خطے میں امن اور استحکام لوٹنے پر خلیج ممالک سے سیکیورٹی بات چیت ہوگی، نائب وزیر خارجہ ایران

ایران کے نائب وزیرخارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران اس سوچ کا خیر مقدم کرتا ہے اور اسے یقین ہے کہ اگر خطے میں امن اور استحکام بحال کیا جاتا ہے تو علاقائی ممالک کے درمیان سیکیورٹی ملاقاتیں بھی بحال ہوجائیں گی۔

ایک انٹرویو میں ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ 40 روزہ جنگ کے بعد اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل کے عرصے میں خلیجی فارس کی ریاستوں میں یہ اتفاق رائے ابھرا تھا کہ علاقائی سیکیورٹی کے امور خود علاقائی ممالک کو زیرِ بحث لانے چاہئیں۔

کاظم غریب آبادی نے کہا کہ جیسے ہی خطے میں امن اور استحکام لوٹے گا، خلیج فارس ممالک سے سیکیورٹی بات چیت کے لیے زمین ہموار کی جائے گی۔

کاظم غریب آبادی نے دعویٰ کیا کہ حالیہ پیشرفت کے بعد خلیج فارس کی ریاستیں اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ علاقائی سیکیورٹی علاقے کی ریاستوں ہی کو یقینی بنانی چاہیے۔

ایرانی نائب وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ ایران پر مسلط کردہ جنگ میں صرف چند حملے براہ راست خلیجی ریاستوں سے کیے گئے تھے جبکہ زیادہ تر حملے امریکا نے کیے تھے۔

کاظم غریب آبادی نے یہ بھی کہا کہ یہ ممالک اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ تنازع بڑھنے سے خود ان کی سیکیورٹی اور اقتصادی ترقی کو خطرات لاحق ہوں گے۔امریکہ نے ایران کی پاسداران انقلاب کی معاونت کرنے پر دبئی کی کرپٹو ایکسچینج پر پابندیاں عائد کر دیں۔ امریکی حکام کا الزام ہے کہ اس پلیٹ فارم نے ایران کی اشرافیہ پر مشتمل اسلامی انقلابی گارڈ کور اور ایرانی ریاست سے منسلک دیگر گروہوں کے لیے لاکھوں ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی کی لین دین کی کارروائی کی۔ یہ پابندیوں کا اعلان 31 جولائی کو شائع ہونے والی ایک خبر ایجنسی کی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد سامنے آیا، جس میں دبئی میں قائم کرپٹو ایکسچینج ’’شیلبٹ‘‘ کو ایران کی جانب سے پابندیوں سے بچنے کے لیے کیے جانے والے 4 ارب ڈالر کے منصوبے کے مرکز کے طور پر شناخت کیا گیا تھا۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *