ملا مست، اخوند سالاک اور ہندوکش کی تاریخی داستان تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

شمالی پاکستان میں اسلام کی آمد و توسیع کی تاریخ میں اخوند سالاک ایک اہم مگر کم معروف شخصیت ہیں۔ اُن کے بارے میں نمایاں تحریری شہادت ملا مست زمند کی کتاب ’’سلوک الغزاۃ‘‘ میں محفوظ ہے۔ جرمن محقق وولف گانگ ہولز ورتھ نے ’’روٹس آف پیریستان‘‘ کے حصہ دوئم میں شامل اپنے مقالے ’’ایسٹرن ہندوکش اینڈ قراقرم، 1000 ٹو 1880‘‘ میں اسی ماخذ سے استفادہ کرتے ہوئے اخوند سالاک کی سرگرمیوں کو سترہویں صدی کے وسط میں اسلام کی توسیع کے تاریخی تناظر میں بیان کیا ہے۔

ملا مست زمند کی ’’سلوک الغزاۃ‘‘ کی اہمیت اِس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ مصنف کا اخوند سالاک سے روحانی تعلق تھا۔ ہولز ورتھ کے مطابق ملا مست، اخوند غازی سالاک کے نقشبندی پیرو (بیعتِ نقشبندیہ سے منسلک) تھے۔ ملامست کی کتاب کا متن پشتو اور فارسی پر مشتمل ہے اور اس میں ان مہمات کا ذکر ملتا ہے جو مسلم پشتون علاقوں سے متصل پہاڑی خطوں کی طرف کی گئیں۔ اس نسبت کے باعث یہ روایت اخوند سالاک کے عہد کے مذہبی اور عسکری ماحول کو سمجھنے کا اہم ذریعہ بنتی ہے۔

ہولز ورتھ کے مطابق ملا مست کی بیان کردہ مہمات کا تعلق تقریباً 1640ء اور 1650ء کی دہائیوں سے ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب یوسف زئی اور دیگر پشتون گروہوں کی سرگرمیاں اپنے معروف علاقوں سے آگے پہاڑی خطوں تک پھیل رہی تھیں۔ اخوند سالاک اس منظرنامے میں مذہبی قائد کے طور پر سامنے آتے ہیں، جن سے وابستہ غازی مختلف علاقوں کی طرف مہمات کرتے تھے۔ جدید تحقیق نے ان سرگرمیوں کو سترہویں صدی میں اسلام کی توسیع کے وسیع تر عمل سے مربوط کیا ہے۔

سلوک الغزاۃ میں ان مہمات کے دوران متعدد مقامات کے نام محفوظ ہوئے ہیں۔ ہولز ورتھ نے کابل میں محفوظ مخطوطے کے صفحہ 61 کے حوالے سے کنڑ (کونار)، ٹنک، اباسندھ، کوہستان، غازی کوٹ، بند تارکور، نہر ٹاؤ، جلانداری، تاروکنگی، کنگاشال، اشکال، دیارکش، نراج، کربلا، کندی گل ، کانت، کُکراکُش، کینڈے ( کندے)، شنگارور، نبرکوٹ، پاکرتال،کنگال اور اجروٹلی سمیت کئی نام درج کیے ہیں۔ بیشتر مقامات کی جدید شناخت ابھی قطعی نہیں، تاہم یہ فہرست مہمات کے وسیع جغرافیائی دائرے کی نشاندہی کرتی ہے۔

اسی روایت میں ایک مقام تک پہنچنے کیلئے چار دن کے سفر کا ذکر بھی ملتا ہے۔ ہولز ورتھ نے اس مقام کی شناخت پٹن سے کی اور اسے دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر واقع قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ شمال مشرق کی جانب ان مقامات میں سب سے دور ہے جس کی جدید جغرافیے سے شناخت ممکن ہوئی ہے۔ اس مختصر شہادت سے اندازہ ہوتا ہے کہ اخوند سالاک سے وابستہ مہمات ہندوکش کے مسلم علاقوں سے آگے بڑھ کر دریائے سندھ کے بالائی خطے تک پہنچ چکی تھیں۔

اخوند سالاک کا کردار اس روایت میں صرف روحانی رہنما کا نہیں بلکہ غازی مہمات سے وابستہ قائد کا بھی ہے۔ ملامست زمند کی ’’سلوک الغزاۃ‘‘ میں ان کے ساتھیوں کو غازیوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور سرگرمیوں کا بیان غزوات اور فتوحات کے تناظر میں آتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذہبی وابستگی اور عسکری قوت ایک دوسرے سے مربوط تھیں۔ یہی پہلو اخوند سالاک کو شمالی علاقوں کی مذہبی تاریخ میں ایک نمایاں کردار بناتا ہے۔

تاہم ماخذ کی حدود کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ سلوک الغزاۃ میں مختلف علاقوں کی مہمات اور فتوحات کا ذکر ہے، لیکن ہر مقام کے بارے میں مقامی حکمرانوں، جنگوں کی مکمل تفصیلات یا تبدیلیِ مذہب کے واقعات بیان نہیں کیے گئے۔ اس لیے کتاب کی شہادت سے اخوند سالاک کی مہمات اور ان کے جغرافیائی پھیلاؤ کو واضح کیا جا سکتا ہے، جبکہ ان واقعات کو ’’اسلام کی توسیع‘‘ کے وسیع تر تاریخی عمل میں رکھنا جدید تحقیق کی تعبیر ہے۔

اخوند سالاک کے شاگرد ملا مست کی روایت میں محفوظ مقامات کی فہرست محض جغرافیائی ناموں کا مجموعہ نہیں۔ یہ اُس دور کے مذہبی، قبائلی اور عسکری روابط کا سراغ بھی دیتی ہے۔ مسلم پشتون علاقوں سے مشرقی اور شمال مشرقی پہاڑی خطوں کی طرف مہمات اِس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ سترہویں صدی کا ہندوکش مختلف معاشروں کے درمیان رابطے کا فعال خطہ تھا۔ اخوند سالاک اسی متحرک تاریخی ماحول کے ایک اہم کردار کے طور پر سامنے آتے ہیں۔

ہولز ورتھ نے اس روایت کو مشرقی ہندوکش اور قراقرم کی طویل تاریخی تشکیل کے تناظر میں پرکھا ہے۔ اُن کے مقالے کے صفحات 537 تا 539 اور حاشیہ 83 میں ملا مست کی سلوک الغزاۃ کے حوالے اخوند سالاک سے متعلق بحث کی ماخذی بنیاد واضح کرتے ہیں۔ اس طرح ایک فارسی و پشتو روایت جدید تاریخی تحقیق میں سترہویں صدی کے مذہبی پھیلاؤ کو سمجھنے کا ذریعہ بنتی ہے اور مقامی تاریخ کو وسیع علاقائی تناظر سے جوڑتی ہے۔

اخوند سالاک کی داستان ابھی مکمل طور پر دریافت نہیں ہوئی۔ سلوک الغزاۃ میں محفوظ ناموں، راستوں اور واقعات کی مزید مخطوطاتی، لسانی اور جغرافیائی تحقیق اس عہد کی تصویر کو زیادہ واضح کر سکتی ہے۔ دستیاب شہادت سے بہرحال یہ سامنے آتا ہے کہ سترہویں صدی کے وسط میں اخوند سالاک ایک مذہبی قائد کی حیثیت سے ایسی غازی مہمات سے وابستہ تھے جن کا دائرہ دریائے سندھ کے مغربی کنارے تک پہنچا۔ ملا مست زمند کی روایت اسی لیے شمالی پاکستان کی تاریخ کا قیمتی ماخذ ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *