عمان سے معاہدہ آبنائے ہرمز کھولنے کی ضمانت نہیں: ایران

ایران نے واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق جاری مذاکرات کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی علامت نہیں سمجھا جائے۔

ایرانی اخبار الوفاق کے مدیرِ اعلیٰ مختار حداد نے عرب میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ ایران اور عمان اس معاملے پر کچھ عرصے سے بات چیت کر رہے ہیں تاہم یہ عمل آبنائے ہرمز کھولنے کے معاملے سے الگ ہے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان پہلے ایک عارضی معاہدہ اور اس کے بعد حتمی معاہدہ متوقع ہے لیکن اس کا مطلب آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت بحال کرنا نہیں ہوگا۔

دوسری جانب ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی کہا ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک نیا عارضی راستہ طے پایا ہے تاہم آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے امریکا کو سابقہ مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمے داریاں پوری کرنا ہوں گی۔

کاظم غریب آبادی نے واضح کیا ہے کہ تہران اور مسقط کے درمیان مفاہمت کا مطلب یہ نہیں کہ آبنائے ہرمز فوری اور مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران اب بھی جنگی حالت میں ہے، اس لیے ثالثوں کو واضح کر دیا گیا ہے کہ جنگی حالات میں وہ اصول اختیار نہیں کیے جا سکتے جو معمول کے حالات میں اپنانے کی توقع کی جاتی ہے۔

ایران اور عمان کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق آبنائے ہرمز میں قائم کیا جانے والا نیا بحری راستہ عارضی ہوگا۔

روسی میڈیا کے مطابق خلیج فارس میں داخل ہونے والے جہاز ایرانی پانیوں سے گزریں گے جبکہ واپسی عمانی پانیوں کے راستے سے ہوگی۔

روسی رپورٹ کے مطابق نیا راستہ دو رویہ شاہراہ کی طرز پر ہوگا اور اس کی چوڑائی تقریباً 11.25 کلومیٹر ہوگی، مستقل راستے کے قیام کے لیے ایران اور عمان آئندہ 30 سے 60 روز کے دوران مذاکرات کریں گے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں میں موجود تمام بارودی سرنگیں ہٹا دی ہیں یا انہیں ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی نیا جہاز یا کشتی بارودی سرنگ بچھاتی ہے تو اسے فوری طور پر اور منظم انداز میں تباہ کر دیا جائے گا۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کے ترجمان سردار محبی نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف اقتصادی جنگ کا سہارا لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ واشنگٹن میدانِ جنگ میں شکست کھا چکا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے عرب میڈیا کو بتایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس وقت ایران کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہی۔

عرب میڈیا کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال اس وقت تک تبدیل نہیں ہوگی جب تک امریکا ایران کی شرائط قبول کرتے ہوئے مفاہمتی یادداشت پر دوبارہ عمل درآمد شروع نہیں کرتا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کا امن اور استحکام کے لیے عزم ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقل اور ثابت قدم سفارت کاری سے ہم آہنگ ہے۔

عباس عراقچی کے مطابق پاکستانی اور عمانی مہمانوں کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں علاقائی سطح پر مسائل کے حل پر زور دیا گیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ نئے راہداری منصوبے کے لیے مجوزہ فریم ورک، بارودی سرنگوں کی صفائی اور آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام سے متعلق تجاویز علاقائی تعاون اور حل کی واضح مثالیں ہیں۔

ایرانی سینئر صحافی مختار حداد نے کہا ہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ کے ایران پر فوری نئے حملے نہ کرنے سے متعلق بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن موجودہ کشیدگی کو وسط مدتی انتخابات تک محدود رکھنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

مختار حداد نے عرب میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے انتخابات کے بعد وسیع فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے، ایران امریکا کے انتخابات گزرنے کا انتظار نہیں کرے گا اور کسی بھی کارروائی کی صورت میں جارحانہ جواب دے گا۔

ان کے مطابق اگر واشنگٹن انتخابات کے بعد دوبارہ وسیع جنگ کی طرف بڑھنے کا ارادہ رکھتا ہے تو تہران اس دوران خاموش نہیں بیٹھے گا۔

ایرانی صحافی نے امریکا کی جانب سے اعلان کردہ ناکہ بندی اور پابندیوں کو بھی نئی پیش رفت قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہی پرانی پابندیاں ہیں اور امریکی پالیسی سے واقف افراد کے لیے ان میں کچھ نیا نہیں ہے۔

مختار حداد کے مطابق اگر امریکا مفاہمت کی یادداشت کی شرائط پر عمل نہیں کرتا اور اس کی جانب واپس نہیں آتا تو ایران ضروری اقدامات کرے گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ صورتحال کے دوران ایران کی فوجی حکمت عملی اور جنگی نظریے میں تبدیلیاں ایران کے ممکنہ ردِعمل اور جارحانہ جواب کی واضح علامات ہیں۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *