ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز مذاکرات آخری مراحل میں ہیں۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کے مطابق عمان کے ساتھ مذاکرات کا مقصد آبنائے ہرمز میں باہمی طریقہ کار تلاش کرنا ہے۔
نئے بحری راستے سے متعلق عمان سے مفاہمت کا مطلب یہ نہیں کہ آبنائے ہرمز کو کھولا یا بند کیا جا رہا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ جس یادداشت پر دستخط ہوئے وہ شوریٰ کونسل کی اجتماعی دانشمندی کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ یادداشت مستقبل میں ایران کی خارجہ پالیسی کی بنیاد بنے گی۔ یادداشت پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے دشمن کو اس کے وعدوں کا پابند بنانا ہوگا۔
مسعود پزشکیان کا مزید کہنا تھا کہ اس یادداشت سے ایران، خطے اور اتحادیوں کی سلامتی مزید مضبوط ہوگی۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کسی بھی ایڈونچر سے باز رہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی اور ترک وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔
اس موقع پر عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دینے کے لیے تیار ہے، امریکا کی کسی بھی مہم جوئی پر سخت ردعمل دیا جائے گا۔
بعدازاں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی فون پر گفتگو کی ہے۔















Post your comments