خلیجی ممالک کے دباؤ اور سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ٹرمپ نے ایران پر مجوزہ نئے حملے مؤخر کر دیے جس سے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں وقتی کمی آئی جبکہ قطری ثالثوں کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے پیش کردہ نئے منصوبے پر ایران نے اصولی آمادگی ظاہر کر کے ممکنہ سمجھوتے کی امید بڑھا دی ہے تاہم جہازوں کی گزرگاہ، کنٹرول اور فیس کے معاملات بدستور تنازع کا شکار ہیں۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق علاقائی ثالث نئی جنگ بندی کے لیے سرگرم ہیں جبکہ قطر نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کو نیا منصوبہ پیش کیا جس پر مثبت ردعمل سامنے آیا۔مجوزہ منصوبے کے تحت آبنائے ہرمز میں جہازوں کے لیے نئے ٹریفک راستے بنائے جائیں گے۔ایران کا مؤقف ہے کہ اسے آبنائے کی گزرگاہوں پر جزوی کنٹرول دیا جائے اور وہ جہازوں سے فیس وصول کرنا چاہتا ہے، جس کی امریکا سخت مخالفت کرتا ہےیہی ایک بڑا تنازع ہے۔خلیجی ممالک امریکا کی غیر واضح پالیسی سے نالاں ہیں اور ایرانی حملوں کے خطرے کے باعث مزید فضائی دفاعی نظام اور سکیورٹی ضمانتیں مانگ رہے ہیں۔خلیجی ممالک میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے‘ سعودی عرب کشیدگی کم کرنے کا حامی ہے جبکہ متحدہ عرب امارات سمیت کچھ ریاستیں ایران کے خلاف زیادہ سخت امریکی کارروائی کی حامی ہیں۔ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل نے حملہ کیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا جبکہ سفارت کاری ناکام ہونے کی صورت میں پاسدارانِ انقلاب پیشگی حملوں پر بھی غور کر سکتا ہے‘ ادھر امریکی عوام میں جنگ غیر مقبول ہے، جس سے ٹرمپ کی سیاسی پوزیشن متاثر ہو سکتی ہے۔
Weekly Nawai Pakistan E Paper 09-09-2026
Posted in: Home, Nawai Pakistan E Paper 2026, Weekly Nawai Pakistan E PaperDownload PDF File
Read More













Post your comments