ایران معاہدہ کرنا تو چاہتا ہے، لیکن درست معاہدے کیلئے ابھی تیار نہیں: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم وہ ابھی ان شرائط کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جنہیں میں ضروری سمجھتا ہوں۔

جوائنٹ بیس اینڈریوز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ میرے خیال میں ایران معاہدہ کرنا تو بہت چاہتا ہے، لیکن درست معاہدہ کرنے کے لیے ابھی تیار نہیں۔

صحافیوں نے ٹرمپ سے پوچھا کہ آیا ایران کے حوالے سے امریکی فوجی اختیارات محدود ہو گئے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔

ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے متعلق سابقہ دعویٰ دہراتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق پورے خطے پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے اور اس میں زمینی علاقے بھی خاصے اندر تک شامل ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن موجودہ تنازع میں ’دیکھو اور انتظار کرو‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ کی مدد سے آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کا سلسلہ جاری ہے۔

کرس رائٹ نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ منگل کے روز آبنائے ہرمز سے 15 ملین بیرل سے زائد تیل اور دیگر مصنوعات منتقل کی گئیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پائپ لائنز کے ذریعے ہونے والی ترسیل کو شامل کیا جائے تو خطے سے مجموعی طور پر تقریباً 20 ملین بیرل تیل باہر منتقل ہوا۔

امریکی وزیرِ توانائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی گزشتہ 7 روز کی اوسط ترسیل اب یومیہ 8 ملین بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔

کرس رائٹ کا دعویٰ کرتے ہوئے کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی یہ ترسیل امریکی بحریہ کی موجودگی کے باعث ممکن بنائی جا رہی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق کرس رائٹ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران فروری سے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری تجارت روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز سے یومیہ 8 ملین بیرل سے زائد تیل کی موجودہ اوسط جنگ سے قبل کی روزانہ اوسط ترسیل کے نصف سے بھی کم ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *