پرانی نسل بمقابلہ نئی نسل تحریر ظفر محمد خان

نئی نسل کے بارے میں پرانی نسل کے لوگ یہی کہتے جا رہے ہیں کہ نئی نسل ایک کمزور نکمی دماغی طور پر سوشل میڈیا کی محتاج اور کسی واٹس ایپ یونیورسٹی کی تیار کردہ ہے اصل تعلیم جو دنیاوی اور دینی طور پر اس سے پہلے بزرگوں کے ذریعے دی جاتی تھی اس سے محروم ہے ۔
اس کا جواب یہ ہے کہ نئی نسل کو جو تعلیم سوشل میڈیا سے مل رہی ہے وہ سوشل میڈیا نہیں ہے بلکہ وہ تعلیمی نظام ہے جس نے پچھلے نظام کی جگہ لی ہے ۔ اب کورس کی کتابیں یا ٹیکسٹ بک تو کسی نہ کسی شکل میں فون پر موجود ہی ہیں لیکن اس کے علاوہ دنیا کی کون سا علم اور کون سی نالج ہے جو موبائل فون پر سوشل میڈیا کے مختلف ذرائع کے ذریعے دستیاب نہ ہو ۔
بزرگ جو تعلیم بڑی مشکل سے رات کے کسی پہر کہانی سناتے ہوئے دیتے ہوں گے یا ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہوئے دیتے ہوں گے وہ ساری تعلیم انہیں سوشل میڈیا کے اوپر مختلف گروپوں کی طرف سے ریل بناتے ہوئے ٹک ٹاک بناتے ہوئے یا یوٹیوب کے اوپر چھوٹے موٹے ڈرامے بناتے ہوئے سمجھ میں ا جاتی ہے یہ بھی نہ ہو تو ڈاکٹر اسرار احمد سے لے کے اپنے انجینیئر صاحب اور طارق جمیل سے لے کے غامدی صاحب جیسے بزرگ بھی اپنا اپنا چینل لیے بیٹھے ہیں ۔
دوسرا الزام یہ دھر دیا جاتا ہے کہ نئی نسل میں استقامت نہیں ہے ہر کام جلد سے جلد کرنا چاہتی ہے اس لیے کمزور ہو گئی ہے پانچ کلومیٹر پیدل نہیں چل سکتی وغیرہ وغیرہ
اب اس کا جواب یہ ہے کہ جب اج سے 25 سال پہلے یا بلکہ 50 سال پہلے ٹرینیں بسیں اور ہوائی جہاز چل رہے تھے تو وہ بھی پیدل چلنے والوں کے مقابلے میں ایک تیز رفتاری  ہی تھی اب نیا  زمانہ یہ اگیا ہے کہ صرف طبعی طور پر ہی تیز نہیں چل سکتے بلکہ اپ کا علم کا میدان بھی ایک گلوبل ولیج کے ذریعے ایک فون کے اسکرین  میں یا ایک ٹیلی ویژن پر اگیا ہے ۔ اب اپ کو معمولی سے کام کے لیے دو دو کلومیٹر چل کر سودا لانے کی ضرورت نہیں ہے یا گھر سے بیگ لے کر دور ہول سیل مارکیٹ جا کے گھر کا سودا لانا اور پھر پیسوں کا حساب دینے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اب زمانے میں ان لائن شاپنگ اگئی ہے یا گھر گھر کے اس پاس بڑے بڑے سٹور کھل گئے ہیں تو نئی نسل کو کیا ضرورت پڑی ہوئی ہے کہ وہ پانچ کلومیٹر پیدل چلے وہ پانچ کلومیٹر پیدل اگر نہیں چلتی ہے تو ہمارے بزرگوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ وقت جو ضائع ہوتا تھا پیدل چلنے میں وہ اب گھر میں ان کے اطراف میں ہی گزارتی ہے تو اس طرح بزرگ نسل کو اپنی نئی نسل کے ساتھ کچھ وقت زیادہ گزارنے کا موقع مل رہا ہے ۔
اب جہاں تک پرانی نسل نئی نسل پہ الزام لگاتی ہے بلکہ وہ سوچتی ہے کہ یہ کمزور ہو گئے ہیں ان میں طاقت نہیں ہے
 وہ یہ بھول گئے ہیں کہ اب پرانے زمانے کے ڈنڈ پیلنے والا وقت تو ہے نہیں جگہ جگہ بہترین قسم کے جم موجود ہیں جہاں پر جدید مشینوں کے ذریعے وہ ایکسرسائز بہت تیزی اور خوبصورتی کے ساتھ کر لی جاتی ہے جس کے لیے پہلے ہم گھر سے نکل کے دو کلومیٹر میدان میں جاتے تھے وہاں پر کسی نے ڈمبل اور دوسری چیزیں رکھی ہوتی تھیں تو تیل بدن پہ لگا کے بدن کو گندا کر کے ورزش کرتے تھے پھر اس تیل میں مٹی اور پسینہ  مل کے بدبودار ہو کر  گھر اتے تھے پھر شاور بھی نہیں تھے ایک بالٹی پانی سے پتہ نہیں کس طرح نہاتے تھے پورا دن گندے پھرتے تھے اب تو یہ سب چیزیں ختم ہو چکی ہیں نئی نسل ادھے گھنٹے کا ایکسرسائز سیشن کرتی ہے اور توانا  تر و تازہ گھر ا جاتی ہے اور چاہتی ہے تو ایک بہترین قسم کی خوشبودار باڈی واش  سے شاور  بھی لے لیتی ہے
پرانی نسل کھانستے کھانستے نئی نسل پہ یہ الزام بھی لگاتی ہے کہ ان کے اندر وہ قوت برداشت نہیں ہے جو پچھلی نسل میں تھی ،  یہ لوگ جذباتی ہو جاتے ہیں ذرا سی بات پہ لڑنے مرنے لگتے ہیں اور اب ان ان کی ازدواجی زندگی بھی اچھی نہیں گزرتی ہیں
 ۔ بقول  بزرگوں کے کہ یہ شادی بیاہ رشتوں میں بھی سوشل میڈیا کے ذریعے پسند کر لیتے ہیں اور پھر وہ چیزیں ناکامی پہ ختم ہوتی ہیں ۔ پھر بقول  بزرگان  یہ نئی نسل  لوٹ کے اپنے ماں باپ کے گھر ا جاتے ہیں ۔
اب بزرگوں کو اس نئی نسل کی طرف سے جواب یہ ہے کہ جذباتی ہونا ویسے تو کوئی برائی نہیں ہے لیکن نئی نسل کہاں جذباتی ہوتی ہے اپنے بزرگوں کو جن کو اللہ تعالی نے اب میڈیکل سائنس میں ترقی کے بعد اچھی عمریں عطا کی ہیں اللہ تعالی سب بزرگوں کو طویل عمر عطا فرمائے تو ہمارے نوجوان اب پہلے کے مقابلے میں کم سے کم 15 سال زیادہ بزرگوں کے سائے میں گزارتے ہیں اور وہ بزرگوں کی شفقت سے زیادہ خود بزرگوں سے محبت کرتے ہیں ۔ یاد کریں اج سے 30 سے 40 سال پہلے ماں باپ کو  کو گھروں سے نکال دینے کی خبریں اتی رہتی تھیں کیا ایک طویل عرصے سے اپ نے ایسی کوئی خبر سنی ہے ۔ اس سے پہلے سوتیلے ماں باپ کی طرف سے بچوں پہ ظلم کی داستانیں اتی تھیں تو اب وہ جو سوتیلے ماں باپ جو بزرگ بن چکے ہیں کیا اج وہ ایسی خبریں سنتے ہیں کہ اج کی نوجوان نسل نے اپنے بزرگ والدین کو یا ان میں سے کسی کو گھر سے نکال دیا ہو
یا ہمارے بزرگ اپنے زمانے میں جب جوان تھے تو جہیز کی کیسی کیسی ڈیمانڈنگ کرتے تھے ۔ کتنی ہی معصوم لڑکیاں جہیز کی وجہ سے گھر بیٹھی رہ جاتی تھیں ۔
اج کی نئی نسل جس کو بزرگ سمجھتے ہیں کہ جذباتی ہیں کیا وہ صرف پیسے کی خاطر رشتوں کو ٹھکراتے ہیں بلکہ نئی نسل میں تو اب وہ شعور بھی نظر ارہا ہے کہ وہ خوبصورتی اور ظاہری حسن کی بنیاد پر بھی رشتے نہیں کر رہے بلکہ دل اور دماغ کے حسن کے اوپر اپنی ازدواجی زندگی کو متعین کر رہے ہیں ۔
ویسے تو بزرگوں کی جانب سے نئی نسل پر جو الزامات لگائے جاتے ہیں وہ طویل ہیں اور ان کے جوابات دیے جا سکتے ہیں لیکن یہ وہ موٹے موٹے نکات تھے جن پر ہم نے ذرا سی بات کی ہے حقیقت یہ ہے کہ ہر نیا دور پچھلے دور سے زیادہ اچھا ہوتا ہے پچھلے دور سے زیادہ تیز ہوتا ہے اور پچھلے دور سے زیادہ شعور تعلیم اور محبت کی فضا رکھتا ہے
ہمارے بزرگوں کو بھی نئی نسل پر تنقید کرتے ہوئے اپنے اپ کو پچھلے 40 سال پہلے دیکھنا چاہیے کہ وہ خود اپنے بزرگوں کے ساتھ کیا کر رہے تھے اور ان کے بزرگ ان کو اپنے حوالے سے کتنا نیک سمجھ رہے تھے میرا خیال ہے کہ اس معاملے میں اب بہتری ائی ہے اج کی نئی نسل بزرگوں کی زمانے کی نئی نسل سے کہیں زیادہ بہتر ایماندار اور محبت کرنے والی ہے
اور یاد رکھیے یہ سب شعور تعلیم کے ساتھ ا رہا ہے اور تعلیم ان کے ہاتھ کی مٹھی میں ایک موبائل فون کی شکل میں موجود ہے جہاں وہ دنیا بھر کا خزانہ مختلف تدابیر کی شکل میں موجود ہے ۔ اور بڑے بزرگ یاد رکھیں ابھی گھر پہ وہ اکیلے نہیں ہیں ان کا پوتا اپنے موبائل فون میں ان کو کبھی کبھی دیکھتا رہتا ہے کہ وہ ارام سے کھا پی رہے تو ہیں نا ۔ ایسا تو نہیں کہیں بہت دیر سے سو رہے ہوں ۔ اگر ایسا ہوگا تو یا تو وہ خود بھاگا ائے گا یا وہ موبائل فون کے ذریعے فوری طور پر برابر میں کسی کو اطلاع دے گا کہ وہ جا کے دادا جان کو دیکھیں ان کی طبیعت تو ٹھیک ہے ۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *