سولہویں اور سترہویں صدی کے سرحدی خطے کی تاریخ میں حضرت اخوند درویزہ ننگرہاریؒ ایک اہم مذہبی، علمی اور فکری شخصیت کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ تقریباً ایک ہزار ہجری کے آس پاس آپکا ظہور ہوا۔ آپکے والد گدائی بن سعدی کچھ عرصہ قندوز میں قیام پذیر رہے اور بعد ازاں موجودہ خیبر پختونخواہ اور اس سے ملحق تاریخی سرحدی پہاڑی علاقوں کا رُخ کرکے یہاں آباد ہوگئے۔ اخوند درویزہ بابا نے ایسے عہد میں زندگی گزاری جب مذہبی اثرورسوخ، مقامی قیادت اور مغلیہ اقتدار کے مفادات باہم جڑے ہوئے تھے۔ اِسی ماحول میں بایزید انصاری کی روشنائی تحریک اُبھری اور اخوند درویزہؒ اسکے نمایاں مخالف بن کر سامنے آئے۔
اخوند درویزہ کا تعلق سید علی المعروف پیر بابا کے حلقۂ ارادت سے تھا۔ پیر بابا کے حلقے کی مذہبی سرگرمیوں کا ایک اہم پہلو معاشرے میں شریعت کی پابندی اور روایتی اقدار کا فروغ تھا، جنہیں وہ دین کی درست تعبیر سمجھتے تھے۔ اخوند درویزہ بابا نے اسی فکری روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے بایزید انصاری اور اُن کے پیروکاروں کے نظریات کیخلاف طویل تبلیغی اور علمی جدوجہد کی۔ بایزید کے حامی اُنہیں پیر روشن کہتے تھے، جبکہ مخالفین، خصوصاً درویزہ کے حلقے میں، انہیں پیر تاریک کے نام سے پکارتے تھے۔ یہ دونوں القاب اُس زمانے کی فکری اور مذہبی کشمکش کی علامت بن گئے، جس میں دینی تشریح، اصلاحی اجتہاد اور فکری اختلاف کے پہلو نمایاں تھے۔
اخوند درویزہ ؒکی جدوجہد محض مناظروں تک محدود نہیں رہی بلکہ اُنہوں نے قلم کو فکری ہتھیار بنایا۔ آپ نے پشتو میں مخزن الاسلام تصنیف کی اور اس کیلئے مسجع و بلیغ اسلوب اختیار کیا، جو اُس زمانے میں مقبول تھا۔ اس کتاب میں اُنہوں نے روشنائی فکر کیخلاف اپنا مذہبی مؤقف پیش کیا۔ یُوں ایک دلچسپ صورت پیدا ہوئی کہ جس زبان اور اَدبی اسلوب نے بازید انصاری کے پیغام کو عام کرنے میں مدد دی، اسی وسیلے کو اُنکے مخالف نے اُنکے خلاف فکری محاذ قائم کرنے کیلئے استعمال کیا۔ اِس اعتبار سے درویزہؒ کی جدوجہد مذہبی اختلاف کیساتھ ایک اہم ادبی معرکہ بھی تھی۔
مخزن الاسلام کی مقبولیت نے اخوند درویزہؒ کے اثرات کو وسیع کردیا۔ یہ کتاب طویل عرصے تک پڑھی اور پڑھائی جاتی رہی اور عام معاشرے میں بھی اس کی رسائی تھی۔ خوشحال خان خٹک نے بھی سوات نامہ میں اس کتاب کی شہرت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اخوند درویزہ کا پیغام محض علما اور مذہبی حلقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ عام لوگوں کے فکری ماحول میں بھی داخل ہوگیا۔ اس کتاب نے روشنائی فکر کے مقابل ایک متبادل مذہبی بیانیہ مضبوط کیا، جس کے اثرات آنیوالی نسلوں تک محسوس کیے گئے۔
روشنائی تحریک کے مقابل اخوند درویزہ کی اصل قوت آپکی مسلسل تبلیغ تھی۔ بایزید انصاری نے اپنے مریدوں اور خلفا کے ذریعے اپنی دعوت مختلف علاقوں تک پہنچائی، جبکہ اخوند درویزہ نے اسی معاشرے میں اس دعوت کے مقابل ایک مختلف مذہبی تعبیر پیش کی۔ یوں اختلاف صرف عقائد کا معاملہ نہیں رہا بلکہ مذہبی اثرورسوخ، عوامی ذہن اور اجتماعی قیادت کی کشمکش بھی بن گیا۔ درویزہ اور ساتھیوں کی تبلیغ نے روشنائی پیغام کے پھیلاؤ میں رکاوٹ پیدا کی اور بایزید انصاری کے پیروکاروں کو اپنے ہی معاشرے میں ایک مضبوط فکری حریف کا سامنا کرنا پڑا۔
اخوند درویزہ بابا کی علمی سرگرمیاں مخزن الاسلام تک محدود نہیں تھیں۔ آپ نے فارسی میں ’’تذکرۃ الابرار والاشرار‘‘ بھی لکھی، جس میں اپنے عہد کے حالات اور روشنائیوں کیخلاف اپنے خیالات بیان کیے۔ یہ کتاب 1021ھ میں مکمل ہوئی۔ آپ کی ایک اور تصنیف ’’ارشاد الطالبین‘‘ بھی بیان کی جاتی ہے۔ ان تحریروں کی اہمیت یہ ہے کہ ان کے ذریعے اُس دور کے مذہبی اختلافات، فکری کشمکش اور مختلف حلقوں کے باہمی مؤقف کا سراغ ملتا ہے۔ اِس اعتبار سے اخوند درویزہ کی تصانیف مذہبی لٹریچر کے ساتھ اس عہد کی فکری تاریخ کا بھی اہم حصہ ہیں۔
حضرت اخوند درویزہ کی وفات کے بعد بھی اُن کا علمی اثر باقی رہا۔ اُنہوں نے ایک علمی خانوادہ چھوڑا جس کی بعد کی نسلوں میں علما، مصنفین اور پشتو شعرا پیدا ہوئے۔ اس طرح درویزہ ؒکی شخصیت ایک فرد سے بڑھ کر ایک علمی روایت میں تبدیل ہوگئی۔ آپ کی تحریروں نے مذہبی مباحث کیساتھ ادبی روایت کو بھی متاثر کیا اور روشنائی تحریک کے مقابل تشکیل پانیوالے فکری بیانیے کو طویل عرصے تک زندہ رکھا۔ آپ کی علمی روایت اِس امر کی بھی گواہی دیتی ہے کہ اُس دور میں مذہبی اختلافات صرف عارضی مناظروں تک محدود نہیں تھے بلکہ ان کے اثرات آنیوالی نسلوں تک منتقل ہوتے رہے۔
اخوند درویزہ بابا کو صرف روشنائی تحریک کا مخالف عالم قرار دینا اُن کے تاریخی کردار کو محدود کردیگا۔ آپ ایک مبلغ، مصنف اور صاحبِ اثر فکری قائد بھی تھے، جنہوں نے بایزید انصاری کی تحریک کے مقابل منظم مذہبی بیانیہ تشکیل دیا۔ پیر روشن اور پیر تاریک کے القاب اس عہد کی فکری کشمکش کو سمجھنے کی ایک علامتی کلید ہیں۔ اس معرکے میں تلوار سے زیادہ کتاب، منبر، تبلیغ اور عوامی ذہن اہم میدان بنے۔ یہی وجہ ہے کہ روشنائی تحریک اور اخوند درویزہؒ کا تعلق محض مخالفت کی ایک داستان نہیں بلکہ ایک ایسے دور کی فکری تاریخ ہے جس میں خیالات نے نسلوں کے مذہبی اور سماجی رجحانات پر گہرا اثر ڈالا۔














Post your comments