عزت کا سودا اور ڈیجیٹل دور از قلم: نجیم شاہ

ہم بڑے عجیب زمانے میں زندہ ہیں۔ ہاتھ میں دُنیا ہے اور دماغ میں اندھیرا۔ موبائل فون نے فاصلے ختم کر دیئے، کیمرے نے ہر لمحۂ محفوظ کر دیا اور سوشل میڈیا نے ہر شخص کو اپنا منصف، مبصر اور تماشائی بنا دیا۔ لیکن اِس تمام ترقی کے بیچ ایک چیز مسلسل سکڑتی جا رہی ہے: اِنسان کی عزت۔ اب کسی کی برسوں کی نیک نامی کو مٹانے کیلئے نہ ہجوم چاہیے، نہ اخبار، نہ عدالت۔ صرف ایک موبائل، ایک تصویر اور ایک کلک کافی ہے۔

 ’’دیکھ کر ڈیلیٹ کر دونگا‘‘۔ بظاہر معصوم سا جملہ، مگر اسکے پیچھے چھپی نیت کبھی کبھی پوری زندگی پر بھاری پڑ جاتی ہے۔ اعتماد مانگا جاتا ہے، اعتماد مل جاتا ہے، کوئی نجی تصویر یا ویڈیو محفوظ کر لی جاتی ہے اور پھر ایک دن وہی اعتماد ہتھیار بن جاتا ہے۔ تعلق ختم ہوا تو محبت بھی ختم، وعدے بھی ختم، اخلاق بھی ختم۔ باقی رہ جاتا ہے صرف بلیک میلنگ کا بازار۔ یہ محبت نہیں، یہ اعتماد کی تجارت ہے۔

 ہم نے ٹیکنالوجی تو خرید لی، تربیت نہیں خریدی۔ موبائل ہر ہاتھ میں پہنچ گیا، مگر ذمہ داری ہر ذہن تک نہیں پہنچی۔ کیمرہ تصویریں بنانے کیلئے تھا، ہم نے اسے دُوسروں کی نجی زندگی میں داخل ہونیکا راستہ بنا لیا۔ سوشل میڈیا رابطے کیلئے تھا، ہم نے اسے کردار کشی کا اکھاڑا بنا دیا۔ کسی کی ذاتی تصویر ہاتھ لگی نہیں کہ شیئر کرنے کو انگلی بے تاب۔ کسی کی مشکل سامنے آئی نہیں کہ تبصرہ کرنیوالے دانشور پیدا ہوگئے۔

 اصل المیہ یہ نہیں کہ کوئی شخص غلطی کر بیٹھا۔ اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے دُوسروں کی غلطیوں کو اپنی تفریح بنا لیا ہے۔ انسان خطا کا پتلا ہے، فرشتہ نہیں۔ مگر ہمارے ہاں کسی کی ایک لغزش پوری زندگی کا فیصلہ بن جاتی ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ غلطی اور اِنسان ایک چیز نہیں۔ اِنسان غلطی کرتا ہے، مگر غلطی اِنسان نہیں بن جاتی۔ معاشرہ اگر اصلاح کا راستہ بند کر دے تو پھر وہ سزا نہیں دیتا، تباہی بانٹتا ہے۔

 خاص طور پر عورت کے معاملے میں ہمارا اجتماعی رویہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔ نجی مواد چوری یا پھیلانے والے سے زیادہ سوالات متاثرہ فرد سے کیے جاتے ہیں۔ اس نے تصویر کیوں بنوائی؟ اس نے اعتماد کیوں کیا؟ اس نے تعلق کیوں رکھا؟ گویا جرم کسی اور نے کیا اور کٹہرے میں کھڑا بھی اسی کو کر دیا جس کا اعتماد توڑا گیا۔ یہ انصاف نہیں، سماجی منافقت کی بدترین شکل ہے۔ ہمیں یہ سوال کرنا چاہیے کہ اعتماد توڑنے والے کو سزا کیوں نہ دی جائے؟

 ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ پرائیویسی کوئی عیاشی نہیں، بنیادی انسانی حق ہے۔ کسی کا فون، پیغام، تصویر یا ویڈیو اس کی اجازت کے بغیر دُوسروں تک پہنچانا آزادیِ اظہار نہیں۔ یہ آزادی کا غلط استعمال ہے۔ ’’فارورڈ‘‘ کا بٹن دبانا شاید ایک سیکنڈ لیتا ہے، مگر اسکے اثرات کسی اِنسان کو برسوں بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ جو چیز ہمیں اسکرین پر چند لمحوں کی تفریح دیتی ہے، ممکن ہے وہ کسی دوسرے کے لیے پوری زندگی کا المیہ ہو۔

 اس دور میں والدین کی ذمہ داری بھی پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ بچوں کو صرف موبائل چھین کر محفوظ نہیں کیا جا سکتا۔ انہیں یہ سمجھانا ہوگا کہ ڈیجیٹل دُنیا میں اعتماد کیسے کیا جاتا ہے، نجی معلومات کیسے محفوظ رکھی جاتی ہیں اور جذباتی فیصلوں کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔ نوجوانوں کو ڈرانے کے بجائے سمجھانے کی ضرورت ہے۔ انہیں یہ بتانا ہوگا کہ محبت میں عقل کو معطل کرنا محبت نہیں، خود کو خطرے میں ڈالنا ہے۔

 لیکن سارا بوجھ فرد پر ڈال دینا بھی درست نہیں۔ ریاست کو مؤثر قوانین اور ان پر فوری عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا۔ بلیک میلنگ، ہراسانی اور نجی مواد کی غیر قانونی تشہیر کو معمولی شرارت سمجھنے کا زمانہ ختم ہونا چاہیے۔ تاہم قانون سے بھی پہلے کردار کی ضرورت ہے۔ اگر معاشرے کا ہر فرد دُوسرے کی عزت کو اپنی عزت سمجھنے لگے تو بہت سے جرائم قانون کی ضرورت پڑنے سے پہلے ہی دم توڑ سکتے ہیں۔

 ہمیں اپنے رویئے کا احتساب بھی کرنا ہوگا۔ کسی کی نجی ویڈیو ہمارے پاس اٰ جائے تو کیا ہم اسے آگے بڑھائیں گے؟ کسی کی تصویر وائرل ہو جائے تو کیا ہم تماشائی بنیں گے؟ کسی کی لغزش سامنے آ جائے تو کیا ہم اسے مزید اچھالیں گے؟ اصل امتحان یہی ہے۔ اِنسان کی شرافت اس وقت سامنے نہیں آتی جب وہ کسی کا بھلا کر رہا ہو؛ اصل شرافت تب ظاہر ہوتی ہے جب اسکے ہاتھ میں کسی دوسرے کی کمزوری ہو اور وہ اس سے فائدہ اُٹھانے کے بجائے اسے ڈھانپ دے۔

 آخر میں مسئلہ موبائل کا نہیں، انسان کا ہے۔ کیمرہ بے قصور ہے، انگلی بے قصور ہے، اسکرین بھی بے قصور ہے۔ فیصلہ کرنیوالا اِنسان ہے۔ اگر اِنسان کے اندر اخلاق مر جائے تو جدید ترین ٹیکنالوجی بھی تباہی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ ہمیں طے کرنا ہوگا کہ ہم ڈیجیٹل دنیا میں صرف اسمارٹ فون رکھیں گے یا اسمارٹ کردار بھی۔ کیونکہ عزت کوئی فائل نہیں کہ ڈیلیٹ ہونے کے بعد ریکوری سے واپس آ جائے۔ بعض نقصان مستقل ہوتے ہیں۔ اور شاید سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہمیں یہ بات کسی اور کی بربادی دیکھ کر سمجھ آتی ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *