بٹل اور آلائی: 1877ء کا تاریخی معرکہ تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

صدی کے آخری ربع میں مانسہرہ کی وادیٔ کونش کا بٹل محض ایک پہاڑی گاؤں نہیں تھا۔ 1907ء کے ’’گزیٹیئر آف دی ہزارہ ڈسٹرکٹ‘‘ کے مطابق بٹل کونش وادی کے بالائی حصے کے قریب ایک بڑا گاؤں تھا، جہاں بارڈر ملٹری پولیس کی چوکی بھی قائم تھی۔ یوں بٹل تک برطانوی سرکار کی عملداری اور انتظامی گرفت موجود تھی، جبکہ اس کے آگے پہاڑی راستوں کے پار آلائی جیسے قبائلی علاقے واقع تھے۔ یہی سرحدی حیثیت بٹل کو ایک حساس مقام بناتی تھی۔

اُس زمانے میں برطانوی زیرِ انتظام ہزارہ اور آزاد قبائلی علاقوں کے درمیان آج جیسی واضح سرحد نہیں تھی۔ کہیں سرکاری چوکی تھی، کہیں انتظامی حدود ختم ہوجاتی تھیں اور آگے قبائلی خودمختاری شروع ہوجاتی تھی۔ کونش، بھوگڑمنگ، نندہار اور آلائی اسی پیچیدہ سرحدی جغرافیے کا حصہ تھے۔ بٹل ایک طرح سے اس سرحدی پٹی کا اہم دروازہ تھا، جہاں سرکار کی پولیس اور انتظام موجود تھا، مگر پہاڑی راستوں کے دوسری طرف قبائلی جرگہ اور مقامی سرداری زیادہ طاقتور نظام تھا۔

بٹل اور آلائی کے درمیان کشیدگی اچانک پیدا نہیں ہوئی تھی۔ 1868ء میں بھوگڑمنگ میں جی۔ بی۔ اسکاٹ کی سربراہی میں کام کرنیوالی برطانوی سروے پارٹی پر آلائی والوں نے حملہ کیا۔ سرکار نے کارروائی کا ارادہ کیا، مگر فوجی مہم مؤخر کرکے 500 روپے جرمانہ عائد کیا، جو ادا نہ ہوا۔ 1874ء میں آلائی والوں نے برطانوی علاقے میں کوہستانیوں پر حملہ کیا، جس کے بعد بعض افراد گرفتار اور تقریباً چار ہزار مویشی ضبط کیے گئے۔ یوں 1877ء تک پرانے تنازعات موجود تھے۔

اسی ماحول میں آلائی کے بااثر سردار ارسلہ خان کا کردار نمایاں ہوا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق بٹل پر حملے کے پس منظر میں ارسلہ خان اور گڑھی حبیب اللہ کے سمندر خان کی رقابت بھی اہم تھی۔ سمندر خان برطانوی علاقے میں رہتا تھا، لیکن نندہار میں اُسکی بڑی جائیدادیں تھیں۔ زمین، اثرورسوخ اور سرداری کے تنازعات نے معاملے کو پیچیدہ کردیا۔ چنانچہ بٹل پر حملہ صرف قبائلی غصے کا نتیجہ نہیں تھا؛ اس میں مقامی رقابت اور برطانوی سرحدی سیاست بھی شامل تھی۔

پھر 16 نومبر 1877ء کو تقریباً تین سو مسلح آلائی والے بٹل پر حملہ آور ہوئے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق ارسلہ خان بھی حملہ آوروں کے ساتھ موجود تھا۔ بستی میں حملہ آوروں نے دو ہندو باشندوں کو قتل کیا، بارہ افراد کو اغوا کرلیا اور بٹل گاؤں کو آگ لگا دی۔ مقامی مالکان نے لوٹی جانیوالی املاک کی مالیت تقریباً 37 ہزار روپے بتائی۔ اُس زمانے میں یہ ایک بہت بڑی رقم تھی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حملہ صرف جانی نقصان تک محدود نہیں تھا۔

حملہ آور بھی مکمل طور پر بے نقصان واپس نہیں گئے۔ سرکاری ریکارڈ میں تقریباً 13 آلائی حملہ آوروں کی ہلاکت اور 12 کی گرفتاری کا ذکر ہے۔ تاہم دستیاب دستاویزات بٹل کے اندر ہونیوالی جھڑپ کی مکمل عسکری تفصیل نہیں دیتیں، اس لیے اسے باقاعدہ جنگ کے بجائے ایک بڑے مسلح ریڈ کہنا زیادہ درست ہوگا۔ بہرحال قتل، اغوا، آتش زنی اور لوٹ مار نے اس واقعے کو کونش کی تاریخ کا ایک اہم اور خونیں باب بنا دیا۔

بٹل کا واقعہ یہیں ختم نہ ہوا۔ 2 دسمبر 1877ء کو کونش کی بستی نِل بند (نیل بنڑھ) پر حملہ ہوا، جس میں دو دیہاتی قتل اور ایک زخمی ہوا۔ پھر 9 دسمبر کو جبڑ پر حملہ کیا گیا، جہاں پانچ دیہاتی زخمی ہوئے اور ایک عورت اغوا کرلی گئی۔ یوں بٹل کا حملہ ایک الگ واقعہ نہ رہا بلکہ کونش اور ملحقہ علاقوں میں مسلسل سرحدی بحران کی صورت اختیار کرگیا۔ برطانوی حکومت کیلئے اب یہ صرف امن و امان نہیں بلکہ اپنی عملداری کا مسئلہ بھی تھا۔

برطانوی حکومت نے جوابی کارروائی میں آلائی کی ناکابندی یا بلاکیڈ کردی۔ ہزارہ میں آلائی وال اور اُنکے مویشی پکڑے جانے لگے تاکہ آلائی پر دباؤ ڈالا جاسکے۔ مگر پہاڑی جغرافیہ اور آلائی کی نسبتاً خود کفیل معیشت کے باعث یہ پالیسی فوری فیصلہ کن ثابت نہ ہوئی۔ آلائی برطانوی علاقے پر زیادہ منحصر نہیں تھا، جبکہ اسی زمانے میں افغانستان کی جنگ نے بھی برطانوی فوجی وسائل کو مصروف رکھا ہوا تھا۔ چنانچہ دباؤ کے ساتھ مذاکرات کا راستہ بھی اختیار کیا گیا۔

اس کشمکش کا اہم باب 1880ء میں سامنے آیا، جب آلائی کے جرگے نے بٹل حملے میں اغوا کیے گئے ہندو قیدیوں میں سے متعدد افراد واپس کردیئے۔ 1881ء میں آلائی والوں نے برطانوی قید میں موجود بعض افراد کی رہائی کیلئے 500 روپے ادا کیے۔ تاہم سرکار نے بٹل ریڈ کیلئے 5 ہزار روپے جرمانہ، 1868ء کے سروے واقعے کا 500 روپے جرمانہ اور ارسلہ خان سے ذاتی طور پر سرکار کی اطاعت قبول کرنے کی شرط بھی رکھی۔ یہ شرائط پوری نہ ہوسکیں اور تنازع مکمل طور پر ختم نہ ہوا۔

بٹل اور آلائی کی 1877ء کی داستان دراصل اس سرحدی دُنیا کی تصویر ہے جہاں ایک طرف برطانوی سرکار کی چوکی، پولیس اور قانون تھا اور دوسری طرف قبائلی خودمختاری، جرگہ اور سرداری کا نظام۔ بٹل اسی سرحد پر کھڑا ایک اہم قصبہ تھا، جس نے دونوں دنیاؤں کے درمیان کشمکش کا بوجھ اُٹھایا۔ 16 نومبر 1877ء کا حملہ اسی تناؤ کا خونیں اظہار تھا۔ آج بٹل آباد ہے، مگر اس کی مٹی میں 1877ء کی وہ تاریخ بھی محفوظ ہے جو وقت کے ساتھ دھندلا گئی۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *