ملا اصغر غازی برادر اخوند درویزہ تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

اخوند درویزہ بابا کا نام پشتو تاریخ، اسلامی فکر اور کلاسیکی پشتو ادب میں ایک روشن حوالہ ہے۔ آپ کی علمی و اصلاحی خدمات، خصوصاً روشانی تحریک کے مقابل فکری جدوجہد، پر بہت کچھ لکھا گیا، لیکن آپ کے علمی خانوادے کی بعض شخصیات اب بھی کم معروف ہیں۔ انہی میں ملا اصغر غازیؒ کا نام نمایاں ہے۔ اُن کی شخصیت اس عہد کے مذہبی، علمی اور فکری حالات کو سمجھنے کیلئے ایک اہم تاریخی حوالہ رکھتی ہے۔

ملا اصغر کی اہمیت محض خاندانی نسبت تک محدود نہیں۔ وہ ایسے دور میں سامنے آئے جب مذہبی فکر اور روحانی تحریکوں کے درمیان گہری کشمکش جاری تھی۔ بایزید انصاری المعروف پیرِ روشان( جنہیں اخوند درویزہ اور حامیوں نے پیرِ تاریک کہا) نے پشتون علاقوں میں ایک مؤثر فکری تحریک برپا کی۔ اخوند درویزہ ؒنے اس فکر کے مقابل شریعت اور اہلِ سنت کے مؤقف کی ترجمانی کی، جبکہ ملا اصغر بھی اسی مذہبی و فکری جدوجہد کے ماحول میں سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔

ملا اصغر کا ایک اہم ادبی حوالہ مخزن الاسلام میں ملتا ہے۔ محققین کے مطابق اس کتاب کے بعض قلمی نسخوں میں درویزہ خاندان کے اہلِ علم کی تحریریں بھی محفوظ رہیں، جن میں ملا اصغر کا نام آتا ہے۔ بعض تحقیقات میں مخزن کے اختتام پر ملا اصغر سے منسوب شعر کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ دینی علوم کے ساتھ پشتو زبان و ادب سے بھی وابستگی رکھتے تھے اور اس علمی روایت میں اپنا حصہ ڈالتے رہے۔

یہ ادبی نسبت اِس لیے اہم ہے کہ مخزن الاسلام پشتو کی ابتدائی اسلامی علمی روایت کا ایک بنیادی سرچشمہ ہے۔ اخوند درویزہؒ کے بعد آپ کے خاندان اور علمی حلقے کے افراد نے بھی اس روایت کو آگے بڑھایا۔ ملا اصغر کا ذکر اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے۔ اُن کا وجود اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ درویزہ خاندان میں دینی علم، تصنیف اور پشتو ادبی اظہار ایک دُوسرے سے جڑے ہوئے تھے اور مذہبی افکار کو عام کرنے کیلئے مقامی زبان کو اہم وسیلہ سمجھا جاتا تھا۔

ملا اصغر سے متعلق ایک دلچسپ روایت ایک اہم واقعے سے بھی وابستہ ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ شہباز قلندر کے قتل کے بعد اُن کے پیروکاروں نے اُن کے بے سر جسد کو سید محمود کی قبر کے قریب دفن کیا۔ بعد میں یوسف زئیوں کے دلازاکوں پر غلبے کے موقع پر شہباز کے مزار پر نصب علم کو ملا اصغر غازی نے توڑا اور اُس کے لوہے سے تیر بنانے کی روایت بیان کی گئی ہے۔ اسی روایت کے تسلسل میں ملا اصغر کے لنگر کی طرف چلے جانے کا ذکر بھی ملتا ہے۔

ملا اصغر کے خاندانی پس منظر کی روایات بھی خاصی اہم ہیں۔ اخوند درویزہ بابا کی والدہ محترمہ قراری بنت نازو خان بیان کی جاتی ہیں، اور روایتی نسب انہیں سلاطینِ بلخ کے خاندان سے ملاتا ہے۔ اس سلسلے میں سلطان بہرام کا نام آتا ہے، جو روایت کے مطابق سلطان فکہل کا برادر تھا۔ اسی نسبی روایت میں ننگرہار، لغمان، کشمیر اور پکھلی سے متعلق روابط کا ذکر ملتا ہے، جو اس خانوادے کے تاریخی پس منظر کو وسیع تر خطے سے جوڑتے ہیں۔

اسی پس منظر میں یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ ملا اصغر علاقہ پکھلی کی طرف تشریف لے گئے تھے۔ پکھلی اُس زمانے میں ایک اہم سیاسی و جغرافیائی خطہ تھا، جو بعد کے ادوار میں ہزارہ کے نام سے معروف ہوا۔ لنگر کی طرف اُن کی روانگی اور پکھلی پہنچنے سے متعلق روایات ملا اصغر کی زندگی کے سفر کا ایک اہم پہلو سامنے لاتی ہیں۔ ان کے قیام اور بعد کی زندگی کے بارے میں مزید معلومات سامنے آئیں تو اس تاریخی تصویر کے کئی پہلو مزید واضح ہوسکتے ہیں۔

اخوند درویزہ کے خانوادے کے ضمن میں اُن کے ایک دوسرے بھائی محمد صادق کا بھی ذکر ملتا ہے۔ بعض روایات کے مطابق محمد صادق ننگرہار کی طرف چلے گئے تھے، جبکہ ملا اصغر کے بارے میں لنگر اور پکھلی جانے کا ذکر آتا ہے۔ محمد صادق کا یہ حوالہ درویزہ خاندان سے متعلق تاریخی زبانی روایات میں آتا ہے، جبکہ ملا اصغر کا علمی اور ادبی کردار اپنی جگہ اس خاندان کی تاریخ کا ایک نمایاں باب ہے۔

ملا اصغر کی علمی و ادبی زندگی اپنے زمانے کے مذہبی حالات کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ روشانی تحریک، اس کے مقابل اہلِ سنت کے علما کی فکری جدوجہد، قبائلی سیاست اور مذہبی اثرات نے پشتون معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ملا اصغر اسی ماحول کے عالم اور صاحبِ قلم تھے۔ مخزن الاسلام میں اُن کا ادبی حوالہ اور روشانی فکر کے مقابل جاری علمی جدوجہد سے اُن کی وابستگی اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ اپنے عہد کے مذہبی مباحث میں فعال کردار رکھتے تھے۔

ملا اصغر غازی کو صرف برادرِ اخوند درویزہ کہہ کر یاد کرنا ان کی شخصیت کو محدود کرنا ہوگا۔ وہ عالم، صاحبِ قلم اور درویزہ خاندان کی علمی روایت کے اہم رکن تھے۔ مخزن الاسلام میں ان کی ادبی نسبت، روشانی فکر کے مقابل فکری ماحول، شہباز سے وابستہ روایت اور لنگر و پکھلی سے متعلق روایات ان کی شخصیت کے مختلف پہلو سامنے لاتی ہیں۔ تاریخ کے بڑے ناموں کے درمیان اُن کا نام اگرچہ دب گیا، مگر پشتو کے ابتدائی مذہبی ادب اور فکری تاریخ میں اُن کی یاد ایک قابلِ توجہ تاریخی حوالہ ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *