وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت بانی پی ٹی آئی کے علاج کے لیے عدالتی حکم کی پابند ہے۔ علاج سرکاری اسپتال میں نہ ہو تو شفا انٹرنیشنل اسپتال بھیجیں گے۔ بانی پی ٹی آئی کے بیرون ملک جانے کا فیصلہ بھی ہوسکتا ہے۔
سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پہلے بھی ایوان میں کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل کریں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سپریم کورٹ سے رجوع صرف اس لیے کیا تھا کہ وضاحت مل جائے کہ یہ فیصلہ صرف ایک قیدی کے لیے ہے یا ملک کے تمام دیگر قیدیوں کیلئے بھی ہے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ہمیں خود افسوس ہوتا ہے، اعجاز چوہدری، یاسمین راشد ہمارے لیے محترم ہیں، انہیں عدالتوں نے سزائیں دیں، ریلیف بھی عدالت سے ہی ملنا ہے، سیاسی اختلاف ذاتی اختلاف نہیں ہوتے، ہم ہرگز سیاسی انتقامی کارروائی نہیں کر رہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ یاسمین راشد کی صحت کے مسئلے پر پنجاب حکومت، جیل انتظامیہ سے بات کریں گے، یاسمین راشد کو پہلے بھی اسپتال کی سہولت دی گئی۔
اس سے قبل سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانئ پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کے فیصلے پر چیف کمشنر اسلام آباد کی نظرِ ثانی کی درخواست اعتراض لگا کر واپس کر دی۔
ذرائع کے مطابق رجسٹرار آفس کی جانب سے نظرِ ثانی درخواست پر کل اعتراض عائد کیے گئے، درخواست کے ساتھ پیپر بُکس مکمل نہ ہونے کا اعتراض عائد کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رجسٹرار کے اعتراضات دور ہونے کے بعد نظرِ ثانی کی درخواست دوبارہ دائر کی جائے گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی حکومت نے بانئ پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست دائر کی تھی۔
درخواست گزار چیف کمشنر اسلام آباد نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے توسط سے درخواست دائر کی تھی جس میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ سپریم کورٹ نے 18 اگست کو عبوری حکم جاری کیا، عبوری حکم میں بانئ پی ٹی آئی کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی۔
درخواست میں کہا گیا تھا کہ عدالت کا حکم اختیارِ سماعت سے تجاوز ہے، اس پر نظرِ ثانی ہونی چاہیے، بانیٔ پی ٹی آئی کو 5 اگست 2023ء کو ایڈیشنل سیشن جج نے 3 سال قید کی سنائی ہے۔
درخواست گزار چیف کمشنر اسلام آباد نے درخواست میں کہا تھا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی جانب سے اس سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی، اس دوران بانئ پی ٹی آئی نے علاج کے لیے شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی درخواست دی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 12 مارچ کو درخواست مسترد کی، جس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔














Post your comments