امریکی فوج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران پر ایک اور حملہ کردیا، امریکا کی ایران پر حملوں کی یہ مسلسل آٹھویں رات ہے۔
سینٹکام کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ حملے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرات سے محفوظ بنانے اور ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنے کے لیے گئے ہیں۔
سینٹکام کے مطابق گزشتہ رات اردن میں امریکی فوجیوں پر حملے کرنے والی ایرانی فورسز کو فوری سزا دینے کے مقصد سے حملے کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے سیرک کے قریب حملے کیے ہیں، امریکی فوج نے حاجی آباد شہر کے قریب علاقے کو نشانہ بنایا ہے۔
قبل ازیں روسی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ 2 امریکی فوجیوں کی اردن میں ہلاکت کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پوری شدت سے ایران پر بمباری کا حکم دیا ہے۔
امریکا نے دنیا بھر میں اپنے شہریوں کے لیے سفری الرٹ جاری کر دیا ہے۔
محکمہ خارجہ کی جانب سے امریکی شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ امریکا کی سفارتی تنصیبات بھی نشانہ بنائی گئی ہیں اور ایران کی حمایت کرنے والے گروہ بیرون ممالک میں امریکی مفادات اور امریکی شہریوں پر حملہ کرسکتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق الرٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ صورتحال پیچیدہ ہے اور کشیدگی میں ناگہانی اضافہ ہوسکتا ہے۔
یہ الرٹ ایسے وقت جاری کیا گیا ہے جب امریکا ایران جنگ شدت کے ساتھ دوبارہ شروع ہوچکی ہے اور اس میں دو امریکی فوجی ہلاک اور ایک لاپتا ہے جبکہ 50 ایرانی شہری مارے جاچکے ہیں۔
محکمہ خارجہ نے امریکی شہریوں خصوصاً مشرق وسطیٰ میں مقیم امریکی شہریوں سے کہا ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اپنائیں اور سیکیورٹی ہدایات پر عمل کریں۔
تاہم امریکی شہریوں سے کسی ملک کو چھوڑنے کا نہیں کہا گیا اور بین الاقوامی سفر کو محدود بھی نہیں کیا گیا ہے۔














Post your comments