ایرانی پاسداران نے آبنائے ہرمز میں 3 آئل ٹینکروں کو روک لیا

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی جاری ہے، ایران امریکی کارروائیوں کے جواب میں جوابی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی پاسداران نے اردن میں امریکی اڈے پر بیلسٹک میزائلوں سے حملے کیے جبکہ آبنائے ہرمز میں 3 آئل ٹینکروں کو بھی نشانہ بنا کر روک دیا۔

دوسری جانب امریکی فوج نے اردن پر داغے گئے میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ادھر اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہونے والی اپنی ملاقات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کا مشترکہ ہدف ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ دونوں فریق اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے، جبکہ دیگر متعدد مقاصد بھی دونوں ممالک کے درمیان مشترک ہیں۔

دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 2 ڈالرز سے زائد فی بیرل اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ایک ایرانی فوجی عہدیدار نے سعودی عرب میں اہداف پر داغے گئے میزائلوں سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے (آئی آر آئی بی) کے مطابق ایک فوجی عہدیدار نے کہا ہے کہ تہران سعودی عرب میں اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے دیگر ممالک سے داغے گئے میزائلوں یا راکٹوں سے کسی بھی تعلق کی سختی سے تردید کرتا ہے۔

آئی آر آئی بی کے مطابق عہدیدار نے کہا ہے کہ خطے میں امریکی مفادات کے خلاف ہونے والی کسی بھی کارروائی کو ایران سے منسوب کرنا ایک بڑی غلط فہمی ہے۔

ایرانی عہدیدار کے مطابق ان کارروائیوں کو ایران سے منسوب کرنا خطے کی صورتِ حال سے آگاہی کے فقدان کا نتیجہ ہے۔

یہ بیان سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کی جانب سے مشرقی صوبے میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے نئے ڈرون حملوں کی اطلاع دینے کے بعد سامنے آیا ہے، جن کا الزام سعودی حکام نے عراق میں موجود ایران نواز ملیشیاؤں پر عائد کیا ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *