میڈیکل سائنس نے دعویٰ کیا کہ گدھے کا گوشت بالکل بھی نقصان دہ نہیں ہے

میڈیکل سائنس نے دعویٰ کیا کہ گدھے کا گوشت بالکل بھی نقصان دہ نہیں ہے، کیونکہ گدھے کے گوشت میں پروٹین، کاربوہائیڈریٹس اور چکنائی موجود ہوتی ہے،، اور یہ کمزور صحت کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہے۔۔۔ دنیا کے کچھ ممالک مثلاً چین، شمالی کوریا، ناروے ویسٹ انڈیز، افریقہ اور پاکستان کے بعض حصوں میں یہ بہت ہی شوق سے کھایا جاتا ہے جیسے کہ لاہور اور جھنگ۔اس میں پروٹین موجود ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ افریقی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر اسے درست طریقے سے پکایا جائے تو بندہ سو سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔
کافی عرصہ ہوا ہمارے ہاں پاکستان میں گدھے بہت کم نظر آنے لگے، تو عقدہ یہ کُھلا کہ ہوٹلوں میں گدھے کا گوشت بھی کھلایا جانے لگا ہے۔ پھر اس پہ بڑی لے دے ہوئی، چھاپے بھی پڑے۔ مگر پھر بھی یہ سب چلتا رہا۔
پھر اسی دوران کسی “دانشور “کا بیان آیا کہ گدھے کا گوشت چونکہ چین میں بہت کھاتے ہیں اور اسکی کھال کافی ڈیمانڈ رکھتی ہے اس سے چیزیں بھی بنتی ہیں تو کیوں نہ پاکستان میں حکومتی سطح پہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ زیادہ تعداد میں چین اور اسطرح کے دوسرے مُلکوں کو گدھے پال کر ایکسپورٹ کریں تاکہ اس سے ریونیو آئے۔ پھر  پتہ نہیں اس پراجیکٹ کا کیا ہوا؟
اسکے علاوہ ایک نجی چینل پہ پروگرام بھی آیا تھا کہ ایک جگہ گدھے ذبح ہوتے تھے تو جب وہاں چھاپہ مارا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ گوشت حرام ان کےلئے ہے جو بکرے، گائے کا گوشت کھانا افورڈ کر سکتے ہیں ۔ اور جو نہیں افورڈ کر سکتے تو انکے لئے حلال ہے۔ وہاں ذبح کرنے والوں نے بتایا  کہ گدھے کے گوشت کی بہت ڈیمانڈ ہے۔ اور پہلے سے لوگوں نے اسکو حاصل کرنے کےلئے ایڈوانس بُکنگ کرا رکھی ہے۔ انکو یہ شک اسطرح ہوا کہ انہیں گوشت کی مارکیٹ میں دوکان کے ایک طرف گوشت تین سو روپے کلو اور دوسری جانب پانچ سو روپے کلو نظر آیا تو اسطرح انہیں تجسس ہوا کہ گوشت تو ایک جیسا لگ رہا ہے مگر اتنا قیمت کا فرق کیوں ہے؟ تو پھر اسطرح تحقیق کرتے کرتے اصل بات کھلی۔
تو خیر بات میڈیکل سائنس کی گدھے کے گوشت کے حوالے سے شروع ہوئی تھی۔ تو بات یوں ہے کہ میڈیکل سائنس کی تحقیق تو آج سامنے آئی ہے تو ہمارے ہاں اور دوسرے کئی ملکوں میں تو یہ گوشت بڑے عرصہ سے کھایا اور کھلایا جا رہا ہے۔ تو پھر اب میڈیکل سائنس کی اس نئی تحقیق کو کہاں اور کیسے فِٹ کیا جائے؟؟؟؟؟
Mohammad Naeem Talat

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *