اخبارات کے اتوار ایڈیشنز میں رشتوں کے اشتہارات پڑھنا کبھی کبھی ایسا تجربہ بن جاتا ہے کہ آدمی سیاست اور معیشت کی خبریں بھُول کر اپنی قسمت پر غور کرنے لگتا ہے۔ ایک صاحب کا اشتہار نظر سے گزرا تو اندازہ ہوا کہ موصوف کو شریکِ حیات نہیں، ایک ایسی ہمہ گیر شخصیت درکار ہے جس میں حور کی خوبصورتی، ڈاکٹر کی قابلیت، دانشورہ کی ذہانت، اُستانی کی افادیت، شاعرہ کا ذوق اور گھریلو خاتون کا کمال ایک ہی پیکیج میں دستیاب ہو۔ اشتہار پڑھ کر یُوں لگا جیسے شادی نہیں، کسی غیر معمولی مخلوق کی بھرتی کیلئے درخواستیں طلب کی گئی ہوں۔
ابتدائی شرائط پڑھیں تو لگا، صاحب نے رشتہ نہیں بلکہ حیرت کا سامان تلاش کیا ہے۔ دوشیزہ حسین، کنواری، حافظہِ قرآن، ڈاکٹر، دانشورہ اور ساتھ ہی سادہ لوح بھی ہو۔ یعنی دماغ میں طب کی پیچیدگیاں ہوں، گفتگو میں فلسفہ ہو، قرآن حفظ ہو اور طبیعت میں ایسی معصومیت کہ دُنیا کی چالاکیوں سے بے نیاز رہے۔ گویا ایک ہی شخصیت میں ڈاکٹر، فلسفی، عالمہ اور معصوم بچی سب کو جمع کر دیا جائے۔ یُوں محسوس ہوتا ہے کہ صبح مریضوں کا علاج، دوپہر میں فلسفہ، شام کو بچوں کی تدریس اور رات کو شوہر سے معصومانہ سوال ہو:’’آج کھانے میں کیا بناؤں؟‘‘
جسمانی اوصاف کی فہرست تو کسی شاعر کے دیوان سے بھی زیادہ تفصیلی ہے۔ بھرپور جوانی، پتلی کمر، لمبی گردن، ستواں ناک، نازک ہونٹ، نشیلی آنکھیں، تلوار سی زلفیں، رمّانی رخسار، گھنی پلکیں اور باریک آئبرو! پھر شرط یہ کہ زبان زیادہ لمبی نہ ہو اور آواز سریلی ہو۔ کمال کی فرمائش یہ کہ 24 گھنٹے جاگتی رہے اور سوتے ہوئے بھی غضب لگے۔ اب یہ خاتون چاہیے یا ایسا جدید موبائل فون جس کی بیٹری کبھی ختم نہ ہو، آواز بھی سریلی ہو اور سلیپ موڈ میں بھی خوب صورت نظر آئے؟
خوبصورتی کے بعد حیوانی دُنیا سے بھی کچھ اوصاف مستعار لیے گئے ہیں: ہرنی کی سی چال اور ناگن جیسے نخرے۔ یہاں پہنچ کر اشتہار باقاعدہ انسانی حدود سے نکل کر وائلڈ لائف کی طرف روانہ ہو جاتا ہے۔ عمدہ نسب بھی چاہیے، اُستانی بھی ہو، خوش مزاج بھی اور خوش طبع بھی۔ یعنی گھر سنبھالے، بچوں کو پڑھائے، شوہر کو ہنسائے اور فرصت ملے تو محفل بھی آباد کرے۔ ایسی خاتون اگر واقعی مل جائے تو اُسے شریکِ حیات کہنا اُس کی صلاحیتوں کیساتھ کچھ ناانصافی ہوگی؛ اسے تو کم از کم ایک ادارے کا سربراہ ہونا چاہیے۔
ذائقے اور خوشبو کے تقاضے بھی کم دلچسپ نہیں۔ خاتون رَس گلے جیسی میٹھی، عنبر جیسی مہکتی، چلتی ہَوا جیسی سبک اور اُڑتی پتنگ جیسی آزاد ہو۔ اب اگر بیگم چلتی ہَوا کی طرح گھر میں داخل ہو تو پردے سنبھالنے کی فکر الگ ہوگی، اور اگر اُڑتی پتنگ ثابت ہوئیں تو شوہر صاحب کو سب سے پہلے یہ معلوم کرنا پڑیگا کہ اُنہیں زمین پر کیسے رکھا جائے۔ البتہ رَس گلے جیسی مٹھاس کی شرط خاصی دلکش ہے؛ یہ واضح نہیں کہ اختلافِ رائے کے وقت بھی یہ مٹھاس برقرار رہے گی یا شوہر کو چاشنی سے باہر نکال دیا جائیگا۔
اب باری آتی ہے اَدبی اور فنی صلاحیتوں کی۔ لکھے تو عصمت چغتائی لگے، بولے تو نیہا ککڑ۔ یعنی قلم اُٹھائے تو ادب میں ہلچل مچا دے اور منہ کھولے تو محفل میں موسیقی بکھیر دے۔ گالیاں دے تو پھول محسوس ہوں، طعنے دے تو مشورے لگیں، ڈانٹ ڈپٹ کرے تو بیگم کا گمان ہو اور سختی سے پیش آئے تو پڑوسن یاد آئے۔ یہاں پہنچ کر یقین ہو جاتا ہے کہ صاحب کو بیوی نہیں، ایک ایسا مکمل ادارہ چاہیے جو گھر بھی چلائے، ادب بھی تخلیق کرے، موسیقی بھی سُنائے اور ضرورت پڑنے پر شوہر کی اصلاح بھی فرمائے۔
ازدواجی سکون کی آخری ضمانت بھی موجود ہے: ’’بات کرے تو راحت دے، چپ ہو تو سکون دے۔‘‘ یعنی خاتون کی گفتگو بھی علاج ہو اور خاموشی بھی۔ ایسی خاتون اگر واقعی مِل جائے تو حکومت کو چاہیے اسے قومی اثاثہ قرار دے اور وزارتِ سکون و راحت کا قلمدان سونپ دے۔ البتہ ایک معمولی سا سوال پھر بھی باقی رہ جاتا ہے کہ صاحبِ اشتہار خود اِن شرائط میں سے کتنی شرائط پر پورے اُترتے ہیں؟ کیونکہ شریکِ حیات کی تلاش میں اپنی اہلیت کا ذکر نہ کرنا بھی شاید ہمارے معاشرے کی ایک خوب صورت روایت ہے۔
صاحبِ اشتہار کی شرائط پڑھ کر اندازہ ہوا کہ ایسی خاتون زمین پر ملنا خاصا مشکل ہے۔ اگر کہیں مِل بھی گئی تو شاید ناسا والے پہلے رابطہ کریں اور کہیں: ’’محترم! شادی بعد میں کیجئے گا، پہلے ہمیں اس نادر مخلوق پر تحقیق مکمل کرنے دیں!‘‘ ممکن ہے اسکی 24 گھنٹے جاگنے اور سوتے ہوئے بھی غضب ڈھانے کی صلاحیت سائنسدانوں کو بھی بے حد حیران کر دے۔ اتنی خوبیاں ایک ہی انسان میں جمع ہو جائیں تو نکاح سے پہلے سائنسی تصدیق تو بہرحال لازمی بنتی ہے، آخر معاملہ معمولی شادی کا نہیں، ایک نادر دریافت کا ہے!















Post your comments