پہلی مرتبہ نہیں اس سے پہلے بھی بہت بات ہو چکی ہے۔ صوبے کے اضافے کی بحث پاکستان میں ، چاہتے ہیں کہ صوبوں میں اضافہ ہو جائے بلکہ ہر ڈویژن کو . صوبہ بنا دیا جائے ۔ اسان سا جواب یہ ہے کہ جو لوگ چار صوبے نہ سنبھال سکیں وہ 32 صوبے کہاں سے سنبھالیں گے کتنی مشینری کہاں سے ائے گی ، اتنے باکردار لوگ کہاں سے ملیں گے ۔ ظاہر ہے کہیں سے نہیں ملیں گے سوائے یہ کہ کرپشن میں اضافہ ہوگا ہر نام نہاد صوبہ قرضوں میں جکڑا ہوا ہوگا اور اپنے اپنے عوام کو ٹول ٹیکس پراپرٹی ٹیکس روڈ ٹیکس کے نام پر کچل رہا ہوگا ۔
پھر 32 صوبوں کے اندر الگ الگ الیکشن ہوں گے یا شاید ایک دن ہوں ، یہ تو کشمیر میں اب ایک ہی دن الیکشن نہیں کرا سکتے اور انے والے دنوں میں ان کو ہر جگہ اپنے مطلوبہ نتائج کے لیے مختلف تاریخوں میں الیکشن کرانے ہوں گے تو یہ چھوٹے چھوٹے صوبوں میں کس طرح یہ کتنا الیکشن کرا پائیں گے ۔ پھر ہر نام نہاد صوبے کی امدنی مختلف ہوگی اور کوئی صبح زیادہ مراعات دے گا شہریوں کو کوئی کم دے گا تو پھر ایک صوبے سے دوسرے صوبے مائیگریشن شروع ہو جائے گا اور ہر صوبہ اپنی سرحدیں بند کرنا شروع کر دے گا ۔
اب یہ اوپر کی ہوئی باتیں مذاق بھی لگ رہی ہوں گی لیکن اگر ایک وسیع پیمانے پر ہمارے پچھلے رویوں پہ غور کیا جائے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان میں سے کوئی بہترحالت نہیں ہے ہمین اپنے اوپر اعتماد نہیں ہے ہم دوسرے لوگوں کو اپنے سے کم تر سمجھنے کے مرض میں مبتلا ہیں اور پھر بین الاقوامی طور پر انتظامی صوبے صرف بہت ہی ترقی یافتہ ملکوں جیسے امریکہ برطانیہ میں تو ہو سکتے ہیں لیکن ہماری تیسری دنیا کی ممالک میں انتظامی بنیادوں پہ صوبے کبھی کامیاب نہیں ہوتے ہاں وہاں لسانی بنیادوں پر ہی بنانے پڑتے ہیں
سب سے بڑی مثال ہندوستان کی دی جاتی ہے ہندوستان میں صوبوں کی تعداد میں اضافہ کرنا کوئی بہت بڑا مسئلہ نہیں ہے وہاں کا ائین صوبوں کو خود مختار ہونے کے لیے راغب کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ پنجاب کے تین حصے بڑی اسانی سے ہو گئے . یو پی میں جو کہ ہندوستان کا ایک بہت ہی اہم صوبہ ہے وہاں بھی تین چھوٹے صوبے اہستہ اہستہ بنا دیے گئے جس میں جھاڑکھنڈ ہریانہ اور ہماچل پردیش شامل ہے لیکن یاد رکھیں ان سب صوبوں کی زبان ایک ہی ہے
اندھرا پردیش کو حال ہی میں فخریہ طور پر دو بڑے صوبوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے ایک کا نام اندرا پردیش رہا دوسرے کا نام تیلنگانہ ہو گیا لیکن دونوں صوبوں میں ایک ہی زبان یعنی تیلگو بولی جاتی ہے ۔
پاکستان میں چار صوبے چار بڑی زبان میں بولنے والی قومیتوں کے نام سے منسوب ہے اور وہ تمام قومیتیں کسی صورت بھی یہ برداشت نہیں کر سکتی یہ کوئی ایسا صوبہ بن جائے جو ادھا پنجاب میں ہو اور ادھا سندھ میں ہو سوچ لیجئے کیا یہ ممکن ہے ۔ جب اپ انتظامی بنیاد پہ صوبے بنا رہے ہیں تو ایک صوبہ رحیم یار خان سے شروع ہو اور گھوٹکی پہ ا کے ختم ہو جائے ۔ انتظامی بنیاد پر صوبے بن رہے ہیں نا تو اگر سندھ کا کچھ حصہ اور پنجاب کا کچھ حصہ شامل ہو جائے تو کیا برائی ہے ۔ لیکن یہ ہرگز نہیں کیا جا سکتا سندھ کہے گا ہمیں توڑ دیا گیا اور پنجاب کہے گا ہمیں توڑ دیا گیا تو جب اپ انتظامی بنیاد پر بھی صوبے بنائیں گے تو اپ کے اندر کی لسانیت تعصب موجود رہے گا تو اس ایکسرسائز سے کیا فائدہ ہے ۔
یقین کیجئے اگر ان کو انتظامی بنیاد پہ صوبے بنانے کا موقع ملا تو یہ کراچی کو اس طرح کاٹیں گے کہ کراچی کا ایک حصہ بلوچستان کے ساحل سے ملا دیں گے کراچی کا دوسرا حصہ ٹھٹہ تک لے ائیں گے اور کراچی کے تیسرے حصے کو دادو سے ملا دیں گے اور اگر کراچی کے لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ صوبے بننے سے کراچی کوئی فائدہ ہوا تو ہرگز نہیں ہونے دیں گے ۔ حیدر آباد کے بھی تین صوبے ایسے کریں گے کہ ایک صوبے کو بھٹ شاہ سے ملا دیں گے دوسرے کو دادو سے اور تیسرے کو بدین سے ۔
لہذا یہ سب پریکٹس فضول ہیں اور اس سے کسی قسم کا فائدہ ہونے والا نہیں ہے کیونکہ اوپر سے لے کے نیچے تک کرپشن میں ہم ہمیشہ سے ڈوبے رہے ہیں جو ہمارا فخر ہے اب یہ اور بات ہے کہ اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے اسی طرح اختیارات کو نچلے درجے پر منتقل کیا جائے تاکہ گورننس کے اندر جو فقدان ا رہا ہے اور بظاہر ترقیاتی پروجیکٹ سے بڑے شہروں تک محدود ہو گئے ہیں ان کو نچلی آبادیوں تک لایا جائے جو کہ ایک اچھی سوچ ہے اس سوچ کے لیے سب سے بڑا اور سب سے اسان کام یہی ہے کہ
لوکل گورمنٹ سسٹم ہمارے ہاں اسی طرح لازمی رھے جس طرح قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی لیکن ہماری سیاسی جماعتوں نے اپنی داداگری اور اپنی بدمعاشی دکھانے کے چکر میں نچلے درجے کی اہم ترین اسمبلی کو جوتے کی نوک پر رکھا ہوا ہے ۔ مجھے یاد ہے 1970 کے الیکشن کے فورا بعد اس بات کا شور اٹھا تھا کہ اب بلدیاتی الیکشن ہوں گے امیدواروں نے اپنے کاغذات بھی تیار رکھے ہوئے تھے لیکن بھٹو صاحب نے ہی جمہوریت پر شب خون مارا انہوں نے بلدیاتی الیکشن کا کبھی نام ہی نہیں لیا _ لے دے کے ضیاء الحق نے ا کے اس سسٹم کو تھیلے سے باہر نکالا بے شک غیر جمہوری تھا نان پارٹی تھا لیکن اس نے کچھ نہ کچھ رنگ نکالا اس کے بعد پرویز مشرف تھے جنہوں نے یہ کام کیا پھر سپریم کورٹ تھی جس نے سندھ سے بلدیاتی الیکشن کروائے جو اس وقت انتہائی ٹوٹے پھوٹے اور کٹے پھٹے سسٹم کے تحت کام کر رہے ہیں جس کے چھوٹے چھوٹے اختیارات کو بھی صوبائی حکومت میں اپنے کنٹرول میں لیا ہوا ہے اور یہی وہ حماقت ہے جس کو اسٹیبلشمنٹ درست کرنا چاہتی ہے ۔
پوری دنیا میں بلدیاتی اداروں کا سسٹم مضبوط بنیادوں پہ چلتا ہے چاہے وہ سعودی عرب کی بادشاہت ہو برما کی فوجی امریت ہو ۔ تھائی لینڈ میں فوجی اور سول حکمرانوں کی مکس پلیٹ ہو ۔ یا پھر مصر میں فوجی تانہ شاہی ہر ملک میں بلدیاتی سسٹم ازاد ہوتا ہے اور اس کا ملک کی مرکزی سطح پہ ہونے والی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوتا
شہروں کو اور ٹاؤن اس کو اختیارات ہوتے ہیں وہ اپنی لوگوں کو پہچانتے ہیں ان کے لوگوں میں بد کردار جرائم پیشہ لوگ کم سے کم ہوتے ہیں کیونکہ مینجمنٹ مضبوط ہوتی ہے پولیس میئر کے یا شہر کے ناظم کی کنٹرول میں ہوتی ہے ۔
لیکن یاد رکھیں پاکستان کے سیاست دانوں کو ہرگز یہ چیز قبول نہیں ہوگی اور وہ کسی حالت میں بھی بلدیاتی سسٹم کو مضبوط نہیں ہونے دیں گے اس کے بدلے میں صوبوں کے نعرے لگا لگا کے اشتیال پھیلائیں گے اور اس کے بعد بھی صوبے بننے نہیں ہیں پاکستان کسی بھی صورت میں ان چار صوبوں سے زیادہ صوبوں کا انتظام نہیں سنبھال سکتا کیونکہ ان چار صوبوں میں بھی ان کے لیے بے تحاشہ مسائل موجود ہیں
اس کے علاوہ سب سے بڑا مسئلہ سینٹ میں نشستوں کا ہوگا ۔ اگر پیپلز پارٹی مرسوں مرسوں سندھ نہ دیشوں کے چکر میں سندھ کو قائم رکھے گی اور پنجاب نے تین ٹکڑے کروا لیے تو سینٹ کے اندر پنجاب سے متعلقہ صوبوں کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا اور وہاں مجموعی طور پر پنجاب کی سیٹوں میں 40 کا اضافہ ہو جائے گا اور سندھ اپنی 20 سیٹیں لیے ہوئے روتا رھے گا بس حل نہیں کر پائے گا ، اسٹیبلشمنٹ نے اگر واقعی کچھ کرنا چاہا تو بلدیاتی سسٹم کو مضبوط بنانے کے لیے ائین میں ترامیم کی جا سکتی ہیں کہ کوئی بھی ائندہ حکومت ائے گی تو جب قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات ہوں گے تو اس کے ساتھ ساتھ بدیاتی اداروں کے انتخابات بھی لازمی ہوں گے ۔ اور بلدیاتی اداروں کے اختیارات کا تعین بھی ائین میں کسی ترمیم کے ذریعے ہونا چاہیے تاکہ کوئی سیاسی آمر اس کو چھیڑ نہ سکے














Post your comments