مصنوعی ذہانت سے پہلے کا اصلی ڈراما از قلم: نجیم شاہ

دُنیا واقعی عجیب جگہ ہے۔ کبھی اِنسان چاند پر پہنچ کر بھی حیران ہوتا ہے، کبھی اپنی جیب میں موجود موبائل سے پوچھتا ہے کہ ’’بھائی، آج بارش ہوگی یا نہیں؟‘‘ اور کبھی 1770ء میں ایک لکڑی کی الماری دیکھ کر یقین کر لیتا ہے کہ اندر بیٹھا پگڑی والا پتلا شطرنج کا بادشاہ ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آج ہم دھوکا کھانے کیلئے انٹرنیٹ کھولتے ہیں، اُس زمانے میں لوگ دربار کا رُخ کرتے تھے۔ آج کسی چیز کو وائرل ہونے کیلئے لاکھوں فالوورز چاہیے ہوتے ہیں، اُس وقت ایک پُراسرار الماری، ایک عجیب سا پتلا اور چند حیران چہرے کافی تھے۔ یعنی اُس دور کا سوشل میڈیا دربار تھا اور لائیکس کی جگہ تالیاں بجتی تھیں۔
1770ء میں وولف گینگ فان کیمپلن نے آسٹریا کی ملکہ ماریہ تھیریسا کے دربار میں ایک ایسی مشین پیش کی جس نے لوگوں کے ہوش اُڑا دیئے۔ مشین کیا تھی، لکڑی کی ایک بڑی الماری تھی جس کے اوپر پگڑی پہنے ایک ترک نما پتلا بیٹھا تھا۔ سامنے شطرنج کی بساط رکھی تھی اور اعلان ہوا کہ یہ صاحب انسانوں سے مقابلہ کرینگے۔ اُس زمانے کے لوگ خوش ہو گئے کہ شاید اب اِنسان کے بعد فرنیچر بھی ترقی کی دوڑ میں شامل ہو گیا ہے۔ اگر اُس وقت ٹی وی چینلز ہوتے تو شاید بریکنگ نیوز چل رہی ہوتی: ’’تاریخ میں پہلی بار الماری نے عقل حاصل کر لی، میزیں بھی قطار میں کھڑی ہیں!‘‘
کھیل شروع ہونے سے پہلے بڑی شان سے الماری کے دروازے کھولے جاتے۔ اندر پہیے، تاریں، پیچ اور مختلف پرزے دکھائے جاتے تاکہ لوگ مطمئن ہو جائیں کہ معاملہ سو فیصد مشینی ہے۔ اِنسان بھی کمال کی مخلوق ہے؛ اسے اگر چند گھومتے ہوئے پہیے دکھا دیں تو فوراً سمجھ لیتا ہے کہ سائنس نے دُنیا فتح کر لی ہے۔ آج بھی یہی ہوتا ہے، بس فرق یہ ہے کہ اب پہیوں اور پیچوں کی جگہ مشکل انگریزی الفاظ، چمکتی ہوئی اسکرینیں اور شاندار پریزنٹیشنز نے لے لی ہے۔ کوئی کہہ دے ’’یہ جدید ترین ٹیکنالوجی ہے‘‘، تو کئی لوگ فوراً سر ہلا دیتے ہیں، جیسے عقل نے بھی کہا ہو: ’’جناب، آپ کام جاری رکھیں، میں ذرا آرام کرتی ہوں۔‘‘
پھر شطرنج شروع ہوتی اور لکڑی کا ترک بڑے اعتماد سے ہاتھ بڑھاتا، مہرہ اُٹھاتا اور ایسی چال چلتا کہ سامنے بیٹھا کھلاڑی اپنی عقل کے ساتھ ساتھ اپنی قسمت بھی سوچنے لگتا۔ لوگ حیران تھے کہ آخر یہ لکڑی کا آدمی اِتنا ذہین کیسے ہو گیا؟ اصل راز یہ تھا کہ ذہانت لکڑی میں نہیں، لکڑی کے پیچھے چھپی ہوئی تھی۔ الماری کے اندر ایک ماہر شطرنج باز بیٹھا ہوتا جو خاموشی سے پوری بازی چلا رہا تھا۔ یوں دُنیا کو معلوم ہوا کہ کبھی کبھی مشین کی آواز کے پیچھے اِنسان کی کھانسی بھی چھپی ہو سکتی ہے، بس شرط یہ ہے کہ کھانسی ذرا احتیاط سے کی جائے۔
اس جعلی ذہانت نے اپنے دور کے بڑے بڑے ناموں کو بھی پریشان کیا۔ بینجمن فرینکلن اور نپولین بوناپارٹ جیسے لوگ بھی اس کے سامنے بیٹھے۔ ذرا سوچیں، اگر اُس زمانے میں سوشل میڈیا ہوتا تو کیا منظر ہوتا! سرخیاں ہوتیں: ’’لکڑی کے روبوٹ نے اِنسانوں کو چیلنج کر دیا‘‘، ’’ہرین پریشان، اب الماریاں نوکریاں چھینیں گی‘‘، اور ’’کل کو کرسی بھی تقریر کریگی!‘‘ پھر جب راز کھلتا تو وہی لوگ کہتے: ’’ہمیں تو پہلے دِن سے شک تھا!‘‘ حالانکہ اُن کا شک بھی ہمیشہ حقیقت سامنے آنے کے بعد ہی جاگتا ہے، جیسے بعض لوگوں کی عقل بھی خبر نشر ہونے کے بعد بیدار ہوتی ہے۔
1836ء میں مشہور ادیب ایڈگر ایلن پو نے بھی اس معمے کو پرکھا اور اندازہ لگا لیا کہ یہ مشین خود نہیں کھیل سکتی، اس کے اندر ضرور کوئی اِنسان موجود ہے۔ اگر پو آج کے دور میں ہوتے تو شاید یوٹیوب پر ویڈیو بناتے: ’’پانچ نشانیاں کہ آپ کی اے آئی دراصل اے آئی نہیں!‘‘ پھر نیچے تبصروں میں کچھ لوگ کہتے: ’’کیا زبردست تحقیق ہے!’‘‘اور کچھ فوراً جواب دیتے: ’’آپ ترقی کے دشمن ہیں، آپکو جدید ٹیکنالوجی سے مسئلہ ہے!‘‘ کیونکہ ہر دور میں حقیقت بتانے والا شخص پہلے شک کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے۔
تقریباً 84 سال تک ’’دی ترک‘‘ نے یورپ اور امریکا میں لوگوں کو حیران رکھا، یہاں تک کہ 1854ء میں فلاڈیلفیا کے ایک عجائب گھر میں آگ لگنے سے یہ مشین ختم ہو گئی۔ لیکن اس کی کہانی آج بھی زندہ ہے، کیونکہ اِنسان کو صرف نئی چیز پسند نہیں، نئی چیز پر حیران ہونا بھی پسند ہے۔ پہلے لوگ الماری کے اندر چھپے شطرنج باز کو نہیں دیکھ پاتے تھے، آج کبھی کبھی لاکھوں ویوز کے نیچے چھپی حقیقت نظر نہیں آتی۔ فرق صرف اِتنا ہے کہ پہلے لوگ کہتے تھے ’’دروازے کھول کر دکھائے ہیں‘‘، آج کہتے ہیں ’’اتنے لائیکس آئے ہیں، جھوٹ کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘
حقیقت یہ ہے کہ ’’دی ترک‘‘ مصنوعی ذہانت نہیں بلکہ انسانی ذہانت کا ایک شاندار مذاق تھا۔ اس نے ثابت کیا کہ ُدنیا کی سب سے طاقتور مشین اِنسان کا دماغ ہے، اور سب سے دلچسپ کمزوری اِنسان کا جلدی یقین کر لینا۔ ٹیکنالوجی پر یقین ضرور کیجیے، مگر اتنا بھی نہیں کہ اپنی عقل کو چھٹی پر بھیج دیں۔ کیونکہ خطرہ اُس مشین سے نہیں جو سوچنے لگے، خطرہ اُس اِنسان سے ہے جو سوچنا چھوڑ دے۔ لہٰذا اگلی بار کوئی دعویٰ کرے کہ ’’یہ روبوٹ دنیا بدل دے گا‘‘، تو ذرا مسکرا کر دیکھ لیجیے گا… کہیں اس روبوٹ کے پیچھے بھی کوئی صاحب چائے کا کپ ہاتھ میں لیے بیٹھے نہ ہوں اور دُنیا کو شطرنج کی ایک نئی چال نہ چلا رہے ہوں۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *