امریکی صدر ٹرمپ کی ناراضی کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر حملے بند نہ کیے، جنوبی لبنان پر متعدد فضائی حملے کر دیے۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے ضلع نبطیہ کے علاقے کفر تبنیت کے نواحی علاقوں کو نشانہ بنایا۔
النبطیہ الفوقا قصبے پر بھی متعدد اسرائیلی فضائی حملے کیے گئے۔
اسرائیلی افواج نے علی الطاہر کی پہاڑیوں اور قصبے کے اطراف میں گولہ باری بھی کی۔
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ حزب اللّٰہ نے بھی اسرائیلی فوجی پوزیشنوں کی جانب کم از کم 10 راکٹ داغے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے سے اسرائیل کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
نیتن یاہو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے کی مخصوص شرائط کا علم نہیں ہے لیکن اس سفارتی پیشرفت سے اسرائیل کے فوجی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
اُنہوں نے کہا کہ معاہدے کے ساتھ یا معاہدے کے بغیر، نہ آج اور نہ کل، ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے ایران کے خلاف اسرائیلی فوج کی حالیہ کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے بڑی تباہی کے خطرے کو دور کیا ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ اپنے امریکی دوستوں کے ساتھ مل کر ہم نے اسرائیل کی تاریخ کے سب سے بڑے مشن کا آغاز کیا، ہم نے ایران کے ایٹمی سائنسدانوں کو ناکام بنا دیا، ان کے رہنماؤں کے سر قلم کیے، ایٹمی فیکٹریوں کو کچل دیا، ان کے میزائلوں اور میزائل بنانے والی فیکٹریوں کو تباہ کیا، ان گنت صنعتوں اور فوجی انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا، ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو تباہ کر دیا۔
نیتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ ہم نے ایران کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا جو کہ سیکڑوں بلین ڈالرز اور کچھ اندازوں کے مطابق 1 ٹریلین ڈالرز کے قریب ہے، ایران کی معیشت کو جتنا نقصان پہنچا ہے اس کی تعمیرِ نو میں انہیں کئی دہائیاں لگیں گی۔
امریکا نے اسرائیل کی ایران معاہدے کی تفصیلات تک رسائی کی درخواست مسترد کردی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے امریکا سے ایران مفاہمتی یادداشت تک رسائی کی باضابطہ درخواست کی تھی۔
امریکا نے قومی سلامتی کے حساس معاملے پر اسرائیل کو معاہدہ دکھانے سے انکار کیا جس پر اسرائیلی حکام نے امریکی فیصلے کو حیران کن قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط برجن اسٹاک میں 19 جون کو ہوں گے۔
اسرائیل کے ایئر چیف جنرل اوہمر ٹشلر کا کہنا ہے کہ 8 جون کو پوری اسرائیلی ایئر فورس ایران پر بڑے حملے کے لیے تیار تھی۔
جنرل اوہمر ٹشلر کا کہنا ہے کہ حملہ محض 1 گھنٹہ قبل روک دیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے سیکڑوں اہداف کو نشانہ بنانا تھا، 1 گھنٹہ قبل اسکواڈرنز بریفنگ دینے کے دوران حملے روکے گئے۔
اسرائیلی اخبار کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ حملے کی صورت میں اسرائیل اکیلا ہو گا۔
واضح رہے کہ 8 جون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم سے رابطہ کر کے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ نہ نئی جنگ چاہتا ہوں، نہ ہی گرین سگنل دے سکتا ہوں، نیتن یاہو پر واضح کر دیا کہ ایران کے خلاف جنگ کی صورت میں اسرائیل خود کو میدان میں اکیلا پائے گا۔
اسرائیلی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے خلاف اسرائیلی فوجی حملوں میں کمی لانے میں کامیاب رہا، نیتن یاہو نے ایران پر حملے سے دیر سے آگاہ کیا، تاہم حملوں میں کمی کرنے میں کامیاب رہا۔














Post your comments