مہمانان گرامی
محرم الحرام اور شہادت امام حسین کے حوالے سے منعقدہ اس پروگرام میں اپ کی شرکت پر بے حد شکر گزار ہوں ۔
اسلامی تاریخ کا یہ اتنا اہم ترین لمحہ ہے کہ اس کی یاد منانا ہمارے لیے بے حد ضروری ہے کیونکہ یہی وہ واقعہ ہے جس کے ذریعے ہم خود بھی اور اپنے انے والی نسلوں کو بھی یہ سکھا سکتے ہیں کہ حق کی خاطر کس طرح کھڑا ہوا جاتا ہے اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جاتا ۔
حضرت امام حسین جو نواسہ رسول بھی تھے ان کو علم تھا کہ وہ جس جنگ پر مجبور کیے جا رہے ہیں اس میں ان کی فتح کا کوئی امکان نہیں لیکن کیونکہ وہ راہ حق پر تھے اس لیے انہوں نے اپنے خاندان کی قربانی دینا قبول کی لیکن باطل کی بیت نہیں کی ۔
دیار غیر میں جہاں اپنی نسلوں کو سنبھالنے کے لیے ہمیں عبادات پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے مساجد میں باقاعدہ پانچ وقت نمازوں کے لیے جانا ضروری ہے اسی طرح صرف پریکٹس ہی نہیں بلکہ ہمیں اپنی تاریخی حقائق ہمیں ہمارے مذہبی ثقافت اور ہمیں اپنی پاکستانی رکھ رکھاؤ پر بھی دھیان دینا ہوگا
محرم الحرام پاکستان میں خاص پس منظر کے ساتھ طلوع ہوتا ہے اور پورے ملک میں ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یہ شہادت حسین کا مہینہ ہے اور اس مہینے میں ہم پر کچھ نہ کچھ اہم ذمہ داریاں نافذ ہوتی ہیں
وطن سے دور رہنے کے باوجود ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی ثقافت کلچر مذہبی ہم اہنگی اور مذہبی ذمہ داریوں کو پریکٹس یعنی نماز روزے زکوۃ کے ساتھ ساتھ جاری رکھیں
ہماری یہ کوشش ایک طویل عرصے سے جاری ہے اپ جانتے ہیں ہمارے بانی محترم عظام قریشی جو اب ہم میں نہیں ہے اور مجھے بے حد ملال ہوتا ہے جب میں اپنے دائیں طرف دیکھتا ہوں اور وہ مجھے نظر نہیں اتے یہ سب ان کا پیغام تھا انہوں نے اپنی پوری زندگی اس مقصد کے لیے وقف کی کہ لوگ مذہبی عبادات کے ساتھ ساتھ ہمارے مذہبی تاریخی پروگرام جیسی عید میلاد النبی معراج النبی شب برات اور محرم الحرام عاشورہ کو بھی اس کی اگاہی کے ساتھ یاد رکھیں
عظام قریشی اج ہم میں نہیں ہیں بلکہ ہمارا ایک اور نوجوان ساتھی نعت خواں طہ بھی ہمیں چھوڑ کر چلا گیا قریشی صاحب اور طہ کے قریبی رشتہ داروں کو جوغم ہوگا میں اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں خود تنہائی کا شکار ہو گیا ہوں
خاص طور پہ ایسے پروگراموں کے انعقاد میں میرے لیے قریشی صاحب اور طہ ایک بہت بڑا سہارا ہوتے تھے میں صرف ان دو شخصیتوں کے بل پر ہی پروگرام کا اہتمام کر لیا کرتا تھا یہ اور بات ہے کہ ہمارے ساتھ ہمارے معزز علماء کرام اور ہماری تنظیم دعوت اسلامی ہمیشہ موجود رہی
ایک بار پھر اپ سب کی امد کا شکریہ ہے شدید بارش اوردیگر مصروفیات اور عام طور پر لوگوں کی محرم الحرام ل حرام کے حوالے سے کم دلچسپی کے باوجود اپ لوگ جس تعداد میں تشریف لائیں میں اپ کا شکر گزار ہوں
غم حسین اور شہدائے کربلا کی یاد منانا کبھی ختم نہیں ہو سکتا یہ اسلام کا مرکز عروج ہے جس کے ذریعے ہمیں اسلام میں حاکمیت اختلاف اور مزاحمت کا درس ملتا ہے














Post your comments