ٹرمپ کا ویک اینڈ پر ایران پر حملہ منسوخ کرنے کا اعلان

امریکی صدر ٹرمپ نے ویک اینڈ پر ایران پر حملہ منسوخ کرنے کا اعلان کردیا۔

سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ ایران اور خطے کے دیگر ممالک کی درخواست پر حملہ مؤخر کیا، حملے کی منسوخی فوری معاہدے سے مشروط ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ جلد معاہدہ طے پا گیا تو حملہ نہیں ہوگا۔ اسرائیل نے بھی حملہ مؤخر کرنے پر اتفاق کیا۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ امریکا ایران کے خلاف کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار اور مستعد ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف کارروائی کا اختیار ہمارے پاس موجود ہے۔

امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف وہ کارروائی کرنے کے لیے تیار ہیں جو ماضی میں دیگر انتظامیہ نے نہیں کی۔

اپنے بیان میں مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ایران نے آج تک ڈونلڈ ٹرمپ جیسے صدر کا سامنا کیا ہے۔ ایران اب انجام کے بغیر مذاکرات کی توقع نہ رکھے۔

امریکی وزیر خارجہ نے صدر ٹرمپ کی بات دہراتے ہوئے الزام لگایا کہ ایران عشروں سے جھوٹ بول رہا ہے، ڈیل توڑ رہا ہے اور لوگوں کو معاہدے کرنے کے فریب میں الجھا رہا ہے۔

وائٹ ہاوس کا بھی کہنا ہے کہ ایران جب تک بامعنی مذاکرات کی طرف نہیں لوٹتا اسے مسلسل قیمت چکانا پڑے گی۔

امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے دوران ایک بار پھر کویت پر ڈرونز سے حملہ ہوا ہے،

کویتی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے کویت کی فضائی حدود میں ڈرونز کا پتہ لگانے کے بعد انہیں تباہ کردیا ہے، کویتی فوج نے اس حملےکو متعدد اہم و حساس تنصیبات پر ایرانی حملہ قرار دیا ہے،خلیج تعاون کونسل نے ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تہران کے مسلسل “جارحانہ طرزِ عمل” کو ظاہر کرتا ہے، دوسری جانب ایران کی اعلٰی ترین مشترکہ ملٹری کمانڈ خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹر کے کمانڈر، میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا ہے کہ امریکا خطے کو جنگ کی آگ میں جھونکنا چاہتا ہے، پڑوسی ممالک اس کیساتھ تعاون نہ کریں،انہوں نے متنبہ کیا کہ کوئی بھی ملک جو امریکاکیلئے “دفاعی ڈھال” کا کام کرے گا، وہ “جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا”،امریکی محکمہ خارجہ اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں امریکی سفارتخانوں نے اپنے شہریوں کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خطے سے نکل جائیں،امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے شہریوں کو خطے کے سفر سے گریز کرنے کی ہدایت بھی کی ہے ،ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کے مستقل کا فیصلہ اس کے عوام کریں گے، امریکی اخبار نے بتایا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایرانی توانائی تنصیبات پر حملے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں،تہران نے کہا ہے کہ جواب خطے میں امریکی انفراسٹرکچر اور توانائی تنصیبات پر حملوں سے دیں گے۔تفصیلات کے مطابق ایران کی خاتم الانبیا فورس کے کمانڈر عبداللہی نے کہا کہ علاقائی ممالک کو یہ سمجھنا چاہیے کہ امریکا ان کی دولت، بنیادی ڈھانچے اور وسائل کواپنی کمزور ہوتی ہوئی فوج کے لئے بطور دفاعی ڈھال استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے،انہوں نے ان ممالک کو امریکا کے ساتھ اپنے “تعاون اور اتحاد” پر ازسرِنو غور کرنے کی ہدایت کی، ادھر مشرق وسطیٰ کے دارالحکومتوں میں واقع امریکی سفارت خانوں نے ہفتے کے روز امریکی شہریوں کو علاقائی تنازع میں “غیر متوقع شدت” سے خبردار کیا ہے اور انہیں خطے سے نکلنے کے لئے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔یہ انتباہ بحرین، عراق، اسرائیل، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی سفارت خانوں کی جانب سے آن لائن جاری کیا گیا، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر “نہایت شدید” ضرب لگانے کی دھمکی کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔خلیج تعاون کونسل کے سربراہ جاسم محمد البدیوی نے کویت میں شہری تنصیبات پر مبینہ ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے اپنے پڑوسیوں کے خلاف ایران کے مسلسل “جارحانہ طرزِ عمل” کو ظاہر کرتے ہیں۔برطانوی بحری ایجنسی نے ہفتے کے روز بتایا کہ عمان کے ساحل کے قریب ایک “نامعلوم گولہ” ایک (جہاز)ٹینکر سے ٹکرایا جس سے جہاز کے انجن کو نقصان پہنچا ہے۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے ملک پر مسلط امریکی و اسرائیلی جنگ کو برداشت کرنے پر ایرانی عوام کو “ہیرو” قرار دے کر ان کی تعریف کی ہے۔صدر نے اس تنازع کے آغاز کی تاریخ 31 جولائی 2024 کو حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہانیہ کی شہادت سے جوڑی، جو مسعود پزشکیان کی اپنی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے لئے تہران میں موجود تھے۔تب سے اب تک “جنگوں، دباؤ اور مسلسل دشمنیوں” کو برداشت کرنے کے باوجود، پزشکیان نے X (ٹوئٹر) پر لکھا کہ “ایران کے مستقبل کا فیصلہ خود ایران کے لوگ کریں گے”۔ ایک برطانوی بحری ایجنسی نے ہفتے کے روز بتایا کہ عمان کے ساحل کے قریب ایک “نامعلوم گولہ” ایک ٹینکر سے ٹکرایا ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *