ایران اورعراق کے وزراءخارجہ کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہواہے جس میں خطے کی تازہ ترین صورتحال پرتبادلہ خیال کیا گیاجبکہ نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے عباس عراقچی کو اسلام آبادکا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے۔ حوثی جنگجوؤں کی دھمکی کے بعد سعودی عرب کے 6سپر ٹینکرز نے گزشتہ چند دنوں میں خلیج عدن میں اپنا راستہ بدل لیااورجنوبی افریقہ کی طرف جارہے ہیں جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کے اوپر پرواز کرنے والے امریکی ایم کیو نائن ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ کیاہے ‘صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی قیادت کومنافق قراردیتے ہوئے کہاہے کہ تہران کے ساتھ مذاکرات اس وقت جاری ہیں اور یہ ان کیلئے اچھی ڈیل پر دستخط کا آخری موقع ہے ‘ معاہدے یا مکمل سرینڈرتک بحری ناکہ بندی جاری رہے گی ‘معاہدہ نہ کیاتوایران کو تباہی کا سامنا کرنا پڑیگا‘ ایران کوہرمز سے گزرنے پر فیس وصول کرنے کی اجازت نہیں دیں گے‘دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے صدرٹرمپ کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس وقت واشنگٹن سے کوئی مذاکرات نہیں ہورہے البتہ آبنائے ہرمز کے انتظام پر عمان کے ساتھ بات چیت میں پیشرفت ہوئی ہے ‘آبی گزرگاہ کبھی بھی جنگ سے پہلے والی حالت میں واپس نہیں آئے گی‘ایران اور امریکا کے درمیان ثالث پاکستان ہی ہے‘امریکا کی جنگ پورے خطے کے خلاف ہے‘ برطانیہ‘بلغاریہ اور یوکرین نے جنگ میں شامل نہ ہونےکی یقین دہانی کرائی ہےجبکہ صدر مسعود کاکہناہے کہ ایران کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا تاہم اپنی سلامتی اور سرزمین کے دفاع کیلئے بھرپور اور پوری طاقت کیساتھ مقابلہ کرےگا۔ پاسداران کے کمانڈر کا کہنا ہے کہ جنگجو کسی بھی خطرے کا فیصلہ کن جواب دینے کے لیے تیار ہیں‘ادھرامریکا ایران معاہدے کی امیدپر تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ اسٹاکس میں پھر تیزی دیکھنے میں آئی ہے‘امریکا نے پیٹریاٹ اور تھاڈ انٹرسیپٹر میزائلوں کے پرزہ جات کی پیداوار میں تیزی لانے کے لیے لاک ہیڈ مارٹن اور نارتھروپ گرومین کے ساتھ تین ارب ڈالر سے زائد کا معاہدہ کر لیا ہے۔پنٹاگون کے مطابق اس معاہدے سے پیٹریاٹ میزائلوں کی پیداوار تین گنا اور تھاڈ سسٹمز کی پیداوار چار گنا بڑھ جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کاکہناتھاکہ اس وقت ہرمز کے بارے میں ایک معاہدہ موجود ہے اور ایران کے جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونے کے بارے میں بھی ایک معاہدہ ہوجائے گا‘ظاہر ہے کہ وہ حملے کا نشانہ نہیں بننا چاہتے۔ وہ حملے کی شدت سے آگاہ تھے کیونکہ وہ اس کی تیاریاں دیکھ رہے تھے۔ اب ہم ان سے بات کر رہے ہیں‘ بعدازاں ایران کی جانب سے مذاکرات کی تردید کے بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر سخت بیان جاری کیااور اعلان کیاکہ جب تک کوئی معاہدہ یا مکمل ہتھیار ڈالنے کا عمل طے نہیں پاتا امریکی ناکہ بندی جاری رہے گی۔ٹرمپ نے ایرانی رویے کو دوغلاپن قراردیتے ہوئے کہاکہ چاہے ایران تسلیم کرے یا نہیں ہم درحقیقت ایک ایسے مسئلے کے حل کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو انہوں نے خود کئی دہائیوں سے پیدا کیا ہے ۔ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ ایران نے مذاکرات کے لیے کہا تھا لیکن اب وہ ہرمز پر کنٹرول کے بارے میں اپنا روایتی لایعنی پروپیگنڈا کر رہا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ مجتبی خامنہ ای کے سینئر مشیر میجر جنرل محسن رضاعی نے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں کسی دوسرے رستہ کی اجازت نہیں دے گا۔ ایران اپنے موقف پر قائم ہے کہ ہرمز امریکا کی شرائط پر دوبارہ نہیں کھلے گی۔
ایک انٹرویو میں محسن رضاعی نے کہا کہ اگر جنگی جہاز بھی لایا گیا تو اسے بھی تباہ کردیا جائے گا۔ اگر امریکا نے فوج اتاری تو وہ بھی نشانہ ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ بہت سے جہاز ایران کی وارننگ پر واپس مڑ رہے ہیں جبکہ ایسے جہاز جنہیں امریکا ہرمز میں دھکیلتا ہے وہ نقصان اٹھاتے ہیں اور پھر خود ہی واپس مڑ جاتے ہیں۔
سینئر مشیر نے انکشاف کیا کہ ایران نے یوکرین میں تین اہداف پر حملوں کی تیاری کرلی تھی تاہم یوکرین نے فون کرکے ایرانی جہاز پر حملے کو اپنی غلطی قرار دیدیا جس پر حملے کا ارادہ ترک کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت یوکرین کے دعوے کا جائزہ لے رہا ہے تاہم واضح کیا کہ یوکرین کو ہرصورت نتائج بھگتنا ہوں گے، یوکرین کو ہر صورت قیمت چکانا ہوگی۔
ایرانی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے متعلق نئے بحری راستے پر معاہدے کے قریب ہیں۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ عمان کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، آبنائے ہرمز کے لیے عارضی محفوظ راستے پر عمان کے ساتھ کام جاری ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ زیربحث نئے روٹ میں ایک گزرگاہ ہوگی، جس میں داخلے، اخراج کے لیے الگ راستے ہوں گے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی بحالی کے لئے عمان کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچ جانا کافی نہیں، امریکی جارحیت جاری رہی تو صورتحال اسی طرح برقرار رہے گی۔















Post your comments