شیخ رحمکار (کاکا صاحبؒ) اور اخوند سالاکؒ: علم و روحانیت کا سنگم تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

برصغیر کی علمی اور روحانی تاریخ اِس حقیقت کی شاہد ہے کہ اِس خطے کی اصل طاقت صرف حکمرانوں، فتوحات اور سلطنتوں میں نہیں بلکہ اُن اہلِ علم اور اہلِ دِل شخصیات میں رہی جنہوں نے معاشرے کی فکری، اخلاقی اور روحانی تعمیر کو اپنا نصب العین بنایا۔ انہی بزرگوں نے خانقاہوں کو محض عبادت گاہ نہیں رہنے دیا بلکہ انہیں علم، تربیت، اصلاح اور سماجی بیداری کے مراکز میں تبدیل کیا۔ موجودہ خیبر پختونخواہ کی سرزمین بھی ایسی عظیم ہستیوں کی امین ہے، جہاں شیخ رحمکار المعروف کاکا صاحبؒ اور محمد اکبر شاہ المعروف اخوند سالاکؒ نے اپنے علم، کردار اور اخلاص سے ایسی روایت قائم کی جو آج بھی اہلِ تحقیق کیلئے باعثِ دلچسپی ہے۔
تاریخی روایات کے مطابق شیخ رحمکار (کاکا صاحبؒ) کے آباؤ اجداد کا تعلق ترکستان سے تھا، جہاں سے ہجرت کر کے وہ اِس خطے میں آباد ہوئے۔ اسی طرح حضرت اخوند سالاکؒ بھی ترکستان کے ایک خوش حال خاندان سے تعلق رکھتے تھے، لیکن دنیاوی آسائشیں اُنکی منزل نہ تھیں۔ روحانی تکمیل اور دینی خدمت کی جستجو میں اُنہوں نے وطن چھوڑا اور نوشہرہ پہنچ کر حضرت اخوند پنجو باباؒ کے حلقۂ ارادت میں شامل ہوئے۔ مرشد کی تربیت اور اجازت کے بعد اُنہیں شمالی کوہستانِ اباسین کی جانب دعوت، اصلاح اور دینی رہنمائی کیلئے روانہ کیا گیا، جہاں اُس دور میں معاشرتی اصلاح اور امن کا قیام ایک بڑی ذمہ داری سمجھا جاتا تھا۔
روایت ہے کہ اخوند پنجو باباؒ نے روانگی سے قبل اخوند سالاکؒ کو ایک تلوار، ایک سواری اور ایک اہم نصیحت عطا فرمائی کہ سفرِ دعوت کا آغاز کرنے سے پہلے کاکا صاحبؒ کی خدمت میں ضرور حاضر ہوں، اُن سے دعا بھی لیں اور مشورہ بھی کریں۔ یہ ملاقات محض دو بزرگوں کی ملاقات نہ تھی بلکہ دو عظیم علمی اور روحانی روایتوں کا سنگم تھی۔ ابتدا میں اخوند سالاک ؒ اسے صرف اپنے مرشد کے حکم کی تکمیل سمجھتے تھے، تاہم اُن کے ذہن میں یہ خیال بھی تھا کہ اگر وہاں کسی غیر شرعی امر کا مشاہدہ ہوا تو وہ اصلاح کی کوشش ضرور کرینگے۔ مگر جب وہ کاکا صاحبؒ کی مجلس میں پہنچے تو وہاں کے حسنِ اخلاق، تواضع اور علمی وقار نے اُن پر گہرا اثر ڈالا۔
تذکروں میں مذکور ہے کہ کاکا صاحبؒ نے اپنے مہمان کو غیر معمولی احترام کیساتھ اپنی نشست پر بٹھایا۔ اخوند سالاکؒنے ادب سے عرض کیا کہ شیخ خود بھی اسی مسند پر تشریف رکھیں، مگر جواب میں ایسی عاجزی کا اظہار ہوا جو اہلِ تصوف کا امتیاز سمجھی جاتی ہے۔ روایت کے مطابق کاکا صاحبؒ نے فرمایا کہ وہ اہلِ علم کے برابر بیٹھنے کی تاب نہیں رکھتے۔ اس پر اخوند سالاک ؒ بے اختیار بول اُٹھے کہ بڑے عالم تو آپ ہی ہیں۔ اِسکے بعد دونوں بزرگوں کے درمیان علمی اور فقہی گفتگو ہوئی جس میں دلیل کا جواب دلیل سے دیا گیا، مگر کہیں انا یا برتری کا اظہار نہ تھا۔ یہی وہ روایت تھی جس میں اختلاف بھی احترام کیساتھ ہوتا تھا اور مکالمہ دلوں کو قریب لانے کا ذریعہ بنتا تھا۔
اس ملاقات نے دونوں بزرگوں کے درمیان ایک مضبوط روحانی اور علمی تعلق قائم کر دیا۔ اخوند سالاک ؒ نے کاکا صاحبؒ کی علمی بصیرت اور فکری گہرائی کا اعتراف کیا، جبکہ کاکا صاحبؒ نے بھی اپنے مہمان کے اخلاص، عزم اور روحانی مقام کی تحسین فرمائی۔ یہ واقعہ اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ اہلِ علم کی اصل عظمت صرف معلومات کی کثرت میں نہیں بلکہ انکساری، برداشت اور حق کی تلاش میں ہوتی ہے۔ علم جب عاجزی کے ساتھ جمع ہو تو وہ معاشروں کی تعمیر کا ذریعہ بنتا ہے۔
 ایک روایت یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ جب اخوند سالاک نے اپنی دعوتی اور عملی جدوجہد کیلئے وسائل کی درخواست کی تو کاکا صاحب نے اپنے خلیفہ فقیر جمیل بیگ کی طرف رہنمائی فرمائی۔ صوفیانہ تذکروں میں مذکور ہے کہ سنگریزوں کی صورت میں دیا گیا عطیہ بعد میں سونے اور چاندی میں تبدیل ہو گیا۔ ایسے واقعات کو اہلِ تصوف کرامات کے باب میں بیان کرتے ہیں، جبکہ مؤرخین انہیں روایتی ماخذ کے طور پر نقل کرتے ہیں۔ تاہم اس روایت کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ جب مقصد دین، اصلاح اور خدمتِ خلق ہو تو اہلِ اخلاص اپنی صلاحیتیں اور وسائل اسی مقصد کیلئے وقف کر دیتے ہیں۔
ان وسائل اور مقامی تعاون کے ساتھ اخوند سالاک نے شمالی علاقوں کا رُخ کیا۔ اُنہوں نے مقامی قبائل میں دینی شعور پیدا کیا، اجتماعی نظم کو فروغ دیا اور قیادت کا کردار ادا کیا۔ ان سے منسوب تصانیف ’’فتاویٰ عریبہ‘‘، ’’بحرالانساب‘‘ اور ’’غزویہ‘‘ اُنکی علمی وسعت اور فقہی بصیرت کی علامت سمجھی جاتی ہیں، جبکہ شیخ رحمکار کاکا صاحبؒ کی روحانی تربیت اور اصلاحی خدمات نے بھی اس خطے کی مذہبی روایت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
آج جب معاشرہ فکری انتشار، عدم برداشت اور سطحی مباحث کا شکار ہے تو کاکا صاحبؒ اور اخوند سالاکؒ کی علمی و روحانی رفاقت ہمارے لیے ایک اہم سبق رکھتی ہے۔ ان کی زندگی بتاتی ہے کہ علم، روحانیت اور عمل ایک دُوسرے سے جدا نہیں۔ یہی ورثہ کاکا خیل اور اخون خیل دونوں خانوادوں کی شناخت ہے۔ دلیل اگر اخلاص کے ساتھ ہو، اختلاف اگر احترام کے دائرے میں رہے اور قیادت اگر خدمت سے وابستہ ہو تو قومیں اپنا مستقبل بہتر بنا سکتی ہیں۔ یہی پیغام ان دونوں بزرگوں کی روایت کو آج بھی زندہ اور مؤثر بناتا ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *