عراقی سیکیورٹی فورسز نے سعودی عرب میں پائپ لائن پر حملے میں استعمال مقام کا پتہ لگا لیا

عراقی سیکیورٹی فورسز نے سعودی عرب میں ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پر حملے میں استعمال مقام کا پتہ لگا لیا اور ڈرون لانچنگ کے آلات قبضے میں لے لیے۔

سعودی وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ عراق میں جس مقام سے پائپ لائن پر حملہ ہوا وہاں ایران نواز مسلح گروپ سرگرم ہیں، حملے کے بعد پائپ لائن عارضی طور پر بند کی گئی ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث پائپ لائن حالیہ مہینوں میں خلیجی تیل کی ترسیل کا ایک اہم ذریعہ رہی ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ترکیہ اور عراق کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فون پر رابطے ہوئے۔

تینوں وزرائے خارجہ کے درمیان علاقائی صورتِ حال، دوطرفہ تعلقات اور خطے میں تنازعات کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران سعودی عرب کے ساتھ حالتِ جنگ میں نہیں ہے، حوثیوں کے اپنے مسائل ہیں۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ  خطے کے تمام ممالک کو ایک میز پر بیٹھ کر خطے میں امن اور سلامتی قائم کرنی چاہیے۔

کل مسقط میں آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان کے درمیان متوقع معاہدے کے بارے میں ایرانی صدر نے کہا کہ اجلاس میں وہ تمام ممالک شریک ہوں گے جن کی سرزمین سے ایران پر حملہ کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا ہے کہ ایران اپنے بین الاقوامی حقوق چاہتا ہے، جنگ نہیں اب بھی امن کو ترجیح دیتے ہیں۔

مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ امریکا، اسرائیل اور یورپی ممالک چاہتے ہیں علاقے میں کوئی ملک آزاد نہ رہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *