یہ کاروبار اُمید نہیں، خوف بیچتا ہے۔ بیروزگاری کو بندش، بیماری کو آسیب، گھریلو جھگڑے کو جادو اور ہر ناکامی کو کسی پوشیدہ طاقت کا کرشمہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ یوں اصل مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور فرضی دشمن سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ پھر اسی فرضی دشمن سے نجات کا ٹھیکہ بھی وہی لوگ لیتے ہیں جنہوں نے اس کا خوف پیدا کیا تھا۔ یہ علاج نہیں، نفسیاتی گرفت ہے؛ خدمت نہیں، مجبوریوں کی تجارت ہے۔
اِس کھیل کی سب سے بڑی طاقت سادہ لوحی نہیں بلکہ مایوسی ہے۔ جب ریاست انصاف نہ دے، تعلیم شعور نہ دے اور معاشرہ سہارا نہ دے تو اِنسان شارٹ کٹ ڈھونڈنے لگتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب جعلی پیر کی دُکان آباد ہوتی ہے۔ وہ مسئلہ حل کرنے نہیں آتا، مسئلے کو مستقل گاہک میں تبدیل کرنے آتا ہے۔ اگر ہر دُکھ ختم ہو جائے تو کاروبار کس بنیاد پر چلے؟ اِس لیے ایک تعویذ کے بعد دُوسرا، ایک وظیفے کے بعد نیا عمل، اور ایک خوف کے بعد اگلا اندیشہ۔
وقت کے ساتھ یہ دھندا بھی جدید ہو چکا ہے۔ اب آستانے صرف گلیوں میں نہیں، موبائل کی اسکرینوں پر بھی آباد ہیں۔ آن لائن استخارے، ویڈیو کال پر عملیات، واٹس ایپ پر تعویذ اور سوشل میڈیا پر کرامات کی تشہیر۔ روحانیت کو مارکیٹنگ کا ایسا لباس پہنا دیا گیا ہے کہ اشتہار اور عقیدہ ایک دُوسرے میں گڈمڈ ہو گئے ہیں۔ ہر مسئلے کا پیکیج موجود ہے، ہر پیکیج کی قیمت الگ ہے، اور ہر قیمت کے ساتھ ایک نئی اُمید مفت دی جاتی ہے۔
اِس استحصال کا سب سے زیادہ بوجھ اُن لوگوں پر پڑتا ہے جو پہلے ہی زندگی کے ہاتھوں شکستہ ہوتے ہیں، خصوصاً خواتین۔ اُنہیں یقین دلایا جاتا ہے کہ شوہر بدل جائیگا، رشتہ آ جائیگا، قسمت جاگ اُٹھے گی یا گھر کا سکون لوٹ آئیگا۔ جب دعوے پورے نہیں ہوتے تو ایک نئی توجیہ پیش کر دی جاتی ہے۔ گویا ناکامی کبھی کاروبار کی نہیں ہوتی، ہمیشہ گاہک کے نصیب یا ایمان کی ہوتی ہے۔ اس منطق کے بعد سوال کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
اِس سارے تماشے کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ بندے اور اللہ کے درمیان ایسے واسطے کھڑے کر دیئے جاتے ہیں جن کی نہ دین ضرورت سکھاتا ہے اور نہ عقل۔ قرآن اِنسان کو اپنے رب سے براہِ راست تعلق، دُعا اور توکل کی دعوت دیتا ہے، لیکن یہاں پہلے نرخ پوچھا جاتا ہے، پھر نجات کا وعدہ سنا جاتا ہے۔ جب ایمان بھی رسید کیساتھ ملنے لگے تو سمجھ لیجیے کہ روحانیت نہیں، تجارت بول رہی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر پیر، ہر خانقاہ اور ہر دینی شخصیت کو ایک ہی ترازو میں تولنا انصاف نہیں۔ آج بھی ایسے صالح مشائخ اور دیانت دار اہلِ علم موجود ہیں جنہوں نے دین کو کبھی ذریعۂ معاش نہیں بنایا بلکہ خدمت اور اصلاح کو اپنا مقصد رکھا۔ افسوس یہ ہے کہ جعلی پیروں اور نوسرباز عاملوں کی یلغار نے اصل کو بھی مشتبہ بنا دیا ہے۔ نقل نے اِتنا شور مچایا کہ اصل کی آواز دَب کر رہ گئی۔
آخرکار مسئلہ صرف جعلی پیروں کا نہیں، ہماری اجتماعی ترجیحات کا بھی ہے۔ جب قومیں علم کے بجائے تعویذ، تحقیق کے بجائے توہم اور عمل کے بجائے شارٹ کٹ پر یقین کرنے لگیں تو پھر دھوکے باز نہیں، دھوکا کامیاب ہوتا ہے۔ قومیں عملیات سے نہیں، تعلیم سے بنتی ہیں؛ کرامات کے قصّوں سے نہیں، کردار کی طاقت سے اُٹھتی ہیں۔ جس دِن ہم نے اپنے رب پر بھروسا، اپنی عقل پر اعتماد اور اپنے عمل پر یقین کر لیا، اُس دن روحانیت کے نام پر سجی یہ دکانیں خود بخود ویران ہونا شروع ہو جائیں گی۔














Post your comments