قم میں علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ ادا، لاکھوں سوگواروں کی شرکت

ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے 4 افراد کی نمازِ جنازہ ایران کے مقدس شہر قم میں ادا کر دی گئی، جہاں لاکھوں سوگوار تعزیت اور آخری رسومات میں شرکت کے لیے جمع ہوئے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق نمازِ جنازہ شہر قم کے مضافات میں واقع مسجد جمکران میں ادا کی گئی۔

سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیوز میں مسجد اور اس کے اطراف میں سوگواروں کا بڑا اجتماع دیکھا جا سکتا ہے، جہاں شہید رہبرِ اعلیٰ کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق علی خامنہ ای کے جسدِ خاکی کو نمازِ جنازہ کے بعد مزید مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے عراق لے جایا جائے گا، اس کے بعد میت کو دوبارہ ایران منتقل کیا جائے گا، جہاں جمعرات کے روز مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

علی خامنہ ای کی تدفین سے قبل ایران کے مختلف شہروں میں کئی روز سے تعزیتی تقریبات اور جنازے کی رسومات جاری ہیں، جن میں عوام کے ساتھ ساتھ اعلیٰ سرکاری شخصیات اور غیر ملکی وفود بھی شرکت کر رہے ہیں۔

ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای شہید کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقریبات میں لاکھوں افراد نے شرکت کی، جبکہ متعدد ممالک کے صدور، وزرائے اعظم، وزرائے خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود رہے، تاہم ان تقریبات میں موجودہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی نے عوام اور مبصرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای گزشتہ فروری کے آخر میں اسرائیلی فضائی حملے کے بعد سے منظرِ عام پر نہیں آئے، اس حملے میں ان کے والد علی خامنہ ای، اہلیہ زہرا حداد عادل اور خاندان کے دیگر افراد شہید ہوئے تھے، جبکہ مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ رہبرِ اعلیٰ کی عوامی تقریبات میں عدم شرکت کی وجہ ان کی جان کو لاحق مسلسل سیکیورٹی خطرات ہیں، تاہم علی خامنہ ای کے دیگر صاحبزادوں، اعلیٰ حکومتی شخصیات اور غیر ملکی وفود کی جنازے میں موجودگی کے باعث عوامی حلقوں میں یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور سیکیورٹی کی صورتِ حال سرکاری مؤقف سے زیادہ سنگین تو نہیں؟

عوامی خدشات

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق تہران میں جنازے میں شریک 26 سالہ معصومہ نے کہا کہ رہبرِ اعلیٰ کی عدم موجودگی سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان کی عوامی موجودگی ملک کے استحکام اور سیکیورٹی کی علامت سمجھی جاتی تھی، موجودہ صورتِ حال سے یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ ایران کی سابقہ سیکیورٹی فضا برقرار نہیں رہی۔

دوسری جانب 35 سالہ فائزہ نے کہا کہ موجودہ حالات میں مجتبیٰ خامنہ ای کا عوامی سطح پر سامنے نہ آنا ان کی حفاظت کے لیے ضروری ہو سکتا ہے، جس طرح سابق رہبر کو نشانہ بنایا گیا، اسی طرح نئے رہبر کو بھی خطرات لاحق ہیں، اس لیے احتیاط ناگزیر ہے۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع کا بیان

دریں اثناء اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے جنازے کے جلوس کے موقع پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ علی خامنہ ای کو اسرائیل نے اس لیے نشانہ بنایا کیونکہ وہ اسرائیل کے خلاف منصوبوں کی قیادت کر رہے تھے۔

انہوں نے مزید خبردار کیا کہ اگر مستقبل میں کوئی ایرانی رہنما اسرائیل کے خلاف ایسے اقدامات کرے گا تو اسے بھی نشانہ بنایا جائے گا۔

صحت سے متعلق قیاس آرائیاں

مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلسل غیر حاضری کے باعث ان کی صحت سے متعلق مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں، بعض غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی حملے میں انہیں چہرے اور ٹانگوں پر شدید زخم آئے، تاہم ایرانی حکام نے ان اطلاعات کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

کچھ شہریوں کا کہنا ہے کہ رہبرِ اعلیٰ کی عدم موجودگی نے حکومتی شفافیت پر سوالات کھڑے کیے ہیں، جبکہ بعض کے مطابق موجودہ سیکیورٹی صورتِ حال میں ان کا منظرِ عام پر نہ آنا ایک احتیاطی اقدام ہو سکتا ہے۔

سیاسی تجزیہ

سیاسی مبصرین کے مطابق ایران میں رہبرِ اعلیٰ کی روزانہ عوامی موجودگی روایت نہیں رہی، تاہم قومی بحرانوں اور اہم مذہبی یا سرکاری مواقع پر ان کی عوامی موجودگی ریاستی استحکام کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ موجودہ غیر معمولی حالات میں مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی قابلِ فہم ہے، تاہم طویل عرصے تک عوامی منظر سے دور رہنا اندرونِ ملک قیاس آرائیوں اور خدشات میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *