امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ میں ایران کی ٹارگٹ کلنگ کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہوں۔
ترکیہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر ٹرمپ سے سوال پوچھا گیا کہ وہ نیٹو اجلاس سے واپسی کے لیے قطر کی جانب سے تحفے میں دیا گیا نیا صدارتی طیارہ کیوں استعمال نہیں کر رہے؟ کیا طیارہ تبدیل کرنے کا فیصلہ ایران سے متعلق سیکیورٹی خدشات اور ممکنہ قاتلانہ حملے کے خطرے سے جڑا ہوا ہے؟
صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میں قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے بوئنگ طیارے کے ذریعے امریکا واپس نہیں جاؤں گا، اس کی ایک وجہ سیکیورٹی خدشات ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ میں اس کے بجائے اس پرانے طیارے میں سفر کروں گا جو ماضی میں ایئر فورس ون کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ کل ایک اور فہرست سامنے آئی ہے جس میں میرا نام پہلے نمبر پر ہے، مجھے ٹک ٹاک پر پہلے نمبر پر ہونا زیادہ پسند ہے، لیکن ٹارگٹ کلنگ کی فہرست میں بھی میرا نام سرِفہرست ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی نئی قیادت کو بظاہر خبردار کرتے ہوئے اشارہ دیا کہ انہیں بھی سابق ایرانی رہنماؤں جیسا انجام بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
8 جولائی کو ترکیہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے رہنما تھے، وہ اب نہیں رہے، پھر ان کے پاس ایک اور قیادت آئی، وہ بھی نہیں رہی، اب ان کے پاس ایک نئی قیادت ہے، وہ بھی شاید نہ رہے، کون جانتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ اور آپ جانتے ہیں کیا؟ ممکن ہے میں بھی نہ رہوں، کیونکہ ایران کی ٹارگٹ کلنگ کی فہرست میں میرا نام پہلے نمبر پر ہے۔
اس موقع پر صدر ٹرمپ نے ایران کی جانب سے مبینہ طور پر اپنے قتل کی کسی سازش کے حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ حالیہ فوجی حملوں کے بعد ایران کے ساتھ ایک مکمل جنگ یا وسیع پیمانے پر تنازع دوبارہ شروع ہو گا، میرا خیال ہے کہ یہ معاملہ بہت جلد ختم ہو جائے گا، انہوں نے چند جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں ہم نے انہیں کہیں زیادہ سخت جواب دیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب جو بھی ہو گا، وہ بہت جلد ختم ہو جائے گا اور اس سے تیل سمیت مجموعی صورتِ حال مزید محفوظ ہو جائے گی۔
واضح رہے کہ امریکی صدر نے ایران پر جون میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا ہے، جبکہ خلیجی خطے میں دونوں ممالک کے درمیان تازہ حملوں کے تبادلے کے بعد فوجی کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف گفتگو کرتے ہوئے زبان پھسل گئی، انہوں نے ایران کی بجائے جاپان کو اسلامی جمہوریہ کہہ دیا۔
ترکیہ کے دار الحکومت انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’اسلامی جمہوریہ جاپان‘ نے ہمارے بحری بیڑے یو ایس ایس ابراہم لنکن پر 111 میزائل داغے، تاہم ان سب کو مار گرایا۔
امریکی صدر کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر چند ہی لمحات میں وائرل ہو گئی اور صارفین کی جانب سے نشاندہی کی گئی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور جاپان کو آپس میں ملا دیا ہے۔
صارفین کی جانب سے امریکی صدر کی زبان پھسلنے کی اس ویڈیو پر دلچسپ تبصرے بھی کیے جا رہے ہیں۔















Post your comments