اقتدار حاصل کرنے کا فارمولا از قلم : نجیم شاہ

پاکستان میں سیاست اب ایک ایسا ہنر بن چکی ہے جس میں کامیابی کیلئے ڈگری سے زیادہ تقریر، منصوبے سے زیادہ نعرۂ اور کارکردگی سے زیادہ اعتماد درکار ہوتا ہے۔ انتخابی موسم شروع ہوتے ہی ہر جماعت کے پاس قوم کی تقدیر بدلنے کا مکمل نسخہ موجود ہوتا ہے۔ مہنگائی چند تقریروں میں ختم ہونے لگتی ہے، بیروزگاری چند جلسوں میں دم توڑ دیتی ہے اور ترقی اتنی تیزی سے دوڑتی ہے کہ نقشوں پر پُل بن جاتے ہیں، اگرچہ زمین پر ابھی اینٹ بھی نہیں رکھی ہوتی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں وعدے نہیں، آتش بازی چلتی ہے؛ خوب شور ہوتا ہے، پھر دھواں رہ جاتا ہے۔
الیکشن قریب آتے ہی سیاستدانوں کی محبت بھی دیدنی ہوتی ہے۔ برسوں سے بند دروازے اچانک عوام کیلئے کھُل جاتے ہیں، ہاتھ ملانے کی رفتار اِتنی تیز ہو جاتی ہے کہ جراثیم بھی حیران رہ جائیں، اور مسکراہٹ ایسی مستقل ہو جاتی ہے جیسے چہرے پر سرکاری مہر لگا دی گئی ہو۔ ہر اُمیدوار اپنے حلقے کے ہر بچے کو ’’بیٹا‘‘ اور ہر بزرگ کو ’’چچا‘‘ کہہ کر پکارتا ہے۔ نتیجہ آتے ہی رشتے داری کی یہ پورا شجرۂ نسب دوبارہ فائلوں میں منتقل ہو جاتا ہے، اور عوام اگلے الیکشن تک صرف پوسٹروں میں پہچانے جاتے ہیں۔
موروثی سیاست بھی کمال کی ایجاد ہے۔ دُنیا میں باپ اپنے بچوں کو گھر، دُکان یا زمین دیتا ہے، ہمارے ہاں بعض خاندان تقریر، پارٹی اور کرسی بھی وراثت میں منتقل کر دیتے ہیں۔ نئی نسل جب پہلی بار اسٹیج پر آتی ہے تو یُوں محسوس ہوتا ہے جیسے پرانی تقریر نے نیا سوٹ پہن لیا ہو۔ عوام بھی بڑے خوش اخلاق ہیں؛ وہ ہر نئے چہرے کو پرانے وعدوں سمیت قبول کر لیتے ہیں۔ شاید اِسی لیے ہمارے ہاں سیاست میں تبدیلی سے زیادہ نسلیں تبدیل ہوتی ہیں۔
انتخابی منشور اُردو ادب کی ایک الگ صنف ہے۔ اگر اِسے افسانوں کے مقابلے میں بھیج دیا جائے تو انعام جیت لے، کیونکہ اِس میں تخیل بھی ہے، اُمید بھی ہے اور انجام کا ذکر بھی نہیں۔ ہر صفحے پر خوشحالی مسکراتی ہے، ہر سطر میں انصاف دوڑتا ہے اور ہر پیراگراف میں ترقی قلابازیاں کھاتی ہے۔ صرف ایک بات کبھی واضح نہیں ہوتی کہ یہ سب کب ہوگا۔ شاید اِس لیے کہ خوابوں کی کوئی آخری تاریخ نہیں ہوتی، اور وعدوں کی میعاد ہمیشہ اگلے الیکشن تک رہتی ہے۔
اقتدار اور اپوزیشن کا تعلق بھی موسموں کی طرح بدلتا رہتا ہے۔ کل تک جو ایک دُوسرے پر الفاظ کے تیر برسا رہے تھے، آج قومی مفاد کے نام پر ایک ہی میز پر چائے کی چسکیاں لے رہے ہوتے ہیں۔ حکومت میں رہ کر ہر منصوبہ شاہکار دکھائی دیتا ہے، اپوزیشن میں آ کر وہی منصوبہ قومی المیہ بن جاتا ہے۔ ہمارے سیاستدانوں کی لچک دیکھ کر ربڑ بھی سوچتا ہوگا کہ اصل ایجاد تو شاید وہ خود نہیں، یہ حضرات ہیں۔
عوام کا کردار بھی کسی کلاسیکی مزاحیہ ڈرامے سے کم نہیں۔ ہر پانچ برس بعد وہ مایوسی کی پرانی قمیص اُتار کر اُمید کا نیا کرتا پہن لیتے ہیں۔ جلسوں میں تالیاں بجتی ہیں، نعروں کی گونج بلند ہوتی ہے اور یقین دلایا جاتا ہے کہ اِس بار سب کچھ بدل جائیگا۔ پھر زندگی اپنی پرانی رفتار سے چلنے لگتی ہے اور عوام اگلے انتخاب تک صبر کی نئی قسط جمع کراتے رہتے ہیں۔ اگر اُمید کا بازار لگتا تو شاید پاکستان اسکی برآمد میں دُنیا کا پہلا ملک ہوتا۔
دِل چاہتا ہے کہ ایک نئی وزارت قائم کی جائے، وزارتِ وعدہ جات و اعلانات۔ اسکا کام صرف یہ ہو کہ ہر جلسے میں کیے گئے وعدوں کا اندراج کرے، ان کیلئے شناختی کارڈ جاری کرے اور پانچ سال بعد قوم کو اطلاع دے کہ کونسا وعدہ آخری بار انتخابی اسٹیج پر دیکھا گیا تھا، کونسا افتتاحی تختی تک پہنچ کر دم توڑ گیا، اور کون سا وعدہ اگلے منشور میں نئے ربن اور نئے رنگ کیساتھ دوبارہ زندہ ہو گیا۔ اس وزارت کی سالانہ رپورٹ شاید ملک کی سب سے زیادہ پڑھی جانیوالی کتاب بن جائے۔
اصل فارمولا نہ جلسوں میں چھپا ہے، نہ نعروں میں اور نہ رنگ برنگے جھنڈوں میں۔ اقتدار کا حقیقی راز عوام کے ہاتھ میں ہے، مگر وہ اسے اکثر صرف ووٹ والے دِن استعمال کرتے ہیں۔ جس روز ووٹر تقریروں کے بجائے حساب، نعروں کے بجائے نتائج اور دعوؤں کے بجائے کارکردگی مانگنے لگے گا، اُسی دن سیاست کی لغت بھی بدل جائیگی۔ تب شاید طنز نگار واقعی بیروزگار ہو جائیں، مگر قوم پہلی بار مسکرانے کی وجہ طنز نہیں بلکہ حقیقت میں تلاش کریگی۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *