیں تھے، چنانچہ مذہبی رہنماء کا اپنے پیروکاروں کیساتھ میدانِ عمل میں آنا اُس زمانے کے حالات کا حصہ تھا۔ اخوند سالاک بھی اسی ماحول میں سرگرم تھے۔ دستیاب مواد میں وہ ایک ایسے مذہبی پیشوا کے طور پر سامنے آتے ہیں جنہوں نے اپنے یقین اور دینی مقصد کیلئے عملی جدوجہد اختیار کی۔
دریائے اباسین کے پہاڑی علاقوں کی تاریخ کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کے بہت سے اہم کرداروں کے بارے میں بنیادی تحریری مواد محفوظ نہیں رہا۔ اخوند سالاک بھی اسی تاریخی خلا کا شکار ہیں۔ اُن کے شاگرد کی مرتب کردہ مہمات کی تاریخ کا ضائع ہوجانا ایک بڑا نقصان ہے، مگر مختلف فارسی ماخذ اور مقامی روایتوں میں ان کا نام باقی ہے۔ زیرِ بحث تحقیق کی اہمیت یہی ہے کہ اس نے ان منتشر شواہد کو پیرستان کی اسلامائزیشن کی بڑی تصویر میں جگہ دی۔
اخوند سالاک کی داستان کو ’’فینس آف پیریستان‘‘ کی روشنی میں پڑھا جائے تو یہ صرف ایک فرد کی زندگی نہیں بلکہ دریائے اباسین کے پہاڑی معاشروں میں رونما ہونیوالی ایک بڑی مذہبی اور تہذیبی تبدیلی کی داستان بھی بن جاتی ہے۔ اُن کی مہمات بتاتی ہیں کہ پہاڑوں تک مذہبی اثر پہنچانے کا عمل کس قدر صبر، حوصلے اور عملی جدوجہد کا تقاضا کرتا تھا۔ دستیاب شواہد مکمل نہیں، لیکن اتنے ضرور ہیں کہ اخوند سالاک کو دریائے اباسین کے پہاڑوں کی مذہبی تاریخ میں مزید تحقیق کے مستحق ایک اہم تاریخی کردار کے طور پر یاد رکھا جائے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *