نوجوان میر رضا علی کے مبینہ قتل کیس ایک نیا رخ اختیار کر گیا،میڈیکل رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کو گولی جسم کے پچھلے حصے سے لگی جو سینے کو چیرتی ہوئی سامنے سے باہر نکلی جبکہ جسم کے مختلف حصوں پر زخموں، نیل پڑنے، خون جمنے اور ہڈیوں کے فریکچر کے شواہد بھی ملے ہیں تاہم موت کی حتمی وجہ جاننے کے بارے میں رائے متعلقہ رپورٹس موصول ہونے تک محفوظ رکھی گئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ گولی عقب سے لگی ہے اس لیے خودکشی کا امکان بھی ختم ہو گیا ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا میر رضا کو قتل کیا گیا ؟ قاتل کون ہے؟ اسے کیوں قتل کیا گیا؟ کیسے قتل کیا گیا ؟ کب اور کہاں قتل کیا گیا؟ کیا پولیس ان سوالات کے جواب ڈھونڈ پائے گی یا نہیں بہت جلد صورتحال واضح ہو جائے گی،رضامیر کے وکیل جبران ناصر نے کہا ہے کہ رپورٹ سے ، ثابت ہوگیا کہ گولی کمر سے لگی،پولیس کو ڈر ہے قاتلوں تک نہ پہنچ جائے،رپورٹ کے مطابق گولی کمر کے اوپری بائیں حصے سے داخل ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق گولی داخل ہونے کا زخم کمر کے اوپری بائیں حصے میں چھٹی پسلی کی سطح پر موجود ، زخم کی لمبائی تقریباً 0.8 سینٹی میٹر تھی،کھوپڑی کے پچھلے حصے میں فریکچر، دل پر بھی دو زخم پائے گئے، لاش گلنے کے باعث خدوخال ناقابل شناخت ہوچکے تھے،۔ قبر کشائی کے بعد سامنے آنے والی ابتدائی میڈیکو لیگل رپورٹ نے کیس میں کئی اہم سوالات کے جواب دے دیے ہیں۔قبر کشائی کے دوران مجموعی طور پر متعدد نمونے حاصل کیے گئے جن میں ڈی این اے، کیمیائی تجزیے اور گن شاٹ ریزیڈیو (GSR) سے متعلق نمونے شامل ہیں جبکہ میر رضا علی کے والدین سے حاصل کیے گئے ریفرنس سیمپلز کے ذریعے شناخت کے لیے ڈی این اے میچنگ بھی کی جائے گی۔ کیمیائی تجزیے اور ڈی این اے رپورٹس آئندہ چند روز میں موصول ہونے کا امکان ہے۔ابتدائی میڈیکو لیگل رپورٹ کے مطابق لاش کو سفید کفن میں لپیٹا گیا تھا جبکہ کفن پر گلنے سڑنے کے عمل کے نتیجے میں خارج ہونے والے سیال مادوں اور مٹی کے داغ موجود تھے۔ لاش گلنے سڑنے کے ایڈوانس مرحلے میں تھی جس کے باعث خدوخال ناقابل شناخت ہو چکے تھے، زبان بھی گل چکی تھی جبکہ جسم پر کیڑے موجود تھے۔رپورٹ کے مطابق لاش قبر سے نکال کر قبر کے ساتھ موجود میز پر رکھی گئی، سفید کفن کھولنے پر اس کے اندر پلاسٹک ریپنگ بھی موجود تھی۔ چہرے اور سینے کے چیرا لگے ہوئے حصے پر روئی رکھی گئی تھی، جسے ہٹانے کے بعد سینے پر موجود سلا ہوا چیرا سامنے آیا جو اسٹرنل ناچ سے ناف تک پھیلا ہوا تھا۔میڈیکو لیگل معائنے کے دوران چہرے کی ٹھوڑی کے مقام پر جلد جزوی طور پر غائب پائی گئی، تاہم سر کے بال موجود تھے۔ آنکھیں سکڑی ہوئی اور ناقابل شناخت حالت میں تھیں جبکہ جسم کے تمام عضلات سیاہ پڑ چکے تھے۔رپورٹ کے مطابق کھوپڑی کی جلد ہٹانے پر دائیں جانب پیشانی کے حصے میں سرخی مائل نیل زدہ اور خون جما ہوا حصہ موجود تھا۔ دائیں ناک کی ہڈی پر بھی ایسا ہی نشان پایا گیا جبکہ ناک کی ہڈی کا ٹوٹا ہوا سرا بائیں جانب بھی موجود تھا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میکسیلا، بالخصوص اوپری جبڑے کے درمیان موجود چار دانتوں کے اوپر گہرا نیلگوں اور خون سے بھرا ہوا حصہ موجود تھا جو الویولر رمز تک پھیلا ہوا تھا۔ دانت نکالنے پر متعلقہ حصوں میں جما ہوا خون بھی پایا گیا۔کھوپڑی کے بائیں جانب Temporo-parietal-occipital suture کے پچھلے نصف حصے میں Diastatic fracture بھی موجود تھا، جبکہ کھوپڑی کے مختلف جوڑوں میں جما ہوا خون پایا گیا۔رپورٹ کے مطابق منہ کے اندر سیاہی مائل جما ہوا مادہ موجود تھا جو ناک کے اندرونی حصے اور حلق کے عضلات سمیت باقی ماندہ ٹشوز تک پھیلا ہوا تھا۔گردن کا معائنہ کرنے کے دوران ہائوئیڈ ہڈی کو تلاش کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ہائوئیڈ ہڈی کے جسم اور دونوں جانب موجود Cornu کے درمیان جوڑوں پر نیلگوں رنگت پائی گئی، جبکہ Thyroid cartilage اپنی جگہ برقرار تھا، تاہم گلنے سڑنے کے عمل سے تقریباً متاثر ہو چکا تھا۔گولی کمر کے اوپری بائیں حصے سے داخل ہوئی۔میڈیکو لیگل رپورٹ کے مطابق آتشیں اسلحے کا داخل ہونے کا زخم کمر کے اوپری بائیں حصے میں بائیں چھٹی پسلی کی سطح پر موجود تھا۔ زخم کی لمبائی تقریباً 0.8 سینٹی میٹر تھی اور اس کے کنارے بے قاعدہ تھے۔ یہ زخم Costo-vertebral junction سے تقریباً 3 سینٹی میٹر کے فاصلے پر تھا۔رپورٹ کے مطابق داخل ہونے والے زخم کے نچلے کنارے پر سرمئی مائل سیاہ رنگ کی مرتکز رنگت موجود تھی جبکہ زخم کے عین نیچے چھٹی پسلی ٹوٹی ہوئی پائی گئی اور اس کے نیچے موجود عضلات انتہائی سیاہ پڑے ہوئے تھے۔ٹوٹی ہوئی ہڈی کے ٹکڑے گہرے سرخ رنگ کے تھے اور پسلی میں Comminuted fracture یعنی متعدد ٹکڑوں میں ٹوٹنے کی کیفیت موجود تھی۔ رپورٹ کے مطابق ہڈی کے بعض چھوٹے نوکیلے ٹکڑے غائب تھے جبکہ فریکچر کے کنارے اندر کی جانب رخ کیے ہوئے تھے۔رپورٹ کے مطابق بائیں جانب کی Pleural cavity جمے ہوئے خون سے بھری ہوئی ہے۔ میر رضا کی میڈیکل رپورٹ سامنے آنے کے بعد وکیل جبران ناصر کا کہنا ہے کہ ثابت ہوگیا کہ گولی کمر سے لگی اور سینے سے باہر نکلی ،پسلیاں ٹوٹی ہوئی پائی گئیں ایسے بھی شواہد ملے ہیں ،پیر کے انگوٹھے پر بھی انجری ملی ہے۔میں اس فیملی کا وکیل ہوں،شرم کا مقام ہے کہ پولیس تفتیش کے نام پر ازدواجی معاملات کی خبریں چلائی جا رہی ہیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئی جی سندھ اس حوالے سے وضاحت دیں ۔پولیس کو ڈر ہے کہ کہیں یہ قاتلوں تک نہ پہنچ جائیں۔انہوں نے کہا کہ فیملی کے مالی معاملات ڈسکس کئے جارہے ہیں اور انہیں دباؤ میں لانے کے حربے استعمال کیے جارہے ہیں ۔پولیس تفتیش نہیں کررہی ہے، فیملی کو حراساں کررہی ہے ۔اس خاندان کو گھنٹوں دفتر میں بٹھا کر کہا کہ خودکشی ہے اس کو مان لیں ۔پولیس کے افسران اس معاملے کو خودکشی تسلیم کرنے پر زور دے رہے تھے ۔14 سوالات میڈیکل بورڈ لے کر گیا تھا ان کے جواب لایا ہے۔مختلف سیمپلز لے کر بھیجے گئے تھے، تشدد کے نشانات واضح تھے ۔چہرے کے مختلف حصوں پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں۔ باڈی پر کالا مواد ملا ہے جو عموماً نہیں پایا جاتا ۔حلق تک وہ مواد پایا گیا ہے ۔ثابت ہوگیا کہ گولی کمر سے لگی اور سینے سے باہر نکلی ،پسلیاں ٹوٹی ہوئی پائی گئیں ایسے بھی شواہد ملے ہیں ،پیر کے انگوٹھے پر بھی انجری ملی ہے ،اس کے جسم پر کالے دھبے کیوں تھے ؟۔ ٹکڑوں میں سی سی ٹی وی دکھائی گئی۔ یہ قتل ہے بے گناہ نوجوان کا،پولیس تفتیش نہیں کرنا چاہتی ۔ہمیں بھروسہ نہیں ہے اس لیے ہم پوری تفتیشی ٹیم بدلنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے یہ رپورٹ حکومتی شخصیات کو بھیجی گئی پھر فیملی کو بتایا گیا ۔پولیس میں اچھی شہرت کے حامل افسران کو اس کیس کی تفتیش دی جائے اور ہم اس معاملے کی از سر نو تفتیش کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔میڈیکل بورڈ نے ذمہ داری سے اپنا کام کیا ۔سندھ حکومت اگر ٹیم تبدیل کرے گی تو ہمیں قبول نہیں ہوگا۔میر رضا کے والد کا کہنا تھا کہ ہم 30 تاریخ سے کہہ رہے ہیں یہ قتل ہے۔ ہماری بات پر یقین نہیں کررہے تھے اور زور دے رہے تھے کہ یہ خودکشی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ذمہ دار آدمی ہوکر آئی جی سندھ نے کیسے غلط بات کی؟جو بات ہم 10 روز سے کہہ رہے ہیں بچے پر تشدد ہوا پولیس نہیں مان رہی تھی۔ پولیس ہم سے خودکشی والی باتیں کرتی رہی۔ پہلے روز سے کہہ رہے ہیں مرڈر کرنے والے کو سامنے لاؤ ۔ان کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے سے متعلق غلط باتیں پھیلائی گئیں۔
Home / Breaking News, Home, Regional / میر رضا کیس نیا رخ اختیار کرگیا، خودکشی کا امکان ختم، گولی پیچھے سے لگی،
میر رضا کیس نیا رخ اختیار کرگیا، خودکشی کا امکان ختم، گولی پیچھے سے لگی،



Weekly Nawai Pakistan E Paper
Article
-
-
صرف ایک ’’واؤ‘‘ کا فاصلہ از قلم: نجیم شاہ
Posted in: Articles, Home -
Jammu & Kashmir and Abrogation of 370 , 35A
Posted in: Articles, Home











Post your comments