آرٹیکل48 (6 اور 7) میں ریفرنڈم، وزیراعظم کا اختیار، 2 تہائی اکثریت درکار نہیں

 ریفرنڈم کی بازگشت، خدشات اور توقعات دستور پاکستان کے آرٹیکل اڑتالیس ( 6) اور آرٹیکل اڑتالیس (7) میں ریفرنڈم کرانے کا وزیراعظم کو اختیار ہے، دو تہائی اکثریت درکار نہیں ریفرنڈم کا تصور پہلی مرتبہ اس وقت نمایاں ہوا جب 7مارچ 1977ء کے انتخابات کے بعد ملک شدید سیاسی بحران کا شکار ہوا۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلا ریفرنڈم 19 دسمبر 1984ء کو جنرل محمد ضیاء الحق نے کرایا جس میں عوام سے بظاہر اسلامائزیشن کے حوالے سے سوال پوچھا گیا، ملک کے مختلف سیاسی اور عوامی حلقوں میں ان دنوں یہ چہ مگوئیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ کسی “اہم قومی معاملے پر”  ریفرنڈم کرانے کا سیاسی فیصلہ زیر غور ہے۔

ماھرین آئین و قانون سے جب جنگ نے قانونی و آرائے لی تو بتایا گیا کہ دستور پاکستان کے آرٹیکل اڑتالیس ( 6) اور آرٹیکل۔اڑتالیس ( 7) میں ریفرنڈم کرانے کی وزیراعظم  کو اختیار ہے۔

آئین کے آرٹیکل اڑتالیس( 6) یہ ہے،” اگر وزیرِاعظم کسی بھی وقت قومی اہمیت کے کسی بھی معاملے میں ریفرنڈم کا ا نعقاد ضروری سمجھے تو وہ معاملے کو مجلس شوریٰ ( پارلیمنٹ ) کے مشترکہ اجلاس کے حوالے کرے گا اور اگر یہ مشترکہ اجلاس  میں منظور ہوتا ھے تو وزیراعظم اس  کو ایسے سوال کی شکل میں جس کا جواب یا تو “ھاں” یا ” نہیں” میں دیا جاسکتا ھے ریفرنڈم  کے حوالہ کرنے کا حکم دے گا۔

آرٹیکل اڑتالیس( 7)، مجلس شورای( پارلیمنٹ ) کے ایکٹ  کے ذریعے ریفرنڈم منعقد کرنے اور ریفرنڈم کے نتیجے  کی تدوین اور اشتمال کا طریقہ کار مقرر کر سکے گا، عام قانون کی طرح پارلیمنٹ  کے ایوان کورم پورا ھوتے ھی حاضر ممبروں کی اکثریت  سے اسے منظور کر سکے گی۔

اگرچہ حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم اس بحث نے نئی نسل اور سیاسی امور میں دلچسپی رکھنے والے شہریوں میں یہ سوال ضرور پیدا کر دیا ہے کہ پاکستان کے آئین میں ریفرنڈم کی گنجائش کب اور کیوں شامل کی گئی۔

ماضی میں کب کب ریفرنڈم ہوئے، ان کے محرکات کیا تھے اور ان کے سیاسی اثرات کس نوعیت کے رہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو ریفرنڈم کا تصور پہلی مرتبہ اس وقت نمایاں ہوا جب 7 مارچ 1977ء کے عام انتخابات کے بعد ملک شدید سیاسی بحران کا شکار ہوا۔

انتخابات کے ابتدائی نتائج سے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان نیشنل الائنس (پی این اے) نے عدم اطمینان کا اظہار کیا اور انتخابات کے صرف تین روز بعد 10 مارچ 1977ء کو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔

اس فیصلے کے نتیجے میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار متعدد حلقوں میں بھاری اکثریت سے  منتخب ہو گئے کیونکہ کئی پولنگ اسٹیشنوں پر ان کے مقابلے میں کوئی امیدوار موجود نہیں تھا۔

اگرچہ اس عمل سے پاکستان پیپلز پارٹی کو صوبائی اسمبلیوں میں کم و بیش  سو فیصد اکثریت حاصل ہوگئی، لیکن اس کے ساتھ ہی قومی اسمبلی کے انتخابات کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھ گئے اور اپوزیشن نے انہی الزامات کو بنیاد بنا کر ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کر دی جو روز بروز شدت اختیار کرتی گئی۔

30 اپریل 1977ء کو مجوزہ لانگ مارچ بھی سیاسی بحران ختم نہ کر سکا۔ اسی دوران برادر ملک سعودی عرب نے اپنے سفارتی ذرائع کے ذریعے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کرانے کی کوشش کی اور سعودی سفیر عزت مآب ریاض الخطیب نے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اپوزیشن مسلسل قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل، نئے عام انتخابات اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے استعفے کا مطالبہ کرتی رہی جبکہ حکومت ابتدا میں صرف صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے پر آمادہ تھی، تاہم اتفاق رائے پیدا نہ ہو سکا اور بالآخر 5 جولائی 1977ء کو جنرل محمد ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کر دیا۔

بعد ازاں آئین میں ساتویں آئینی ترمیم کے ذریعے ریفرنڈم کرانے کی آئینی گنجائش پیدا کی گئی، تاہم اس کا عملی استعمال بعد میں فوجی حکومت نے کیا۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلا ریفرنڈم 19 دسمبر 1984ء کو جنرل محمد ضیاء الحق نے کرایا جس میں عوام سے بظاہر اسلامائزیشن کے حوالے سے سوال پوچھا گیا، لیکن “ہاں” میں ووٹ دینے کا عملی مطلب جنرل ضیاء الحق کو مزید پانچ سال کے لیے صدر منتخب کرنا تھا۔

سرکاری نتائج کے مطابق بھاری اکثریت نے ریفرنڈم میں ان کے حق میں ووٹ دیا اور وہ مزید پانچ برس کے لیے صدر برقرار رھے قومی اخبارات اور  تجزیہ نگاروں نے تفصیلی تبصرے کیے جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے اس کے نتائج اور انتخابی عمل پر شدید اعتراضات اٹھائے۔

اسی طرح جنرل پرویز مشرف نے اپریل 2002ء میں عام انتخابات سے قبل ریفرنڈم کرایا جس کے ذریعے انہوں نے مزید پانچ سال کے لیے صدر رہنے کی  منظوری حاصل کی۔

بعد ازاں اکتوبر 2002ء کے عام انتخابات اور سترہویں آئینی ترمیم کے بعد پارلیمنٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل الیکٹورل کالج نے بھی انہیں صدر منتخب کیا، تاہم اس مقصد کے لیے جنرل ضیاء الحق کے دور میں رائج انتخابی طریقہ کار میں تبدیلی کرتے ہوئے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو مساوی بنیادوں پر ووٹ کا حق دیا گیا کیونکہ سابقہ طریقہ کار کے تحت ان کا انتخاب ممکن نہیں تھا۔

تجزیہ نگاروں  کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی پریس کانفرنس کے دوران ہونے والے سوال و جواب کے سیشن نے بھی اس حساس ماحول کی عکاسی کی، اگرچہ انہوں نے انتہائی محتاط انداز میں اپنے مؤقف کی وضاحت کی۔

سیاسی اور آئینی ماہرین کا متفقہ مؤقف ہے کہ اگر مستقبل میں کسی بھی قومی مسئلے پر ریفرنڈم کرانے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس کی بنیاد مکمل آئینی جواز، وسیع سیاسی اتفاق رائے، آزاد و شفاف انتخابی عمل اور عوام کے غیر متنازع اعتماد پر ہونی چاہیے تاکہ پاکستان کا جمہوری نظام مزید مضبوط ہو اور ماضی کی تلخ روایات دوبارہ نہ دہرائی جائیں۔

ڈائریکٹر جنرل  آئی ایس پی آر۔نے گزشتہ ہفت یے سوال و جواب کی نشست میں انتہائی احتیاط کے ساتھ اپنے سولوں کے جواب دیتے ھوئے انتہائی احتیاط کے ساتھ الفاظ کا چناو کیا۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *