یہاں دِن چہرے بدل دیتے ہیں۔ کامیاب دِنوں میں وہی غلیظ اور جاہل چہرہ، جو کل تک چوراہے پر ذلیل ہو رہا تھا، اچانک پارسا اور دانا بن جاتا ہے۔ خلقِ خدا اس کی بونگیوں پر سر دھنتی ہے، اس کی حماقتوں کو دانشمندی کا نام دیتی ہے، اور اس کے پاؤں کی دھول چاٹتی ہے۔ لیکن ناکام دِنوں میں وہی افلاطون پسِ منظر کے اندھیروں میں غائب ہو جاتا ہے۔ لوگ اس کے علم کو نہیں، اس کے پھٹے ہوئے گریبان کو دیکھ کر اس کی اوقات کا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ دُنیا دراصل کامیابی کی عینک لگا کر گھومنے والے اندھوں کا ہجوم ہے، جو صرف چمکتے ہوئے سورج کو سجدہ کرنا جانتا ہے۔ یہاں عزت صرف اُسکی ہے جس کا سکہ چل رہا ہو، باقی سب تو اس تماشے کے تماشائی ہیں۔
انسان کو اس لسانی عیاشی اور بدہضمی سے باہر نکلنا ہوگا۔ الفاظ کا جادو تب چلتا ہے جب وقت کا کوڑا ساتھ دے۔ ورنہ تو اس ملک کی ہر گلی، ہر نکر اور ہر چائے کا کھوکھا کسی نہ کسی بقراط اور ارسطو سے بھرا پڑا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان اپنے دن بدلے۔ محنت کرے، رگڑا کھائے، اور وقت کی نبض کو پہچانے۔ کیونکہ وقت کے پاؤں کے ساتھ پاؤں ملا کر چلنے والا ہی اس دوڑ میں زندہ رہتا ہے، باقی سب تاریخ کے کچرا دان میں پھینک دیئے جاتے ہیں اور ان کا نام و نشان تک مٹ جاتا ہے۔ وقت سے یاری ہی اصل سرمایہ ہے، اور وقت سے دشمنی وہ خودکشی ہے جو انسان کو گمنامی کی اتھاہ گہرائیوں میں غرق کر دیتی ہے۔
ہماری بدقسمتی دیکھیے! ہم اپنی ہر نااہلی، ہر حماقت اور ہر ناکامی کا ملبہ دُوسروں پر ڈال دیتے ہیں۔ کبھی قسمت کا رونا روتے ہیں، کبھی حالات کا شکوہ کرتے ہیں، اور کبھی دُنیا کی بے حسی کا ماتم کرتے ہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ یہ بے رحم دُنیا کسی کا رونا دھونا سننے کیلئے پیدا ہی نہیں ہوئی۔ اسے آپکی داستانِ غم سے کوئی دلچسپی نہیں، یہ صرف کامیابی کی سرخی پڑھتی ہے۔ یہاں وہی معتبر ہے جو وقت کی چال سمجھتا ہے۔ جو وقت کی نبض پر ہاتھ رکھتا ہے، وہی تاریخ کے پنوں پر جگہ پاتا ہے۔ باقی سب تو کتاب کے حاشیے پر لکھے وہ بے معنی جملے ہیں جن پر کوئی تھوکنا بھی گوارا نہیں کرتا۔
جب دِن پلٹا کھاتے ہیں، تو انسان کے منہ سے نکلنے والی غراہٹ بھی راگ بن جاتی ہے۔ اسے کسی عدالت میں صفائی دینے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس کی کامیابی خود اس کا وکیل بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ وقت جب بولتا ہے تو اس کے پاس نہ لفاظی ہوتی ہے، نہ مبالغہ، اور نہ ہی منافقت۔ وہ سیدھا، سچا اور انتہائی بے رحم ہوتا ہے۔ جو اس کے قانون کو مانتا ہے، وہ تخت پر بیٹھتا ہے، اور جو اس سے ٹکراتا ہے، وہ مٹی میں رول دیا جاتا ہے۔ وقت کی عدالت میں صرف وہی مقدمہ جیتا جا سکتا ہے جس کے ثبوت ’’کامیاب دنوں‘‘ کی شکل میں میز پر پٹخ دیئے جائیں۔
یہ کائنات نتائج کی باندی ہے۔ یہاں آپکے جذبات، آپکی نیک نیتیاں، اور آپکے حسین خواب تب تک محض ذہنی عیاشی ہیں جب تک وہ حقیقت کا روپ دھار کر سامنے نہ آ جائیں۔ یہ دُنیا خوابوں کے پیچھے نہیں، نتائج کے پیچھے کتے کی طرح بھاگتی ہے۔ اس لیے عافیت اسی میں ہے کہ انسان وقت کو اپنا رہنما بنائے۔ وقت ہی وہ سچا آئینہ ہے جو بونوں کو ان کا اصل قد دکھاتا ہے۔ باقی سب تو محض دھندلے اور بے رنگ عکس ہیں۔ وقت وہ ترازو ہے جو ہر دعوے کا وزن تولتا ہے اور ایسا فیصلہ سناتا ہے جس کے خلاف کسی سپریم کورٹ میں اپیل دائر نہیں کی جا سکتی۔
ہر جاہل اپنی ہانکنے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن دُنیا صرف اسی کا راگ سنتی ہے جس کا لہجہ وقت کا لہجہ ہو۔ وقت جب کسی گدھے کے حق میں بھی گواہی دے دے، تو اس کی رینکنے کی آواز کو بھی دانشورانہ گفتگو تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ وہی بات جو کل تک کوڑے کا ڈھیر تھی، آج اخبارات کی سرخیاں بن جاتی ہے۔ یہ سارا کمال وقت کا ہے، اس مٹی کے مادھو کا نہیں جس پر وقت مہربان ہوا ہے۔ انسان تو وہی دو ٹکے کا ہوتا ہے، بس اس کے دِن بدل جاتے ہیں۔ اور یاد رکھیے، جب دِن بدلتے ہیں، تو خاموشی بھی دھماکہ بن جاتی ہے۔
کامیابی کا شور جب اُٹھتا ہے، تو ماضی کی ساری ذلتیں اور خاموشیاں بصیرت کا لبادہ اوڑھ لیتی ہیں۔ لوگ آپ کے پرانے گناہوں کو نئے زاویئے سے دیکھ کر انہیں ’’مصلحت‘‘ کا نام دینے لگتے ہیں۔ یہی وقت کا جادو اور اس کی عیاری ہے۔ اگر چاہتے ہو کہ یہ اندھی اور بہری دُنیا تمہیں سُنے، تمہیں معتبر مانے، تو تقریریں چھوڑیئے اور اپنے دن سنواریئے۔ کیونکہ دِن ہی وہ زبان ہیں جو اس جاہل سماج کو سمجھ آتی ہے۔ بولنے سے پہلے دِن سنوارو، کیونکہ جب دِن بولتے ہیں، تو پھر انسان کو زبان ہلانے کی ضرورت بھی نہیں رہتی!















Post your comments