برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کا امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم

برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کیا ہے۔

چار یورپی ممالک نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ واضح اور قابل تصدیق اقدامات پر ایران پر پابندیوں میں نرمی کی جائے گی، آبنائے ہرمز کا فوری اور غیرمشروط کھلنا ضروری ہے۔

برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے لبنان کی خودمختاری اور استحکام کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امن معاہدے پر امریکا اور ایران کو مبارکباد دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدہ مستقل جنگ بندی، آبنائے ہرمز کھلنے کی جانب اہم قدم ہے۔

انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ مذاکراتی عمل میں پاکستان، قطر، سعودی عرب اور دیگر ممالک کا کردار قابل قدر ہے۔

علاوہ ازیں جاپان کی وزیراعظم نے بھی ایران امریکا ڈیل کا خیرمقدم کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سب کو مبارکباد، ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہوگیا۔

اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی بندرگاہوں کی امریکا کی بحری ناکہ بندی ہٹادی گئی ہے۔ دنیا بھر کے جہاز اپنی سرگرمیاں شروع کریں، تیل کی ترسیل بحال ہونے کا وقت آگیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز جمعہ کو جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کے بعد کھل جائے گی، آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کے لیے کھولا جائے گا۔

بعدازاں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران حتمی جوہری معاہدے تک نہ پہنچا تووہ دوبارہ حملہ کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز ٹول فری ہوگی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ عظیم ڈیل خطے میں امن و سلامتی لائے گی، کئی صدور ایران کے ساتھ امن قائم کرنے میں ناکام رہے، میں نے حقیقی معنوں میں امن قائم کیا۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ایران کے ساتھ معاہدے سے متعلق پیش رفت پر آگاہ کیا۔

اس سے پہلے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ایران سے متعلق کسی بھی ممکنہ معاہدے میں اسرائیل فریق نہیں بنے گا اور وہ اپنی قومی سلامتی کے فیصلے خود کرے گا۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *