ایران امریکا معاہدہ، اسرائیل میں سیاسی بحران، صف ماتم بچھ گئی

ایران امریکا معاہدہ، اسرائیل میں سیاسی بحران، صف ماتم بچھ گئی۔ اعلی اسرائیلی اہلکار کا کہنا تھا ٹرمپ نے ہمیں دھوکا دیا، وزیر قومی سلامتی نے بتایا کہ ہم معاہدے کے پابند نہیں، وزیر خزانہ کے مطابق معاہدہ اسرائیل اور آزاد دنیا کے لیے بھی نقصان دہ، ایران معاہدہ برا سودا، عبرانی اخبار کی شہ سرخی،دفاعی وزیر نے کہا کہ اسرائیل لبنان، شام اور غزہ میں سیکیورٹی زونز برقرار رکھے گا، اپوزیشن رہنما کا کہنا تھا یہ بدترین خارجہ اور سیکورٹی پالیسی ناکامیوں میں سے ایک ہے، دی ڈیموکریٹس، نے کہا کہ نیتن یاہو محاذ پر رہ گئے، کامیابیاں ضائع، نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ اسرائیل لبنان سے اپنی فوجیں واپس نہیں نکالے گا، سابق انٹیلیجنس آفیسر نے معاہدہ کو اسرائیل کے لیے سیاسی اور سلامتی کی تباہی کہا، جبکہ صدر ٹرمپ کے مطابق اسرائیل کو اس معاہدے پر شکر گزار ہونا چاہیے، ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے تو اسرائیل 2 گھنٹے بھی نہ ٹکتا۔ کار مائیکل ہورووٹز نے کہا ہے کہ اسرائیل کو نظر انداز کر کے فیصلہ کیا گیا، ماریو نے ایران کو سب سے بڑا فاتح قرار دیا ، یروشلم پوسٹ نے واضح اسٹریٹجک ناکامی قرار دی، سرائیلی نشریاتی ادارہ کین کا کہنا تھا سیکیورٹی کابینہ معاہدے پر بات چیت کے لیے ہنگامی اجلاس کرے گی۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے نے اسرائیل میں غیر معمولی سیاسی و سلامتی بحران کو جنم دے دیا ہے، جہاں ایک طرف اعلیٰ حکام نے ٹرمپ پر دھوکہ دینے کا الزام عائد کیا، وہیں عبرانی اخبار نے اسے دو ٹوک الفاظ میں برا سودا قرار دے کر قومی بیانیہ واضح کر دیا حکومتی وزراء میں اتاماربن گویر نے اعلان کیا کہ اسرائیل کسی بنانا ریپبلک کی طرح اس معاہدے کا پابند نہیں، جبکہ بیزالل اسماٹرک نے اسے آزاد دنیا کے لیے بھی نقصان دہ قرار دیا اور اسرائیل کاٹزنے لبنان، شام اور غزہ میں سیکیورٹی زون برقرار رکھنے کا عزم دہرایا؛ اپوزیشن میں ییر لیپڈ نے اسے بدترین خارجہ ناکامیوں میں شمار کیا، ییر گولان نے نیتن یاہو کو محاذ پر کھڑا رہ جانے والا قرار دے کر فوجی کامیابیوں کے ضیاع کا الزام لگایا، جبکہ بینی گینٹز نے اسے کھلی اسٹریٹجک ناکامی کہا.خود ٹرمپ کے بیان کہ ایران کے پاس بم ہوتا تو اسرائیل دو گھنٹے بھی قائم نہ رہ پاتا نے تنازع کو مزید ہوا دی، جبکہ ماہرین نے اسے “سیاسی و سلامتی کی تباہی اور اسرائیل کو نظر انداز کر کے یکطرفہ فیصلے کی مثال قرار دیا۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *