اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہونے والی اپنی ملاقات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کا مشترکہ ہدف ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کو دیے گئے بیان میں نیتن یاہو نے مذاکرات کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں حکومتوں کے درمیان مکمل شراکت داری اور باہمی تعاون کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں فریق اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے، جبکہ دیگر متعدد مقاصد بھی دونوں ممالک کے درمیان مشترک ہیں۔
نیتن یاہو کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔
ان کا کہنا ہے کہ اس موقع پر اسرائیل کی سلامتی اور مستقبل سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال اور آئندہ اقدامات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کا بھی موقع ملا۔
امریکی صدر نے بھی اسرائیلی وزیرِ اعظم کے ساتھ ملاقات انتہائی اچھی قرار دی۔
انہوں نے کہا کہ میری نیتن یاہو اور امریکی کانگریس کے اراکین کے ساتھ انتہائی اچھی ملاقات ہوئی، جس میں اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ملاقات کی چند تصاویر کے ساتھ لکھا کہ اسرائیل کے وزیرِ اعظم بی بی (بنیامین) نیتن یاہو، میری اور کانگریس کے نمائندوں کے ساتھ ایک انتہائی اچھی ملاقات ہوئی، ظاہر ہے، اس دوران کئی اہم موضوعات پر بات چیت کی گئی۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو وائٹ ہاؤس میں نیتن یاہو کی میزبانی کی۔
ٹرمپ کے دوبارہ منصب سنبھالنے کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ آمنے سامنے ہونے والی آٹھویں ملاقات تھی۔
نیتن یاہو مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 57 منٹ پر وائٹ ہاؤس کے ویسٹ وِنگ پہنچے، جبکہ بند کمرہ ملاقات تقریباً 90 منٹ تک جاری رہی۔
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو طویل عرصے سے امریکا کے ساتھ اپنی قریبی سیاسی اور ذاتی تعلقات کو اپنی سب سے بڑی سیاسی طاقت کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں، تاہم موجودہ حالات میں یہ تاثر کمزور پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے خلاف جنگ میں تعطل، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کو اعتماد میں لیے بغیر معاہدوں کی جانب بڑھتی دلچسپی اور امریکا میں اسرائیل پر بڑھتی تنقید نے نیتن یاہو کے ٹرمپ کارڈ کی افادیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
یہ صورتِ حال نیتن یاہو کے لیے ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انہیں اکتوبر کے آخر میں عام انتخابات، بدعنوانی کے مقدمات اور خطے میں جاری کئی تنازعات کا سامنا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس ٹرمپ اور نیتن یاہو ملاقات کا مقصد ناصرف دو طرفہ تعلقات کا اظہار کرنا ہے بلکہ اسرائیلی عوام کو یہ پیغام دینا بھی ہے کہ نیتن یاہو اب بھی وائٹ ہاؤس تک خصوصی رسائی رکھتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے خلاف کارروائی سے قبل نیتن یاہو نے ٹرمپ کو اس جنگ کی کامیابی اور ایرانی حکومت کے خاتمے کے امکانات پر قائل کیا تھا، تاہم جنگ کے طویل ہونے کے بعد دونوں رہنماؤں کے تعلقات میں تناؤ کی خبریں سامنے آئیں۔
امریکی کانگریس میں بھی اسرائیلی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد، ترکیہ کو ایف 35 طیاروں کی ممکنہ فروخت پر اسرائیلی اعتراضات اور سعودی عرب کے ساتھ امریکی جوہری تعاون کے معاہدے پر اختلافات نے نیتن یاہو کی پوزیشن کو متاثر کیا ہے۔
امریکی قدامت پسند شخصیات، جن میں ٹکر کارلسن، مارجوری ٹیلر گرین اور نائب صدر جے ڈی وینس شامل ہیں، حالیہ مہینوں میں نیتن یاہو کی پالیسیوں پر تنقید کر چکے ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے بھی ترکیہ کو ایف 35 طیاروں کی فروخت پر اسرائیلی اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مجھے کوئی نہیں بتا سکتا کہ امریکا کیا فروخت کرے گا۔
اسرائیل کے سابق سفیر ایلون پنکاس کے مطابق نیتن یاہو اس دورے کے ذریعے اسرائیل میں اپنے حامیوں کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ان کے ٹرمپ سے تعلقات اب بھی مضبوط ہیں، جبکہ وہ یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ ٹرمپ ایک بار پھر ان کے بدعنوانی کے مقدمات میں ان کی حمایت کریں گے۔
کنگز کالج لندن کے تجزیہ کار آہرون بریگمین کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو اب امریکا میں پہلے جیسی سیاسی اہمیت نہیں رکھتے اور بہت سے امریکی حلقے انہیں ایران جنگ میں امریکا کو دھکیلنے کا ذمے دار سمجھتے ہیں۔
دوسری جانب سابق مشیر اور رائے عامہ کے ماہر مچل باراک کے مطابق نیتن یاہو نے امریکا کے ساتھ تعلقات میں قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل کیں، لیکن حالیہ برسوں میں کئی اہم سیاسی پل بھی جلا دیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ ٹرمپ نیتن یاہو کو جنگی دور کا مؤثر رہنما قرار دیتے ہوئے مستقبل میں اسرائیل کے لیے کسی نئے وزیرِاعظم کی حمایت کریں۔














Post your comments