ایرانی پاسدارنِ انقلاب نے ایران پر امریکی جارحیت کے جواب میں ایرانی مسلح افواج کی حالیہ کارروائیوں کے دوران شدید نقصان اٹھانے والے امریکی فوجی اثاثوں کی فہرست جاری کر دی۔
آئی آر جی سی کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے حال ہی میں بتایا ہے کہ 8 جولائی سے 22 جولائی تک 15 روز کے دوران کیے گئے ایرانی حملوں میں کن کن امریکی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ریڈار اور فضائی دفاعی نظام کے شعبے میں 7 کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، 3 سیٹلائٹ مواصلاتی نظام، پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کے 6 ریڈار، ابتدائی وارننگ اور اہداف کی نشاندہی کرنے والے 8 ریڈار سسٹمز، فضائی اور میزائل دفاع کے 7 ریڈار، 5 طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والے ریڈار کو نشانہ بنایا گیا۔
ترجمان آئی آر جی سی کے مطابق ان نظاموں کو اس حد تک کمزور کر دیا گیا کہ ایرانی میزائل اور ڈرون بغیر رکے اپنے اہداف تک پہنچنے لگے۔
جنرل حسین محبی کے مطابق لاجسٹک اور معاونت کے شعبے میں لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی مرمت و دیکھ بھال کے 6 مراکز، 3 سپورٹ اور لاجسٹک مراکز، ایندھن کے 12 ذخائر، ہتھیاروں، اسپیئر پارٹس اور بحری و فضائی آلات کے پرزہ جات رکھنے والے 17 گودام، میزائل ذخیرہ کرنے کی 6 تنصیبات کو بھی تباہ کر دیا گیا، جس کا مقصد آپریشنل صلاحیتوں کو کمزور کرنا تھا۔
ترجمان آئی آر جی سی نے بتایا کہ اس کے علاوہ آپریشنل انفرااسٹرکچر کے شعبے میں ایم کیو-9 ڈرونز کے 6 ہینگر، ایف-15 لڑاکا طیاروں کی تیاری کے لیے 1 تنصیب، 8 نئے ڈرونز پر مشتمل 1 ڈرون ہینگر، 2 کمانڈ سینٹرز، 1 طیارہ بردار بحری جہاز کے لیے ایندھن فراہم کرنے کا پلیٹ فارم، پی-8 طیارے کا 1 ہینگر، ایمیزون سے وابستہ مصنوعی ذہانت کا 1 مرکز اور ڈیٹا پروسیسنگ ہب کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ فضائی کارروائیوں کے شعبے میں زمین پر موجود 11 لڑاکا طیارے اور ہیلی کاپٹر کو بھی شدید نقصان پہنچا۔














Post your comments