چینی ریگولیٹرز نے مالیاتی اداروں کو امریکی ٹریژری بانڈز میں اپنی سرمایہ کاری محدود کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کی وجہ حد سے زیادہ انحصار اور مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ کے خدشات بتائے گئے ہیں۔امریکی میڈیا بلوم بر گ کے مطابق اس معاملے سے واقف افراد نے بتایا ہے کہ یہ ہدایت زبانی طور پر بڑے چینی بینکوں کو دی گئی، مقصد جغرافیائی سیاست یا عدم اعتماد نہیں، بلکہ مارکیٹ رسک کو متنوع بنانا ہے۔ حکام نے بینکوں پر زور دیا ہے کہ وہ امریکی سرکاری بانڈز کی خریداری کم کریں اور جن اداروں کی سرمایہ کاری زیادہ ہے، انہیں اپنی پوزیشن گھٹانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ان افراد نے نجی مشاورت پر بات کرنے کے باعث اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔ ہدایت زبانی طور پر بڑے چینی بینکوں کو دی گئی، مقصد جغرافیائی سیاست یا عدم اعتماد نہیں، بلکہ مارکیٹ رسک کو متنوع بنانا ہے۔علاوہ ازیں یہ ہدایت چین کی سرکاری سطح پر امریکی ٹریژریز میں کی گئی سرمایہ کاری پر لاگو نہیں ہوتی۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران یہ رہنمائی زبانی طور پر ملک کے چند بڑے بینکوں کو دی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکام اس بات سے فکرمند ہیں کہ امریکی سرکاری قرضوں میں زیادہ سرمایہ کاری بینکوں کو قیمتوں میں اچانک اتار چڑھاؤ کے خطرے سے دوچار کر سکتی ہے۔یہ خدشات دنیا کے دیگر ممالک اور فنڈ مینیجرز کے خیالات سے بھی ملتے جلتے ہیں، جہاں امریکی قرضوں کی محفوظ پناہ گاہ حیثیت اور ڈالر کی کشش پر بحث جاری ہے۔ تاہم، ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد جغرافیائی سیاست یا امریکی کریڈٹ پر عدم اعتماد نہیں، بلکہ صرف مارکیٹ رسک کو متنوع بنانا ہے۔ حکام نے نہ تو سرمایہ کاری کی کوئی مخصوص حد مقرر کی اور نہ ہی کسی وقت کی پابندی لگائی۔اگرچہ بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان تناؤ اب بھی موجود ہے، لیکن گزشتہ سال تجارتی جنگ بندی کے بعد تعلقات میں کچھ استحکام آیا ہے۔ اس خبر کے بعد امریکی ٹریژری بانڈز کی قیمت میں کمی ہوئی اور ایشیائی مارکیٹ میں مختلف مدتوں کے بانڈز پر منافع میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ ڈالر بھی دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں کچھ کمزور ہوا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے گزشتہ ہفتے چینی صدر شی جن پنگ سے فون پر بات کی تھی، اپریل تک بیجنگ میں صدارتی سربراہی اجلاس منعقد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق چینی بینکوں کو ٹریژریز کے بارے میں دی گئی ہدایت اس فون کال سے پہلے جاری کی گئی تھی۔ستمبر تک چینی بینکوں کے پاس تقریباً 298 ارب ڈالر کے ڈالر میں مالیت رکھنے والے بانڈز تھے، جیسا کہ اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن آف فارن ایکسچینج کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے۔
Home / Breaking News, Home, World / امریکی ٹریژری بانڈز میں سرمایہ کاری محدود کریں، چینی ریگولیٹرز کی مالیاتی اداروں کو ہدایت
امریکی ٹریژری بانڈز میں سرمایہ کاری محدود کریں، چینی ریگولیٹرز کی مالیاتی اداروں کو ہدایت



Weekly Nawai Pakistan E Paper
Article
برہنہ ضمیر، ملبوس معاشرہ از قلم: نجیم شاہ
Posted in: Articles, Homeہم ایک عجیب معاشرے میں زندہ ہیں۔ یہاں لباس پر بحث ختم ہونے کا نام نہیں لیتی، مگر کردار پر خاموشی چھائی رہتی ہے۔ جسم کی بے پردگی پر جذبات بھڑک اُٹھتے ہیں، لیکن جھوٹ، خیانت، بددیانتی اور ظلم ہماری اجتماعی حس کو زیادہ دیر بے چین نہیں کرتے۔ گویا ہماری ساری غیرت جسم کے […]
Read More-
-
مدینہ میں عید میلاد النبی تحریر ظفر محمد خان
Posted in: Articles, Home -
برادرانِ اخون پنجو ؒ تحریر و تحقیق: نجیم شاہ
Posted in: Articles, Home











Post your comments