امریکا نے آج پھر ایران پر حملے شروع کردیے

ایران کے مختلف ساحلی علاقوں پر آج پھر امریکا نے حملے کیے ہیں، امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ آج اضافی حملے کیے گئے ہیں۔

ایران میں دھماکے آبنائے ہرمز کے قریب بندر عباس، سرک، کونارک اور چاہ بہار میں سنے گئے ہیں۔

آج کیے گئے تازہ حملوں کے بارے میں امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد آبنائے ہرمز سے جہازوں کے آزادانہ گزرنے میں ایران کی جانب سے موجود خطرات کم کرنا ہے۔

اس سے پہلے منگل اور بدھ کی درمیانی شب امریکا نے ایران کے جنوبی علاقوں پر حملے کیے تھے جن میں ایران نے مسلح افواج کے 8 ارکان شہید ہونے کی تصدیق کی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کی فضائی اور بحری افواج کے یہ جوان بندر عباس اور بوشہر میں شہید ہوئے ہیں۔

امریکی نائب صدر وینس نے دھمکی دی ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوشش کی تو اسے امریکی فوج کی جانب سے جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

واشنگٹن میں نیوز بریفنگ میں وینس نے کہا کہ امریکی حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ایرانی ہرمز نہیں کھولتے اور جہازوں پر فائرنگ بند نہیں کرتے۔

ان کا کہنا تھا کہ بنیادی معاہدہ یہ تھا کہ اگر ایران جہازوں پر فائرنگ کرے گا تو امریکا بھرپور جوابی کارروائی کرے گا۔

امریکی نائب صدر نے مزید کہا کہ ایران معاہدے کی پاسداری کرے یا پھر وہی کچھ بھگتے جو گزشتہ رات ہوا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف تازہ فضائی کارروائیاں مکمل کر لیں۔

سینٹکام کے مطابق تازہ حملوں میں ایران کے تقریباً 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جن اہداف کو نشانہ بنایا گیا ان میں فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، میزائل و ڈرون ذخائر، بحری فوجی صلاحیتیں اور ساحلی علاقوں میں قائم فوجی لاجسٹک انفرااسٹرکچر شامل ہیں۔

امریکی فوج منگل کی رات بھی امریکی افواج ایران میں 80 سے زائد اہداف پر حملے کر چکی ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *